بھارت: ’پٹنہ دھماکوں کا اہم ملزم گرفتار‘

بھارت کی ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اتوار کو ہونے والے سلسلے وار دھماکوں کے سلسلے میں پولیس نے ایک اہم ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پٹنہ کے سینئر پولیس اہلکار منو مہاراج کے مطابق ملزم نے اقبالِ جرم کر لیا ہے۔ دھماکوں کے سلسلے میں بہار سے ایک دوسرے شخص کو بھی حراست میں لیاگیا ہے۔
پٹنہ میں اتوار کو بی جے پی کے رہنما نریندر مودی کے جلسے سے کچھ دیر قبل ہلکی نوعیت کے متعدد دھماکے ہوئے تھے جس میں کئی لوگ ہلاک ہوئے تھے۔
<link type="page"><caption> پٹنہ میں نریندر مودی کے جلسے سے پہلے دھماکے، 5 ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2013/10/131027_patna_modi_speech_blast_zz.shtml" platform="highweb"/></link>
منو مہاراج نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس ابھی حراست میں لیے جانے والے افراد سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ بہر حال انہوں نے بتایا کہ ملزمان ان دھماکوں کے ذریعے افراتفری پیدا کرنا چاہتے تھے اور نظم و نسق بگاڑنا چاہتے تھے۔
دوسرجانب ریاست بہار سے ملحق ریاست جھارکھنڈ میں بھی پٹنہ دھماکے کے سلسلے میں دو لوگوں کو حراست میں لیا گيا ہے۔
مقامی صحافی نیرج سنہا نے رانچی میں جھارکھنڈ پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہاں ایک شخص امتیاز کے والد كمال الددين اور بھائی اختر کو حراست میں لیا گیا ہے۔
منو مہاراج نے بی بی سی کو بتایا کہ پٹنہ پولیس کی ایک ٹیم پوچھ گچھ کے لیے جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی روانہ کی گئي ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دریں اثنا دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر چھ ہو گئی ہے۔ پٹنہ سے مقامی صحافی منیش شانڈليا کے مطابق پٹنہ میڈیکل کالج ہسپتال کے سپرنٹنڈنٹ امركانت جھا امر نے بتایا کہ کل رات مزید ایک لاش ہسپتال لائي گئی۔
انہوں نے بتایا کہ دھماکوں میں زخمی ہونے والے کل 102 افراد کو علاج کے لیے ہسپتال لایا گیا تھا جن میں سے 38 کا اب بھی علاج جاری ہے۔ زخمیوں میں چار کی حالت نازک ہے۔
جھارکھنڈ پولیس کے ترجمان اے ڈی جی ایس این پردھان نے بتایا کہ ریاست میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور حساس مقامات پر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔







