راجستھان: ہندو مسلم فسادات میں تین افراد ہلاک

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبھارت میں فرقہ وارارنہ فسادات عام ہیں اور ان میں بہت جانی مالی نقصان ہوتے رہتے ہیں

بھارت کی مغربی ریاست راجستھان کے پرتاپ گڑھ ضلعے میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں تین افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

پر تشدد واقعات کے بعد علاقے میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

<link type="page"><caption> بھارت: ہندو مسلم فسادات میں 19 ہلاک، کرفیو نافذ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2013/09/130908_muzaffarnagar_riots_12killed_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> بھارت: انسدادِ فسادات قانون پر اعتراضات</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2013/12/131205_india_anti_communal_violence_bill_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

زخمیوں کو راجستھان کے شہر ادے پور روانہ کیا گيا ہے جہاں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔

فرقہ وارانہ تصادم کا یہ واقعہ قبائلی اکثریتی علاقے پرتاپ گڑھ کے كوٹڑي قصبے میں پیش آیا۔ پرتاپ گڑھ کے سپرنٹینڈنٹ پولیس یو این چھانوال نے مقامی صحافی نارائن باریٹھ کو بتایا کہ ’تشدد کے ان واقعات میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

پرتاپ گڑھ ریاستی دارالحکومت جے پور سے تقریباً 432 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہ بھارت کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش سے ملحق ہے۔

پولیس حکام کے مطابق یہ تنازع گذشتہ رات كوٹڑي میں اس وقت شروع ہوا جب ایک مذہبی گروپ کے رضا کار ایک پروگرام میں شرکت کے بعد واپس لوٹ رہے تھے۔

پولیس حکام نے بتایا کہ موٹر سائیکلوں پر سوار ایک مذہبی برادری کے لوگوں نے ان پر فائرنگ کی اور فرار ہو گئے۔ بھاگتے ہوئے لوگوں کو پاس کے گاؤں میں روکنے کی کوشش کی گئی تو وہاں بھی انھوں نے فائرنگ کی۔ اس کے بعد لوگ مشتعل ہو گئے اور دس گھروں کو آگ لگا دی۔

اس حملے میں كوٹڑي کے راجہ نامی ایک شخص کی موت واقع ہو گئی۔ اس کے بعد حالات مزید خراب ہوگئے اور آدھی رات کو كوٹڑي میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔

مظفرنگر ضلعے میں ہونے والی ہندو مسلم جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئےاور سینکڑوں کو بے گھر ہونا پڑا
،تصویر کا کیپشنمظفرنگر ضلعے میں ہونے والی ہندو مسلم جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئےاور سینکڑوں کو بے گھر ہونا پڑا

شدید طور پر زخمی آٹھ افراد کو پاس کے شہر ادے پور بھیجا گیا جن میں سے دو کی موت ہو گئی۔ اس طرح مرنے والوں کی کل تعداد تین ہو گئی ہے۔

انتظامیہ اور پولیس کے سینیئر افسر جائے حادثہ پر پہنچ گئے ہیں اور علاقے میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ آس پاس کے پانچ اضلاع کی پولیس علاقے میں بلا لی گئی ہے۔

بھارت میں گذشتہ سال 2013 میں ستمبر کے مہینے میں دارالحکومت دہلی سے ملحق ریاست اتر پردیش کے مظفرنگر ضلعے میں ہندو مسلم جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس تشدد سے متاثرہ سینکڑوں لوگ اب بھی امدادی کیمپوں میں گزر بسر کر رہے ہیں۔

اس معاملے نے کافی طول پکڑ لیا تھا اور اس کی وجہ سے ریاستی حکومت پر سخت تنقید کی گئی تھی۔ واقعے کے لیے ذمہ دار کچھ ممبران اسمبلی سمیت کئی لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