شی جن پنگ کے اقتدار کے لیے مشکل کھڑی کرنا اتنا مشکل کیسے بنا

    • مصنف, گریس تسوئی اور سلویا چینگ
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس

کچھ ہی لوگوں نے یہ پیش بینی کی تھی کہ شی جن پنگ چین کے کئی دہائیوں میں سب سے بااثر رہنما بنیں گے۔ اب وہ اقتدار کی تیسری مدت کے حصول کے لیے بالکل تیار ہیں۔

ایک دہائی قبل شی جن پنگ کے بارے میں کم ہی جانا جاتا تھا، سوائے اس کے کہ وہ ایک ایسے ’شہزادے‘ ہیں جن کے والد ملک کے انقلابی رہنماؤں میں سے تھے۔

ان کے والد کی وجہ سے اُنھیں پارٹی کے کئی ’بڑوں‘ کی حمایت حاصل ہوئی جو کہ چائنیز کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) کے اندر طاقت کی سیڑھیاں چڑھنے کے لیے نہایت ضروری تھا کیونکہ یہ رہنما اکثر ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اتنے ہی بااثر ہوا کرتے تھے۔

بوسٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے چین کی اعلیٰ سطحی سیاست کے ماہر جوزف فیوسمتھ کہتے ہیں کہ ’اوپر آنے سے پہلے شی جن پنگ کو ہر کسی کے ساتھ سمجھوتہ کر لینے والا تصور کیا جاتا تھا۔‘

مگر 10 برس گزرنے کے بعد شی جن پنگ کے اثر و رسوخ میں کسی شک و شبہے کی گنجائش نہیں جبکہ ان کی طاقت کا کوئی ثانی نہیں۔ یہ سب کیسے ہوا؟

بندوق کی نالی

کمیونسٹ چین کے بانی ماؤ زے تنگ کا یہ جملہ نہایت مشہور ہے کہ ’سیاسی طاقت بندوق کی نالی سے حاصل ہوتی ہے۔‘

سنہ 1949 میں عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھنے کے بعد ماؤ نے یہ یقینی بنایا کہ پیپلز لبریشن آرمی کہلانے والی چینی فوج کی باگ ڈور ریاست کے بجائے پارٹی کے ہاتھ میں ہو۔ تب سے اب تک سی سی پی کا قائد سینٹرل ملٹری کمیشن (سی ایم سی) کا چیئرمین بھی ہوتا ہے۔

شی جن پنگ اپنے پیشرو ہو جِنتاؤ سے زیادہ خوش قسمت تھے کیونکہ وہ فوری طور پر ہی سی ایم سی کے سربراہ بن گئے تھے اور اُنھوں نے فوج میں سے مخالفین کے خاتمے میں ذرا وقت ضائع نہیں کیا۔

سب سے زیادہ ہلا کر رکھ دینے والا لمحہ سنہ 2014 اور 2015 میں آیا جب سی ایم سی کے سابق نائب چیئرمین شو کائہو اور پی ایل اے کے سابق جنرل گو بوشیونگ پر کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے۔

امریکہ کی نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی کے سینیئر فیلو جوئیل ووتھناؤ کہتے ہیں کہ مذکورہ افراد ’اس کارروائی سے پہلے ہی ریٹائر ہو چکے تھے مگر اُنھیں ہدف بنانے کی شی جنگ پنگ کی صلاحیت نے سابق چینی رہنما جیانگ زیمن کے پی ایل اے پر اثر و رسوخ کو کم کر دیا۔‘

’اس سے حاضرِ سروس ملٹری افسران کو بھی طاقتور پیغام گیا کہ شی جن پنگ کی مخالفت کرنے والا کوئی بھی شخص نقصان سے نہیں بچ پائے گا۔‘

پھر سنہ 2015 میں شی جن پنگ نے فوجی سٹرکچر میں بھی تبدیلی کر دی۔ اُنھوں نے سٹاف، سیاسی، نقل و حمل اور اسلحے کے چار ہیڈکوارٹرز ختم کر کے اُنھیں 15 اداروں سے بدل دیا۔

