ثنا ارشاد متو: وہ کشمیری صحافی جنھیں انڈین حکومت نے امریکہ جانے سے روکا؟

    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

’پیر کی رات ساڑھے گیارہ بجے میں نئی دلی کے ایئرپورٹ پر امیگریشن ڈیسک پر قطار میں کھڑی سوچ رہی تھی کہ نیویارک میں جب پُلٹزر ایوارڈ کی تقریب میں مجھے بولنے کے لیے مدعو کیا جائے گا تو میں کیا بولوں گی۔ اسی سوچ کے دوران میری باری آئی تو ڈیسک پر بیٹھے اہلکار نے کسی افسر کو اشارہ کیا، جس پر اس نے مجھے اپنے ساتھ چلنے کو کہا۔‘

’اس نے اپنے دفتر کے باہر رکھی کرسی پر مجھے بیٹھنے کو کہا اور بعد میں میرا پاسپورٹ مجھے پکڑاتے ہوئے کہا کہ میں ایئرلائنز سے اپنا سامان واپس لے لوں۔ میں پریشان ہو گئی، اور سوچنے لگی کہ میرا امریکہ جانا کیوں خطرہ بن گیا ہے۔‘

نئی دلّی سے کشمیر واپسی کے دوران ان خیالات کا اظہار 27 سالہ فوٹو جرنلسٹ ثنا ارشاد متو نے بی بی سی کے ساتھ ایک ٹیلی فون پر ہوئی بات چیت کے دوران کیا۔

انھیں گذشتہ برس کووڈ سے متعلقہ بہترین کوریج کے لیے امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی نے پُلٹزر ایوارڈ کے لیے منتخب کیا تھا اور یہی ایوارڈ لینے کے لیے وہ پیر کی رات نیویارک کے لیے روانہ ہو رہی تھیں جب انھیں امیگریشن حکام نے گھر واپس لوٹنے کا حکم دیا۔

’میرے پاس پاسپورٹ ہے، امریکہ کا ویزا ہے، سکیورٹی کلیئرنس ہے۔ میں نے ان لوگوں کی منّت کی اور پوچھا کہ مجھے میرا قصور تو بتاؤ، لیکن کسی نے کچھ نہیں بتایا۔‘

حکام نے ثنا کو ایئرپورٹ پر روکنے کے حوالے سے فی الحال کوئی وضاحت نہیں دی ہے۔

’میرا کوئی پولیس ریکارڈ نہیں‘

کشمیر کی سینٹرل یونیورسٹی سے سنہ 2017 میں صحافت کی ڈگری لے کر ثنا متو نے مقامی اخباروں کے لیے فوٹوگرافی شروع کی اور بعد میں انھوں نے خبررساں ادارے روئٹرز کے ساتھ چند ماہ تک کام کیا۔

انھیں امریکی ادارے ’میگنم فاونڈیشن‘ سے فیلوشپ بھی ملی، جس کے تحت انھوں نے کشمیر میں کم سن نوجوانوں کی گرفتاریوں سے متعلق تحقیق کی۔

گذشتہ جولائی میں انھیں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہونے والی ایک فوٹو نمائش میں مدعو کیا گیا تھا، لیکن اُس وقت بھی اُنھیں نئی دلیّ کے ہوائی اڈّے سے ہی واپس کشمیر روانہ کر دیا گیا تھا۔

’میرا کوئی پولیس ریکارڈ نہیں، میرے خلاف کوئی ایف آئی آر نہیں ہے۔ میری باقاعدہ سکیورٹی ویریفکیشن (تصدیق) ہوئی ہے اور مجھے پاسپورٹ ملا ہے۔ میں نے کئی پولیس افسروں سے رابطے کیے ہیں، لیکن اکثر تو جواب نہیں دیتے اور جو جواب دیتے ہیں وہ کچھ خاص نہیں بولتے۔‘

مبینہ ’نو فلائی لِسٹ‘ کیا ہے؟

سنہ 2019 میں جب انڈین حکومت نے جموں کشمیر کی نیم خودمختاری کا خاتمہ کیا تو حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے طویل کرفیو، انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن، سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری اور دوسرے اقدامات کے ساتھ ساتھ معروف کشمیریوں کے غیرملکی سفر پر بھی غیر رسمی طور پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

