بھارتی صحافی جنسی استحصال کے معاملے پر اپنے عہدے سے علیحدہ

بھارت کے ایک اہم میگزین کے بانی ایڈیٹر اپنی ایک ساتھی صحافی کے ساتھ جنسی استحصال کے الزامات کے بعد اپنے عہدے سے وقتی طور پر علیحدہ ہو گئے ہیں۔
تہلکہ نامی میگزن کے مدیر ترون تیج پال کے مطابق انھوں نے اپنے عہدے سے ’اس منحوس سانحے کے بعد کفارے‘ کے طور پر چھ ماہ کے لیے علیحدہ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
متاثرہ لڑکی کے ایک قریبی ساتھی کا کہنا ہے کہ لڑکی کے ساتھ ’شدید جنسی بدسلوکی‘ ہوئی ہے۔
دوسری جانب ترون تیج پال نے کہا ہے کہ اس بارے میں جو شکایت کی گئی تھی اسے ’باعزت طریقے سے نمٹا لیا گیا تھا۔‘
یہ معاملہ تہلکہ میگزین کے اسی ماہ گوا میں ہونے والے ایک پروگرام کے دوران پیش آيا جس میں دنیا بھر سے معروف شخصیتوں نے شرکت کی تھی۔
ترون تیج پال نے کہا: ’یہ بدقسمت واقعہ برے فیصلے اور حالات کو ٹھیک سے سمجھ نہ پانے کی وجہ سے رونما ہوا جو ہمارے اصولوں کے خلاف ہے۔ میں نے پہلے ہی بغیر کسی شرط کے متعلقہ صحافی سے اپنی بے جا حرکت کے لیے معافی مانگ لی ہے لیکن مجھے مزید کفارہ کرنا چاہیے۔‘
متاثرہ خاتون کے ایک قریبی ساتھی نے بھارتی نیوز چینل این ڈی ٹی وی سے کہا ہے کہ ’وہ پوری طرح ٹوٹ چکی ہے اور جذباتی طور پر صدمے میں ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’لڑکی کے یہ کہنے کے باوجود کہ وہ ان کی بیٹی کی ہم عمر ہے ان کے ساتھ وہ حرکت مسلسل ہوئي ۔۔۔ وہ کہتی رہی کہ ’پلیز ایسا نہ کریں‘ ... اس کی ’نہیں‘ کو نہ مانا گیا ۔۔۔ ایسا ایک بار ہوا اور اگلے دن پھر ہوا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
متاثرہ خاتون کے قریبی شحض نے مطالبہ کیا ہے کہ تہلکہ میگزین کو جنسی استحصال کے الزامات کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنانی چاہیے۔
متاثرہ خاتون نے اس بارے میں میگزین کی مینیجنگ ایڈیٹر شوما چودھری سے مبینہ واقعہ کے بارے میں شکایت کی تھی۔
ترون تیج پال نے بی بی سی سے کہا: ’اس بارے میں شکایت کی گئی تھی اور اسے باعزت طریقے سے نمٹا دیا گیا ہے۔ میں رضاکارانہ طور پر ایڈیٹر کے عہدے سے چھ ماہ کے لیے علیحدہ ہو رہا ہوں۔‘
اس پورے معاملے پر خواتین کارکنان اور صحافیوں نے سوشل میڈیا پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہییں۔
معروف وکیل کرونا نندی نے اس بارے میں ٹویٹ کیا: ’یہ تمام میڈیا ہاؤسز کے لیے وقت ہے کہ وہ جنسی استحصال کمیٹی بنائیں۔ تیج پال اپنی نیک نیتی ایسی کمیٹی کے روبرو پیش کر سکتے ہیں۔‘
تہلکہ سنہ 2000 میں بھارتی نیوز میڈیا میں ایک ویب سائٹ کے طور پر شروع ہوئی تھی۔ جلد ہی اسے تفتیشی اور اکثر متنازع صحافت کے لیے شہرت ملی۔
تہلکہ نے مارچ 2001 میں اس وقت سنسنی پیدا کر دی جب اس نے فوج کے افسروں اور لیڈروں کے ویڈیوز جاری کیے۔ اس میں اہم اہلکاروں کو رشوت لیتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔







