تیج پال جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

تحقیقاتی صحافت کے لیے معروف جریدے تہلکہ کے بانی مدیر ترون تیج پال کو عدالت نے جنسی زیادتی کے مقدمے میں چھ دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا ہے۔
سنیچر کو شمالی گوا سیشن کورٹ نے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کی تھی جس کے بعد پولیس نے انھیں گرفتار کر کے گوا کی کرائم برانچ کے دفتر میں زیرِ حراست رکھا۔
ترون تیج پال ان پر لگائے گئے الزامات کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے اور متعلقہ خاتون کے درمیان تعلق باہمی رضا مندی پر مبنی تھا۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بھارت میں خواتین کو ان کے ساتھ کام کرنے والے ملازمین اور آجروں کے ہاتھوں جنسی طور پر ہراساں ہونے کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن بہت خواتین روزگار کھو دینے کے ڈر سے اس کی شکایت نہیں کرتی۔
سنیچر کو تیج پال کے وکلا نے عدالت سے انہیں گھر کا کھانا فراہم کیے جانے اور قیدیوں کا لباس نہ پہنانے کی درخواستیں کیں جو عدالت نے منظور کر لیں۔
مبینہ جنسی زیادتی کا یہ معاملہ گذشتہ مہینے تہلکہ میگزین کے گوا میں ہونے والے ایک پروگرام کے دوران پیش آیا تھا۔
جنسی زیادتی کے معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد تیج پال نے ایک بیان کے ذریعے ادارت کے عہدے سے چھ ماہ کے لیے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا تھا اور اپنی ساتھی صحافی سے معافی بھی مانگی تھی۔
ترون تیج پال نے کہا تھا: ’یہ بدقسمت واقعہ برے فیصلے اور حالات کو ٹھیک سے سمجھ نہ پانے کی وجہ سے رونما ہوا جو ہمارے اصولوں کے خلاف ہے۔ میں نے پہلے ہی بغیر کسی شرط کے متعلقہ صحافی سے اپنی بے جا حرکت کے لیے معافی مانگ لی ہے لیکن مجھے مزید کفارہ ادا کرنا چاہیے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تیج پال کا بیان سامنے آنے کے بعد گوا حکومت نے اپنی طرف سے ابتدائی تفتیش کا حکم دیا اور پھر گوا پولیس نے تیج پال کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی تھی۔
متاثرہ خاتون مجسٹریٹ کے سامنے اپنا بیان درج کروا چکی ہیں اور گوا پولیس نے کہا ہے کہ بیان انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 164 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ اس دفعہ کے تحت درج بیان عدالت میں ثبوت کے طور پر قابل قبول ہوتے ہیں۔







