تیج پال کیس: بھارتی جریدے تہلکہ کی مدیر مستعفی

بھارت کی معروف میگزین تہلکہ کی مینیجنگ ایڈیٹر شوما چودھری نے اپنے عہدے سے جمعرات کی صبح استعفی دے دیا ہے۔
ان کا یہ ا ستعفی میگزین کے بانی مدیر ترون تیج پال کے اپنی ایک خاتون ساتھی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے معاملے کے بعد آیا ہے۔
جنسی زیادتی کے معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد تیج پال نے ایک بیان کے ذریعے ادارت کے عہدے سے چھ ماہ کے لیے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا تھااور اپنی ساتھی صحافی سے معافی بھی مانگی تھی۔
جنسی استحصال کا الزام لگانے والی خواتون صحافی کے علاوہ بعض دوسرے صحافیوں نے بھی تہلکہ کو خیر باد کہہ دیا ہے۔
مبینہ جنسی زیادتی کا یہ معاملہ گذشتہ مہینے تہلکہ میگزین کےگوا میں ہونے والے ایک پروگرام کے دوران ہوا تھا جس میں دنیا بھر سے معروف شخصیتوں نے حصہ لیا تھا۔
اس کے بعد ترون تیج پال نے کہا تھا: ’یہ بدقسمت واقعہ برے فیصلے اور حالات کو ٹھیک سے سمجھ نہ پانے کی وجہ سے رونما ہوا جو ہمارے اصولوں کے خلاف ہے۔ میں نے پہلے ہی بغیر کسی شرط کے متعلقہ صحافی سے اپنی بے جا حرکت کے لیے معافی مانگ لی ہے لیکن مجھے مزید کفارہ کرنا چاہیے۔‘
ترون تیج پال کا بیان سامنے آنے کے بعد گوا حکومت نے اپنی طرف سے ابتدائی جانچ کا حکم دیا اور پھر گوا پولیس نے ترون تیج پال کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی۔
رواں ہفتے گوا پولیس نے تیج پال کے خلاف الرٹ بھی جاری کیا تاکہ وہ ملک چھوڑ کر نہ جا سکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
معاملے کی جانچ کے لیے دہلی پولیس کی ایک ٹیم گوا گئی تھی جبکہ گوا پولیس کی ایک ٹیم دہلی آئی جہاں انہوں نے تہلکہ کے دفتر سے ایک ہارڈ ڈسک، تیج پال، شوما چودھری اور جنسی زیادتی کی مبینہ شکار صحافی کے درمیان کیے جانے والے ای میلز اور دیگر دستاویزات ضبط کیں۔
دریں اثنا گرفتاری سے بچنے کے لیے ترون تیج پال نے دہلی ہائی کورٹ میں پیشگی ضمانت کی درخواست دے رکھی ہے جس پر سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ جمعہ تک کے لیے محفوظ کر رکھا ہے۔
متاثرہ خاتون مجسٹریٹ کے سامنے اپنا بیان درج کروا چکی ہیں۔ گوا پولیس نے کہا ہے کہ بیان انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 164 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ اس دفعہ کے تحت درج بیان عدالت میں ثبوت کے طور پر قابل قبول ہوتے ہیں۔