جرمنی کے نشریاتی ادارہ ’ڈاچے ویلی‘ کے ساتھ وابستہ صحافی گوہر گیلانی، تجارتی انجمنوں کے ساتھ وابستہ بعض صنعت کاروں، وکلا، سماجی کارکنوں اور کئی دیگر صحافیوں کو گذشتہ تین برسوں کے دوران غیرملکی سفر کی اجازت نہیں دی گئی۔

ثنا کے علاوہ ایک اور خاتون صحافی رُوا شاہ جو ترکی کے نشریاتی ادارہ ’ٹی آر ٹی‘ کے ساتھ وابستہ ہیں، جیل میں بیمار اپنے والد کی خبرگیری کے لیے انڈیا لوٹیں تو انھیں واپس ترکی جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

اسی طرح برطانیہ کے معروف اخبار گارجیئن کے ساتھ وابستہ ایک نوجوان صحافی آکاش حسن سری لنکا میں سیاسی بحران کے دوران کولمبو کے لیے روانہ ہوئے تو انھیں بھی ایئرپورٹ پر روکا گیا۔

کشمیر کے سماجی حلقوں میں گذشتہ تین برس سے یہ افواہ گرم ہے کہ حکومت نے صحافیوں، انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں، وکلا اور بعض تاجروں پر مبنی ایک فہرست بنائی ہے اور اس فہرست میں شامل افراد کو بیرون ملک سفر کی اجازت نہیں دی جائے گی تاہم سرکاری طور پر اس کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا نہ کوئی افسر اس کی تصدیق کرتا ہے۔

خفیہ پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’کوئی لِسٹ وِسٹ نہیں ہے، لیکن قومی سلامتی کے معاملات میں جب بھی سسٹم کو لگتا ہے کہ کسی کا بیرون ملک جانا اُن کی کشمیر میں جاری قیام امن کی کوششوں کو ٹھیس پہنچا سکتا ہے تو کارروائی کی جاتی ہے۔‘

لیکن 2019 کے بعد نئی دلی سے شائع ہونے والے روزنامہ ’اِکنامِک ٹائمز‘ نے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا تھا کہ 450 افراد پر مشتمل ایک ’نو فلائی لِسٹ‘ ہے جس میں صحافی، تاجر، وکلا اور دوسرے سیاسی و غیرسیاسی کارکن ہیں تاہم حکام اس کی تصدیق نہیں کرتے ہیں۔

کشمیر میں سفر کے حقوق

کشمیر میں بیرون ملک سفر کرنا دہائیوں سے ایک مشکل ترین کام رہا ہے۔

پاسپورٹ کی درخواست کے بعد خواہش مند شخص کے بارے میں پولیس کی تین خفیہ ونگز جانچ کرتے ہیں۔ اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ کسی کا کوئی رشتہ دار اگر علیحدگی پسند کارکن ہے یا کوئی دُور دراز کا رشتہ دار کبھی مسلح شورش کے ساتھ وابستہ رہا ہے تو عموماً پاسپورٹ روکا جاتا ہے۔

مفتی سید اور غلام نبی آزاد کی حکومتوں کے دوران یہ سختیاں کم کی گئی تھیں تاہم گذشتہ تین برس سے بغیر کوئی وجہ بتائے معروف شخصیات کو بیرون ملک سفر سے روکا جاتا ہے۔

اس حوالے سے قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ حکومت یا حکومت کی کسی پالیسی کی تنقید بیرون ملک سفر سے روکنے کا جواز نہیں بن سکتا۔ اس سلسلے میں نئی دلّی کی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کا حوالہ دیا جاتا ہے جو اس نے تحفظ ماحولیات کے لیے سرگرم سماجی کارکن پرِیا پِلائی کی درخواست پر سُنایا تھا۔

پرِیا پلائی کو بھی بیرون ملک سفر سے روکا گیا تھا۔ کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ’اگر انتظامیہ کے کسی نظریے سے کوئی شہری اختلاف کرے اور اس کی تنقید کرے تو یہ آئینی حقوق میں شامل ہے۔‘

سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی جب گذشتہ برس پاسپورٹ کے لیے درخواست دی تو ان کی درخواست طوالت کا شکار ہوئی۔ انھوں نے بھی مقامی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے آئین میں موجود سفری حقوق کی شقوں کا حوالہ دیا تھا۔

صحافیوں کو بیرون ملک سفر کرنے سے روکنے کی کارروائیوں سے متعلق محبوبہ مفتی نے حالیہ دنوں اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ ’انڈیا کشمیر میں صحافت کو کرش (ختم) کرنا چاہتا ہے۔‘