بہار میں دماغی بخار سے سات بچے ہلاک

بہار کے ایک مخصوص علاقے میں اکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم (اے ای ایس) یعنی شدید دماغی بخار سے گذشتہ ہفتے کے دوران سات بچوں کی موت ہو چکی ہے۔
ریاست کے شمالی علاقے میں ارریہ ضلعے کے بیلوا ڈویژن کی رہنے والی چھ سالہ ندا پروین کی پیر کو موت ہو گئی۔
بہار سے صحافی منیش شنڈلیا نے بتایا کہ ندا کی موت کے بعد ریاست میں دماغی بخار سے مرنے والے بچوں کی تعداد اب سات ہو گئی ہے۔
بچوں کی موت کا سلسلہ گذشتہ منگل سے شروع ہوا۔ سب سے پہلے ہڈیا پنچایت کے موربلّا گاؤں میں رہنے والی ایک بچی شاديہ کی موت کی خبر آئی۔ پھر اسی پنچایت سے مزید دو اموات کی خبر آئي۔
بعض لوگ ان اموات کو ویکسینیشن کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ بیلوا پنچایت میں 15 دسمبر کو جاپانی انسیفلائٹس سے بچاؤ کے لیے بچوں کو ویکسین (ٹیکہ) دیا گیا تھا۔ 23 نومبر سے پورے ضلع میں ویکسینیشن کی مہم جاری ہے۔
ویکسینیشن کے بعد ہونے والی اموات کے بعد اب یہ معاملہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔ تاہم ضلع کے سول سرجن بی کے ٹھاکر نے اس خدشہ کو مکمل طور پر خارج کر دیا ہے کہ یہ اموات ٹیکے کے ضمنی اثرات کی وجہ سے ہوئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق حیات پور پنچایت میں بھی دماغی بخار سے دو بچوں کی موت ہو گئی۔ بیلوا کی رہنے والی ایک دیگر بچی کی موت اتوار کو ہو گئی۔
اڑریہ ضلع کے سول سرجن بی کے ٹھاکر نے اس بابت بی بی سی کو بتایا کہ مردہ بچوں میں اے ای ایس کے ساتھ کچھ دوسری علامات بھی پائی گئی تھیں۔ ایسے میں موت کی وجوہات کے بارے میں تحقیقات کی رپورٹ آنے کے بعد ہی کچھ کہا جا سکے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دریں اثنا اتوار اور پیر کو ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے ضلع ترقیاتی کمشنر اور انچارج ضلع مجسٹریٹ پربھات کمار مہتا نے کہا: ’مرنے والے بچوں میں اے ای ایس کی علامات پائی گئی ہیں۔ اس بیماری سے متاثر نو ديگر بچوں کا علاج اڑریہ ضلع میں جاری ہے۔ ان کے علاج کے لیے ہسپتال میں خصوصی انتظام کیا گیا ہے۔‘
سردی کے موسم میں اے ای ایس کی وجہ سے بچوں کی ہونے والی اموات بھی ریاست کے محکمہ صحت کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ بہار میں حالیہ برسوں کے دوران سینکڑوں بچے اب تک گرمی اور برسات کے موسم کے شروع میں جاپانی انسیفلائٹس کا شکا ہو چکے ہیں۔
گذشتہ ہفتے جمعہ کو پانچ بچوں کی موت کے بعد وزیر اعلی نتیش کمار کی ہدایت پر محکمۂ صحت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سریندر پرساد کی قیادت میں ماہرڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے موربلّا اور محبت پور گاؤں کا دورہ کیا تھا۔
ٹیم خون اور ریڑھ کی ہڈی سے پانی کا نمونہ لے کر پٹنہ لوٹ چکی ہے۔ ابھی تک اس جانچ کی رپورٹ نہیں آئی ہے۔ جانچ رپورٹ کے بعد ہی یہ واضح ہو پائے گا کہ یہ اموات چاپانی دماغی بخار سے سے ہوئی ہے یا پھر کسی دوسرے قسم کے بخار سے۔







