تیج پال ضمانت مسترد ہونے کے بعد گرفتار

ترون تیج پال کا شمار بھارتی صحافت کی اہم شخصیات میں ہوتا ہے
،تصویر کا کیپشنترون تیج پال کا شمار بھارتی صحافت کی اہم شخصیات میں ہوتا ہے

تحقیقاتی صحافت کے لیے معروف جریدے تہلکہ کے بانی مدیر ترون تیج پال کو مبینہ جنسی زیادتی کے معاملے درخواستِ ضمانت مسترد ہونے کے بعدگرفتار کر لیا گیا ہے۔

سنیچر کو شمالی گوا سیشن کورٹ نے ان کی جانب سے ضمانت کی درخواست منظور نہیں کی تھی۔

اس کے بعد تیج پال کو گوا کی کرائم برانچ کے دفتر میں حراست میں رکھا گیا ہے۔

ان کے وکلا نے عدالت سے انہیں گھر کا کھانا فراہم کیے جانے اور قیدیوں کا لباس نہ پہنانے کی درخواستیں کیں جو عدالت نے منظور کر لیں۔

ترون تیج پال کے وکلاء نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ پوچھ گچھ کے دوران ان کے وکیل بھی موجود رہیں تاہم اس پر ابھی تک عدالت نے فیصلہ نہیں دیا ہے۔

اس سے پہلے، مدعا علیہان نے عدالت سے ضمانت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ تیج پال ہر شرط ماننے اور تحقیقات میں تعاون کے سلسلے میں گوا میں رہنے کے لیے تیار ہیں لہذا انھیں جیل نہ بھیجا جائے۔

وہیں استغاثہ نے معاملے کی سنجیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت سے تیج پال کو ضمانت نہ دینے کا مطالبہ کیا۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ ملزم اپنے رتبے اور حیثیت کا استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کو متاثر کر سکتے ہیں۔

مبینہ جنسی زیادتی کا یہ معاملہ گذشتہ مہینے تہلکہ میگزین کے گوا میں ہونے والے ایک پروگرام کے دوران پیش آیا تھا۔

جنسی زیادتی کے معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد تیج پال نے ایک بیان کے ذریعے ادارت کے عہدے سے چھ ماہ کے لیے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا تھااور اپنی ساتھی صحافی سے معافی بھی مانگی تھی۔

ترون تیج پال نے کہا تھا: ’یہ بدقسمت واقعہ برے فیصلے اور حالات کو ٹھیک سے سمجھ نہ پانے کی وجہ سے رونما ہوا جو ہمارے اصولوں کے خلاف ہے۔ میں نے پہلے ہی بغیر کسی شرط کے متعلقہ صحافی سے اپنی بے جا حرکت کے لیے معافی مانگ لی ہے لیکن مجھے مزید کفارہ ادا کرنا چاہیے۔‘

تیج پال کا بیان سامنے آنے کے بعد گوا حکومت نے اپنی طرف سے ابتدائی تفتیش کا حکم دیا اور پھر گوا پولیس نے تیج پال کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی تھی۔

متاثرہ خاتون مجسٹریٹ کے سامنے اپنا بیان درج کروا چکی ہیں اور گوا پولیس نے کہا ہے کہ بیان انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 164 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ اس دفعہ کے تحت درج بیان عدالت میں ثبوت کے طور پر قابل قبول ہوتے ہیں۔