چین سے معاہدے کے مخالفین کا تائیوانی پارلیمان پر قبضہ

،تصویر کا ذریعہCNA
چین سے تجارتی معاہدے کے سینکڑوں مخالفین نے تائیوان کی پارلیمان پر قبضہ کر لیا ہے اور پولیس کی انھیں بے دخل کرنے کی کوششیں ناکام بنا دی ہیں۔
ان مظاہرین میں طلبہ اور تجارتی معاہدے کے مخالف رضاکار شامل ہیں۔
مظاہرین پارلیمان میں منگل کو رات گئے زبردستی گھس آئے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ معاہدے سے تائیوان کی معیشت کو نقصان پہنچے گا اور یہ کہ تائیوان بیجنگ کے دباؤ میں آ جائے گا۔
اس معاہدہ پر سنہ 2013 کے جون میں دستخط ہوئے تھے تاہم اس کی پارلیمان کی جانب سے منظوری نہیں دی گئی تھی۔
اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی سروس مارکیٹ میں زیادہ آزادی کے ساتھ سرمایہ کاری کی سہولت ہوگی۔
مظاہرین اس وقت پارلیمان میں گھس آئے جب برسراقتدار پارٹی کے ایک ایم پی نے کہا کہ معاہدے پر مشترکہ کمیٹی کا جائزہ مکمل ہو گيا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک طلبہ رہنما نے کہا کہ ’تجارتی معاہدے کو پارلیمان میں بغیر اچھی طرح جانچ پڑتال کے منظوری نہیں دی جانی چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
حزب اختلاف نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے شق در شق معاہدے کے جائزے کے اپنے عہد سے روگردانی کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تائیوان کی مرکزی نیوز ایجنسی کے مطابق پارلیمان کے سپیکر وانگ جن پنگ نے بدھ کو ’پرامن رہنے، دانشمندی کا مظاہرہ کرنے اور نظم و ضبط‘ کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مسئلے کو پرامن طور پر حل کرلیا جائے گا۔
یاد رہے کہ تائیوان چين کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور حالیہ برسوں میں دونوں کے درمیان تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔
یہ دونوں ممالک سنہ 1949 میں چین کی خانہ جنگی کے دوران الگ ہو گئے تھے لیکن چین اسے اپنا حصہ تصور کرتا ہے۔
بہرحال اس سال کے اوائل میں دونوں ممالک نے پہلی بار براہ راست حکومتی سطح پر بات چیت شروع کی ہے۔ اس سے قبل تمام باتیں بالواسطہ طور پر ہوا کرتی تھیں۔
حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں کئی معاہدے ہوئے ہیں لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ چین کے ساتھ وسیع معاشی میل جول سے تائیوان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
تائیوان کی مرکزی نیوز ایجنسی نے ایوان پارلیمان پر قبضہ کیے جانے کے بارے میں کہا کہ ’ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا‘ اور ایوان کے باہر لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی ہے۔







