’انتشار پسند‘وزیر اعلی کی سڑکوں پر حکومت

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, بی بی سی، انڈیا
بھارت میں ساٹھ سال قبل دلت رہنما اور انڈیا کے ایک اعلیٰ پائے کے مفکر بی آر امبیدکر نے بڑے واضح طور پر ’انارکی‘ کی گرامر بیان کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کو اپنے سماجی اور معاشی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے سول نافرمانی، عدم تعاون اور ستیاگرہ عوامی تحریک جیسے انقلاب کے خونی طریقوں کو ترک کر دینا چاہیے۔
انھوں نے کہا تھا کہ: ’جہاں آئینی اور قانونی راستے کھلے ہوں وہاں غیر آئینی طریقے اپنانے کا کوئی جواز نہیں رہتا۔‘
انھوں کا قول ہے کہ ’یہ تمام طریقے انارکی کی گرامر کے علاوہ کے کچھ نہیں اور جتنا جلد ممکن ہو اتنا ہی اچھا ہے۔‘
دہلی کے نو منتخب وزیر اعلیٰ ارویند کیجروال بظاہر اس سوچ کے حامل نہیں ہیں۔
معاشرے میں وسیع پیمانے پر پائی جانے والی بدعنوانی اور کرپشن کے رد عمل میں معرضِ وجود میں آنے والی عام آدمی پارٹی نے جو دہلی کے حالیہ انتخابات میں حیران کن کامیابی حاصل کر کے شہری حکومت میں آئی ہے، دارالحکومت دہلی کی سخت سیکیورٹی والی شاہراوں پر پولیس کی تعیناتیوں پرگذشتہ ہفتے سڑکوں پر آ گئی تھی۔
دہلی پولیس وفاقی حکومت کے ماتحت ہے اور دہلی شہر کی حکومت پولیس پر اختیار حاصل کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ پولیس دیگر بڑے شہروں میں ریاستی حکومتوں کے تحت آتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
کیجریوال کے احتجاج کی وجہ سے دہلی کی زیرِ زمین ریل سروس کے کئی سٹشین بند کرنا پڑے ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام میں شدید خلل پڑا ہے۔ شدید سردی کے باوجود دہلی کے وزیر اعلیٰ اپنے حامیوں سمیت پیر کی رات کو سڑک پر سوئے۔ ان کی ریاستی حکومت میں شامل وزراء روز مرہ کے سرکاری امور اور فائلیں وہیں سڑک پر دیکھتے اور ان پر دستخط کرتے نظر آئے۔ پولیس اور کیجروال کے حامیوں میں ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ دہلی کی حکومت کو عملاً وہیں اس سڑک سے چلایا جا رہا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارت کی تاریخ میں صرف ایک اور ایسی مثال ملتی ہے کہ جہاں ایک منتخب حکومت کے وزراء سڑکوں پر اجتجاج اور مظاہرے کرتے نظر آئے ہوں۔ سنہ انیس سو ساٹھ میں مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ اجو مکھرجی نے کولکتہ کے ایک پارک میں اپنی ہی حکومت کی امن قائم کرنے میں ناکامی پر بہتر گھنٹے کی بھوک ہڑتال کی تھی۔
کیجریوال نے اس احتجاج میں برملا کہا کہ ’ہاں میں ایک انارکسٹ (انشتار پسند) ہوں‘۔
انھوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو کہا کہ : ’کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ میں انتشار پسند ہوں اور انشتار پھیلا رہا ہوں۔ میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ میں انتشار پسند ہوں۔ میں سب سے بڑا انتشار پسند ہوں۔‘
کیجریوال نے احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے کی دھمکی دی جس پر ان کے ناقدین، ذرائع ابلاغ اور حتیٰ کہ ان کے اپنے حامی بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ سڑکوں پر سرگرم ایک کارکن کو اب ایک ذمہ دار رہنما کے طور پر سامنے آنا چاہیے۔ کچھ اخبارات نے اس احتجاج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا کیجریوال نے اپنی حکومت کو سڑکوں کا کھیل نہیں بنا دیا ہے۔
منگل کو تقریباً تمام اخبارات کی چیختی چلاتی شہ سرخیاں اسی سوچ کی عکاسی کرتی نظر آئیں۔’دہلی کی حکومت لاپتہ‘ ایک اخبار کی سرخی تھی۔ انشتار پسند وزیر اعلی نے دہلی میں افراتفری پھیلا دی، ایک دوسرے اخبار کی سرخی تھی۔ ایک اور اخبار نے لکھا کہ دہلی میں مکمل افراتفری کیونکہ ایک انشتار پسند وزیر اعلیٰ حکومت کو گلیوں میں لےگیا ہے۔
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ کیجریوال کا مطالبہ درست ہے اور دہلی کی بدنام اور بدعنوان پولیس ملک کے دارالحکومت میں ریاست کی منتخب حکومت کو نہیں بلکہ وفاقی حکومت کو جوابدہ ہے۔ عام آدمی پارٹی کے ترجمان یوگیندرا یادیو اس صورت حال کو مقامی حکومت کے ڈھانچے میں ایک نقص قرار دیتے ہیں۔
ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی بھی اس بات سے اصولی طور پر متفق ہیں اور یہ کہتی رہی ہیں کہ پولیس کو ریاستی حکومت کے ہی ماتحت ہونا چاہیے لیکن اس بارے میں انھوں نے کبھی کچھ نہیں کیا۔ کیجریوال سمجھتے ہیں کہ وہ احتجاج کے ذریعے یہ ہدف حاصل کرسکتے ہیں۔
یادیو جو سیاسیات کے ماہر بھی ہیں اس بارے میں کہتے ہیں کہ ایسا کیوں نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ احتجاج جمہوریت کا حصہ ہے اور احتجاج عام طور پر سڑکوں پر ہی کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ انتشار نہیں ہیں۔
ناقدین کا خیال ہے کہ حکومت میں بیٹھ کر سڑکوں پر احتجاج کرنے سے کیجریوال کی حکومت کی ساکھ متاثر ہو گی۔
عام آدمی پارٹی نے بڑی جماعتوں کی عوام میں بڑھتی ہوئی غیر مقبولیت کا فائدہ اٹھایا ہے۔ پارٹی کے بارے میں عام رائے یہ ہی کہ وہ نیا خون اور امید کی ایک نئی کرن بن کر ابھری ہے۔
بھارت کی اٹھارہ ریاستوں میں کرائے جانے والے حالیہ سروے کے مطابق نصف سے زیادہ ووٹر کیجریوال کی جماعت سے آشنا تھے اور کم از کم اٹھارہ فیصد ان کو ووٹ دینے کے حق میں تھے۔
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ انتہائی اہم سیاسی کامیابیاں اس طرح کے سڑکوں اور گلیوں پر کیے جانے والے مظاہروں سے ضائع ہو سکتی ہیں۔
تاریخ داں رام چندر گوہا نے کہا ہے کہ عام آدمی پارٹی کو سوچ سمجھ کر احتجاج کرنا چاہیے اور ایک آئینی حیثیت حاصل کرنے کے بعد انھیں اس انداز میں احتجاج نہیں کرنا چاہیے۔
انتشار پسندی شاید اکثریت کو پسند نہ آئے۔ بھارت میں سیاست استحکام کے لیے ترس رہی ہے اور ملک کی سیاست میں ہمیشہ ہی مرکزیت کا شکار رہی ہے۔
اس صورت حال میں کیا عام آدمی کی جماعت تبدیلی کا باعث بن سکے گی یا صرف ایک صرف یا عارضی ثابت ہوگا۔ اس بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔
یوگیندرا کا کہنا ہے کہ: ’ہم ناتجربہ کار ہیں۔ ہم غلطیاں کر سکتے ہیں۔ اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ ہم سے ضرورت سے زیادہ امیدیں وابستہ کر لی جائیں۔ دہلی پولیس کے بارے میں احتجاج ایک عارضی چیز ہے۔ ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں۔‘







