دہلی:’ریاستی انتخابات میں 67 فیصد ووٹنگ‘

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ریاستی اسمبلی کے انتخاب کے لیے بدھ کو ووٹ ڈالے گئے ہیں جس کے ساتھ ہی ملک کی پانچ ریاستوں کے قانون ساز اداروں کے لیے پولنگ کا عمل بھی مکمل ہو گیا ہے۔
دہلی میں اس مرتبہ انتخابات میں بہت جوش و خروش دیکھا گیا اور خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کے حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ ووٹنگ کی شرح تقریباً 67 فیصد رہی۔
دہلی کے چیف الیکشن افسر وجے دیو کا کہنا ہے کہ ووٹروں کی لمبی قطاروں کی وجہ سے کئی علاقوں میں پولنگ کا وقت بڑھانا پڑا۔
پانچ میں سے چار ریاستوں نئی دہلی، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان کے انتخابی نتائج کا اعلان اتوار آٹھ دسمبر کو جبکہ میزورم میں نو دسمبر کو ہوگا۔
نئی دہلی میں ریاستی اسمبلی کی 70 نشستوں کے لیے تقریباً آٹھ سو امیدوار میدان میں تھے جبکہ ووٹروں کی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ تھی جنہوں نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے ووٹ ڈالے۔
دارالحکومت میں پہلی مرتبہ ووٹروں کو یہ حق بھی حاصل تھا کہ وہ ایک بٹن دبا کر یہ پیغام دے سکتے تھے کہ انہیں کوئی بھی امیدوار پسند نہیں۔
انتخابات کے لیے سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے اور تمام سرکاری دفاتر، بینک اور سکول بند رہے جبکہ 60 ہزار سے زیادہ سکیورٹی اہلکار شہر کے مختلف حصوں میں تعینات تھے۔

دہلی میں پندرہ سال سے کانگریس کی حکومت ہے لیکن اس مرتبہ اسے بھارتیہ جنتا پارٹی اور ملک کے سیاسی منظرنامہ پر حال ہی میں ابھرنے والی جماعت عام آدمی پارٹی سے سخت چیلنج کا سامنا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجری وال ہیں جنہوں نے سماجی کارکن انا ہزارے کے ساتھ ملک کر ملک میں بدعنوانی کے خلاف تحریک چلائی تھی۔
تمام انتخابی جائزوں کے مطابق زیادہ امکان یہ ہے کہ کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت نہیں مل سکے گی کیونکہ اس مرتبہ بہت سی سیٹوں پر سہ فریقی مقابلہ ہو رہا ہے۔
دہلی کی وزیر اعلیٰ شیلا دکشت کے لیے یہ ان کے سیاسی سفر کی سب سے سخت آزمائش ہے۔ وہ پندرہ سال سے دہلی کی وزیراعلیٰ ہیں۔
دہلی کے انتخابات خاص سیاسی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ ملک میں جلدی ہی پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں اور عام تاثر یہ ہے کہ اگر ریاست میں بی جے پی جیت جاتی ہے تو یہ اس بات کا واضح عندیہ ہوگا کہ ہوا کس رخ پر چل رہی ہے۔
گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو وزارت عظمی کا امیدوار بنائے جانے کے بعد سے یہ پہلے ریاستی انتخابات ہیں اور نتائج سے یہ بھی معلوم ہوگا کہ نریندر مودی کس حد تک لوگوں کو پارٹی کی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور میزروم پہلے ہی ووٹ ڈالے جا چکے ہیں۔ شمال مشرقی ریاست میزورم کو چھوڑ کر باقی تینوں ریاستوں میں پہلے سے ہی بی جے پی برسراقتدار ہے۔







