،تصویر کا کیپشنبھارتی ریاست اتر پردیش میں حکام کا کہنا ہے کہ ضلع مظفر نگر میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں ہلکتوں کی تعداد تیس سے زیادہ ہوگئی ہے اور درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمظفرنگر کے كوال گاؤں میں دو مختلف فرقوں کے تین نوجوانوں کی موت کے بعد کشیدگی شروع ہوئی تھی جس نے فرقہ وارانہ فسادات کی شکل اختیار کر لی۔
،تصویر کا کیپشنانتظامیہ نے حالات سے نمٹنے کے لیے فوج کو تعینات کر دیا ہے جو متاثرہ علاقوں میں گشت کر رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق تشدد کی لہر شہری علاقے سے پھیلتی ہوئی دیہی علاقوں تک پہنچ گئی ہے جہاں زبردست کشیدگي کا ماحول ہے۔
،تصویر کا کیپشنحکام کا کہنا ہے کہ فسادات کے سلسلے میں اب تک نوے افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
،تصویر کا کیپشنانتظامیہ نے بلوائیوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنمتاثرہ علاقوں میں غیر معینہ مدت کا کرفیو جاری ہے۔
،تصویر کا کیپشناترپردیش میں سنہ انیس سے بانوے میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد پورے ملک میں پرتشدد مذہبی فسادات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا جس میں دو ہزار سے زائد افرد ہلاک ہوئے تھے۔