جوئیل ووتھناؤ کہتے ہیں کہ اس نئے سٹرکچر کے تحت اب سینٹرل ملٹری کمیشن فوج کے کسی بھی شعبے کو براہِ راست احکامات جاری کر سکتے ہیں جن میں مالیاتی آڈیٹرز بھی ہیں، جو اب براہِ راست سی ایم سی کو رپورٹ کرتے ہیں۔

اس سب سے بڑھ کر شی جن پنگ سے غیر متزلزل وفاداری پر بھی زور دیا جاتا ہے۔ گذشتہ ماہ پیپلز لبریشن آرمی کے اخبار نے ایک مضمون شائع کیا جس میں زور دیا گیا کہ سی ایم سی ہی کمانڈ میں ہے۔

امریکی تھنک ٹینک ’رینڈ کارپوریشن‘ میں سینیئر عالمی دفاعی محقق ٹموتھی ہیتھ نے کہا کہ ’یہ پیغام فوج میں پی ایل اے کے ایسے سینیئر رہنماؤں سے وفاداری کی حوصلہ شکنی کے لیے ہے جو کبھی شی جنگ پنگ کی مخالفت کر سکتے ہیں۔‘

اُنھوں نے کہا کہ ’پارٹی سے وفاداری کا مطلب یہ ہے کہ پارٹی اور بالخصوص شی جن پنگ کو اقتدار میں رکھنے کے لیے پی ایل اے سے ہر کسی حکم کی پاسداری کی توقع کی جاتی ہے۔‘

وفاداری سب سے پہلے

بندوق کی نالی اپنے کنٹرول میں کر لینے کے بعد جو اگلی چیز ضروری ہے، وہ ہے چھری یعنی اندرونی سکیورٹی ذرائع پر مکمل کنٹرول۔

شی جن پنگ کے اقتدار میں آنے کے دو برس بعد حکام نے ایک ’ٹائیگر‘ کی گرفتاری کا دعویٰ کیا جو سابق داخلی سکیورٹی سربراہ ژو یونگ کانگ تھے۔ اُن پر کرپشن کا الزام عائد کیا گیا۔ وہ صدر شی کے مخالف ایک اور ’شہزادے‘ بو ژیلائی سے قریبی طور پر منسلک تھے۔

ان تحقیقات نے سیاسی اتھل پتھل مچائی کیونکہ اس سے پہلے تک یہ تصور کیا جاتا تھا کہ اعلیٰ ترین فیصلہ ساز پولٹبیورو سٹینڈنگ کمیٹی کے ارکان کو فوجداری سزاؤں کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

یوریشیا گروپ میں چین کے سینیئر تجزیہ کار نیل تھامس کہتے ہیں کہ ’شی جن پنگ بے رحم حد تک قابل سیاست دان واقع ہوئے ہیں جو اپنا حقِ حکمرانی جتانے سے پہلے آہستگی سے سسٹم میں اوپر بڑھتے رہے۔‘

’کمیونسٹ پارٹی کے جن بڑوں نے شی کی حمایت کی تھی وہ ممکنہ طور پر اقتدار پر ان کی گرفت کی رفتار اور وسعت دیکھ کر حیران ہوئے ہوں گے۔‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ شی جن پنگ کی پہچان یعنی ان کی کرپشن مخالف مہم کو پارٹی میں سے ان کے سیاسی مخالفین اور دیگر افراد کو نکالنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

گذشتہ ایک دہائی میں 47 لاکھ سے زیادہ افراد کے خلاف کرپشن کی تحقیقات کی گئی ہیں۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سین ڈیاگو میں پولیٹیکل سائنٹسٹ وکٹر شیہ نے کہا کہ ’گذشتہ دو برس میں شی نے مزید کریئر سکیورٹی اہلکاروں کو باہر نکالا ہے جنھوں نے شروعات میں ان کے اقتدار کی حمایت کی تھی۔ اب سکیورٹی ادارے تقریباً صرف وہی لوگ چلاتے ہیں جن کا شی کے ساتھ ماضی جڑا رہا ہے اور جو بظاہر ان کا اعتماد رکھتے ہیں۔‘

