راجستھان کے اسمبلی انتخابات میں’ریکارڈ‘ ووٹنگ

بھارت کی رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑی ریاست راجستھان کی ریاستی اسمبلی کے ارکان کے انتخاب کے لیے اتوار کو ووٹ ڈالے گئے ہیں۔
ووٹرز نے چودھویں ریاستی اسمبلی کی تشکیل کے لیے 200 میں سے 199 سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالے۔
بھارتی الیکشن کمیشن کے اعدادو شمار کے مطابق ریاست میں تقریباً چار کروڑ ووٹرز اپنے جمہوری حق کا استعمال کرنے کے اہل تھے اور ووٹ ڈالنے کی شرح تقریباً 74.38 فیصد رہی ہے۔
یہ ریاستی انتخابات کی تاریخ میں سب سے زیادہ شرح قرار دی جا رہی ہے۔
راجستھان میں ریاستی اسمبلی کی 200 نشستیں ہیں لیکن چورو انتخابی حلقے کی ووٹنگ کو بی ایس پی کے ایک امیدوار کی موت کے بعد 13 دسمبر تک کے لیے ملتوی کر دیا گيا ہے۔
ووٹ ڈالنے کا سلسلہ اتوار کی صبح آٹھ بجے شروع ہوا اور شام پانچ بجے تک جاری رہا۔ ووٹنگ کے دوران اکا دکا واقعات کے علاوہ حالات مجموعی طور پر پرامن رہے۔

اتوار کو ڈالے جانے والے ووٹوں کی گنتی آٹھ دسمبر کو ہوگی۔
ریاست میں ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کانگریس اور بی جے پی نے تمام نشستوں کے لیے اپنے امیدوار نامزد کیے تھے جبکہ کل امیدواروں میں سے 166 خواتین تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انتخابات میں حصہ لینے والے اہم امیدواروں میں کانگریس کے لیڈر اور وزیرِ اعلیٰ اشوک گہلوت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی سابق حکومت میں وزیراعلی وسندھرا راجے بھی شامل ہیں۔
وزیراعلی گہلوت اپنے آبائی شہر جودھپور کی سردار پورہ سیٹ سے تین بار رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد چوتھی بار میدان میں اترے۔
بی جے پی نے اپنے وزیراعظم کے عہدے کے نامزد امیدوار نریندر مودی کے جودھپور میں اجلاس کے ذریعے اس علاقے میں مقابلے کو سخت بنانے کی کوشش کی۔

بی جے پی لیڈر اور سابق وزیر اعلی وسندھرا راجے جھالاواڑ ضلع میں جھالراپاٹن سے ایک بار پھر امیدوار ہیں۔
راجے جھالاواڑ سے پانچ بار ایم پی رہ چکی ہیں لیکن فی الحال وہ راجستھان اسمبلی کی رکن ہیں۔
کانگریس نے سابق ممبر اسمبلی مینا کشی چندراوت کو میدان میں لا کر راجے جھالاواڑ کو چیلنج کرنے کی کوشش کی ہے۔
واضح رہے کہ اسمبلی انتخابات کے سلسلے میں بھارت کی پانچ ریاستوں میں انتخابات ہو رہے ہیں۔ راجستھان کے بعد چار دسمبر کو دہلی میں اسمبلی انتخابات ہوں گے۔ ديگر ریاستوں میں انتخابات کرائے جا چکے ہیں۔
پانچوں ریاستوں کے انتخابات میں ووٹوں کی گنتی آٹھ دسمبر کو ہوگی اور امید ہے کہ اسی دن فیصلہ آ جائے گا کیونکہ ہر جگہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال کیا جا رہا ہے۔







