مظفرنگر فسادات، سی بی آئی انکوائری سے انکار

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
بھارت کی سپریم کورٹ نے مظفرنگر کے مذہبی فسادات کی انکوائری ’اس مرحلے پر‘ ایک خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) یا مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے کرانے کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔
تاہم چیف جسٹس پی ستھاسیوم کی سربراہی میں عدالت کے ایک بنچ نے کہا کہ اتر پردیش کی ریاستی حکومت مقامی لوگوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنے میں اور ابتدائی مراحل میں تشدد کو روکنے میں ناکام رہی۔
عدالت نے کہا کہ جو بھی سرکاری افسر قصوروار پائے جائیں ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔
عدالت نے ریاستی حکومت کو بروقت خبردار کرنے میں ناکام رہنے پر وفاقی اور ریاستی انٹیلی جنس ایجنسیوں پر بھی نکتہ چینی کی اور حکم دیا کہ جن لوگوں کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے ہیں انھیں ان کی سیاسی وابستگیوں سے قطع نظر گرفتار کیا جائے۔
گذشتہ برس اگست اور ستمبر میں مغربی اتر پردیش کے کئی علاقوں میں مذہبی فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں تقریباً ساٹھ لوگ ہلاک ہوگئے تھے جبکہ پچاس ہزار سے زیادہ افراد کو جان بچا کر پناہ گزین کیمپوں کا رخ کرنا پڑا تھا۔
تب سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ فسادات کی انکوائری عدالت عظمیٰ کی نگرانی میں ایک خصوصی تفتیشی ٹیم سے کرائی جائے تاکہ فسادات کے پیچھے کارفرما مبینہ سازش کا پردہ فاش کیا جاسکے۔ عرضی گزاروں کا الزام تھا کہ ریاستی حکومت کے تفتیش کار جانبداری سے کام کر رہے ہیں۔
مظفرنگر کے فسادات جاٹوں اور مسلمانوں کے درمیان ہوئے تھے اور ریاست میں سماجوادی پارٹی کی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ مرنے والے زیادہ تر مسلمان تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تب سے یہ الزام بھی گردش کر رہا تھا کہ فسادات ایک منصوبہ بند انداز میں کرائے گئے تھے اور ان کا مقصد پارلیمانی انتخابات سے قبل مذہبی تفریق پیدا کرنا تھا۔
ریاستی پولیس نے جذبات بھڑکانے کے الزام میں کئی ہندو اور مسلمان رہنماؤں کے خلاف مقدمات قائم کیے ہیں۔ حزب اختلاف بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے دو مقامی رہناؤں کو لوک سبھا کے انتخابات میں امیدوار بھی بنایا ہے اور تجزیہ نگاروں اور حریف سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ سیاسی اعتبار سے انتہائی اہم ریاست اتر پردیش میں مذہبی تفریق سے انتخابی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔







