چائے انڈیا کا قومی مشروب بنے گا؟

بھارتی سیاست میں چائے ایک نیا استعارہ بن چکی ہے
،تصویر کا کیپشنبھارتی سیاست میں چائے ایک نیا استعارہ بن چکی ہے
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

کس نےسوچا ہوگا کہ سوا ارب آبادی والے ملک میں جہاں ریپ کی خبریں کبھی سرخیوں سے نہیں ہٹتیں، جہاں اربوں کے گھپلوں پر اب کسی کو حیرت نہیں ہوتی، جہاں حکمران دھرنے پر بیٹھنا چاہتے ہیں، لیکن جو لوگ پہلےسے دھرنوں پر بیٹھے ہیں ان کی مانگیں کبھی پوری نہیں ہوتیں، وہاں ایک پارلیمانی الیکشن چائے کے پلیٹ فارم پر لڑا جائے گا!

ملک میں جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں، چائے کی پیالی کلیدی اہیت اختیار کرتی جارہی ہے۔ اب یہ الیکشن چائے خانوں میں لڑا جائے گا۔ وزارت عظمیٰ کے لیے بی جے پی کے امیدوار نریندر مودی اب اپنے کسی جلسے میں سینہ ٹھونک کر یہ یاد دلانے سے نہیں چوکتے کہ بچپن میں وہ چائے بیچا کرتے تھے۔

اور اب ان کا کہنا ہے کہ سونیا گاندھی نے اپنے بیٹے راہل گاندھی کو ان کے سامنے میدان میں اتارنے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتیں کہ راہل ایک چائے بیچنے والے سے مقابلہ کریں! ہار گئے تو کیا ہوگا؟

جواب میں کانگریس کے سینئر لیڈر منی شنکر ائیر کا کہنا ہےکہ اکیسویں صدی میں تو نریندر مودی وزیر اعظم بن نہیں پائیں گے لیکن اگر وہ کانگریس کے اجلاسوں میں چائے بیچنا چاہیں تو اس کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔

لیکن بہار کی حکمراں جماعت جنتا دل یونائٹڈ اس کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہےکہ ملک کو کسی ایسے وزیر اعظم کی ضرورت نہیں ہے جو زہریلی چائے بیچتا ہو۔ چائے بیچنے والا اچھا انسان ہوتا ہے زہریلی چائے بیچنے والا نہیں!

اب بس انتظار یہ ہے کہ چائے بنانے والی کوئی بڑی کمپنی الیکشن سپانسر کرنے کے لیے آگے آئے کیونکہ نریندر مودی وزیر اعظم بنے تو چائے کو قومی مشروب کا مرتبہ ملنا طے ہے۔

چھاپہ مار حکومت

محاذ آرائی وفاقی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمحاذ آرائی وفاقی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان ہے

دہلی کی نو منتخب حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ الگ انداز کی سیاست کرے گی۔ لیکن کس نے سوچا ہوگا کہ تین ہفتوں کے اندر عام آدمی پارٹی کی پوری حکومت دو تین تھانیداروں کو معطل کرانے کے لیے ملک کی پارلیمان کے سامنے دھرنے پر بیٹھ جائے گی۔

یہ بلاشبہ یہ الگ انداز کی سیاست ہے اور شاید تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک منتخب حکومت دوسری منتخب حکومت کے خلاف اس انداز میں احتجاج کر رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کھل کر اعلان کر رہے ہیں کہ پولیس ’چور ہے اور ہم اس کا علاج کریں گے۔‘ محاذ آرائی وفاقی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان ہے، پولیس وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہے، ریاستی حکومت اسے اپنے دائرہ اختیار میں لانا چاہتی ہے۔

یہاں دو بنیادی سوال اٹھتے ہیں۔ ایک یہ کہ جمہوری نظام حکومت میں سارے مطالبات کیا سڑکوں پر اتر کر ہی منوائے جانے چاہییں؟ اور کیا آدھی رات کو جسم فروشی کے مبینہ ٹھکانوں پر چھاپے مارنا وزرا کا کام ہے؟

اور سوال یہ بھی ہے کہ اگر حکومت خود مظاہرے کرے گی تو مظاہرین کیا کریں گے؟ چائے کا کاروبار تو آج کل ویسے ہی کافی متنازع فیہ ہوگیا ہے۔

حکومت بھگوان کے بھروسے پر

کیجریوال کا جواب ہے کہ انھیں بھگوان پر بہت بھروسہ ہے اس لیے وہ سکیورٹی نہیں لیں گے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکیجریوال کا جواب ہے کہ انھیں بھگوان پر بہت بھروسہ ہے اس لیے وہ سکیورٹی نہیں لیں گے

دلی پولیس بے ایمان ہے یا نہیں، اس کا جواب ہاں یا نا میں نہیں دیا جا سکتا۔ نہ سب بے ایمان ہو سکتے ہیں اور نہ ایماندار۔ لیکن دلی پولیس کو مسٹر کیجریوال کی سکیورٹی کی فکر ہے کیونکہ اسے خفیہ اطلاع ملی ہے کہ انڈین مجاہدین کے دہشت گرد اپنے کچھ ساتھیوں کو رہا کرانے کے لیے انھیں اغوا کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔

کیجریوال کا جواب ہے کہ انھیں بھگوان پر بہت بھروسہ ہے اس لیے وہ سکیورٹی نہیں لیں گے۔ اور شاید بھگوان کے بھروسے ہی وہ دھرنے پر بھی جاکر بیٹھ گئے اور اب اٹھنے سے انکار کر رہے ہیں۔ اقتدار میں آنے سے پہلے وہ خود اکثر کہتے تھے کہ یہ ملک بھگوان کے بھروسے ہی چل رہا ہے۔

اروندی کیجریوال کو آپ الزام بھی نہیں دے سکتے کیونکہ حکومت اب تک ان کےلیے ایک چھوٹے سے گھر کا انتظام کرنے میں ناکام رہی ہے۔وہ جائیں تو جائیں کہاں؟

جہاں تک انڈین مجاہدین کا سوال ہے، مانا کہ انھیں خطروں سے کھیلنے کاشوق ہے، لیکن کیجریوال ایک مرتبہ ان کے پاس پہنچ گئے تو ان کا ’علاج‘ کیے بغیر واپس لوٹنے سے انکار بھی کرسکتے ہیں، بدلے میں کسی کو چھوڑا جائے یا نہیں۔

انگریزی میں ایک کہاوت ہے کہ پیالی کے ہونٹوں تک پہنچنے کے درمیان کچھ بھی گڑبڑ ہوسکتی ہے، اور یہ بات چائےبیچنے والوں، پینے والوں اور صرف نظارہ دیکھنے والوں سب پر لاگو ہوتی ہے۔