اس کے علاوہ شی جن پنگ نے بیجنگ، شنگھائی اور چونگ چنگ جیسے اہم شہروں میں پارٹی سیکریٹری جیسے اہم عہدوں پر بھی اپنے وفاداروں کو بھرتی کر رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نیل تھامس کہتے ہیں کہ یہ عہدے اس لیے اہم ہیں کیونکہ یہ ’کروڑوں لوگوں کے شہروں میں پارٹی کی مرکزی ہدایات کی تشریح اور نفاذ کے ذمہ دار ہیں۔‘

تھامس کہتے ہیں کہ 31 صوبائی پارٹی سیکریٹریز میں سے کم از کم 24 شی جن پنگ کے سیاسی ساتھی ہیں جو پہلے سے ان کے خاندان کو جانتے ہیں، ان کے ساتھ پڑھ چکے ہیں، ان کے نیچے یا ان کے کسی قریبی ساتھی کے نیچے کام کر چکے ہیں۔

کینیڈا کی وکٹوریا یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر وو گوگوانگ کے مرتب کردہ ڈیٹا کے مطابق اس دوران صوبائی قائمہ کمیٹیوں کے تقریباً 281 ارکان کو پروموٹ کر دیا گیا۔

ذاتی برانڈ

سنہ 2018 میں ’نئے دور کے لیے چینی خصوصیات کے حامل سوشلزم پر شی جن پنگ کے تصور‘ کو چین کے آئین کا حصہ بنا دیا گیا۔

یہ فقرہ سننے میں تو بہت طویل ہے مگر اپنے نام کا ایک تصور پیش کر کے صدر شی جن پنگ نے اپنا سیاسی ورثہ بھی ہمیشہ کے لیے قائم کر دیا ہے۔

ان سے پہلے صرف چیئرمین ماؤ ہی یہ حاصل کر پائے تھے۔ یہاں تک کے چینی جدت پسندی کے معمار کہلانے والے ڈینگ ژیاؤپنگ بھی صرف ایک ’نظریہ‘ ہی پیش کر سکے تھے جبکہ صدر شی کے پیش رو جیانگ زیمن اور ہو جنتاؤ کے ناموں کے ساتھ کوئی نظریہ یا خیال نہیں جڑا تھا۔

اس بات پر بحث ہوسکتی ہے کہ شی جن پنگ کے تصور کا واقعتاً کیا مطلب ہے مگر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مقصد یہ نہیں بلکہ یہ طاقت پر گرفت مضبوط کرنے کا اقدام ہے۔

ہانگ کانگ باپٹسٹ یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر ایمریٹس ژاں پیغ کیبستان کہتے ہیں کہ ’شی کے تصور کا مقصد یہ ہے کہ اپنے اقتدار کو سی سی پی یا ملک کے کسی بھی شخص سے زیادہ مضبوط اور جواز کا حامل بنایا جائے۔ یہ ایک نئی شخصیت پرستی ہے جو نہ صرف شی کو ماؤ سے منسلک کر دیتی ہے بلکہ گزرے برسوں کے سب سے کامیاب چینی بادشاہوں سے بھی۔‘

ہانگ کانگ کے اخبار مِنگ پاؤ کے مطابق درجنوں یونیورسٹیوں اور اداروں مثلاً پیکنگ یونیورسٹی اور سِنگہوا یونیورسٹی نے صدر شی جن پنگ کے نام پر اپنے تحقیقی مراکز کے نام رکھے ہیں۔

اگست میں وزارتِ تعلیم نے قومی نصاب میں شی جن پنگ کے تصورات کو فروغ دینے کا ایک پلان بنایا۔

سنہ 2019 میں ایک ایپ لانچ کی گئی جس کا نام ژوئے شی، چیانگ گوؤ یعنی ’شی سے سکھیں، ملک کو مضبوط بنائیں‘۔

اس ایپ میں شی جن پنگ کے خیالات پر کوئز ہیں۔

کولمبیا یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر اینڈریو نیتھن کہتے ہیں کہ ’شی جن پنگ کا ماننا ہے کہ ان کے پاس درست نظریہ ہے اور سب کو یہ قبول کرنا چاہیے۔ جب بھی ماؤ کوئی پالیسی مؤقف اختیار کرتے، ہر کسی کو اسے تسلیم کرنا پڑتا تھا۔ صدر شی کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہے۔‘

خاکہ نگاری: ڈیویز سوریا