اکبر بادشاہ کی محبوب بیوی جن کی خاطر انھوں نے گائے کا گوشت کھانا ترک کیا

    • مصنف, ریحان فضل
    • عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی

ہندوستان پر 300 سال تک حکومت کرنے کے باوجود ہندوستان کی تاریخ کی کتابوں اور میڈیا میں مغل بادشاہوں سے متعلق دستیاب معلومات میں بہت سی خامیاں پائی جاتی ہیں۔

تقسیم ہند کے 75 سال کے دوران مغل بادشاہ اکبر کی زندگی کا احاطہ کرنے کی غرض سے بالی وڈ میں دو بڑی فلمیں بنائی گئی ہیں۔ پہلی ہدایتکار کے آصف کی فلم ’مغل اعظم‘ اور دوسری آشوتوش گواریکر کی فلم ’جودھا اکبر۔‘

فلم ’جودھا اکبر‘ میں اکبر اور اُن کی اہلیہ جودھا کی فرضی کہانی کو دکھایا گیا ہے۔

اس کہانی کو فلمانے سے پہلے فلم پروڈیوسر گواریکر نے کئی تاریخ دانوں سے مشورہ کیا تھا۔ لگ بھگ ان تمام تاریخ دانوں یک آواز ہو کر کہا کہ ’اکبر کی جودھا بائی نامی کوئی بیوی نہیں تھی۔‘

لیکن جب فلم تیار ہوئی تو ’جودھا اکبر‘ کی کہانی پر تاریخ دانوں کی تنبیہ کا کوئی اثر نظر نہیں آیا۔

سادہ الفاظ میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ بالی وڈ کی اچھی کہانی کو فلمانے کی راہ میں حقائق آڑے نہیں آتے!

اکبر پر حال ہی میں شائع ہونے والی سوانح عمری ’اللہ اکبر: انڈرسٹینڈنگ دی گریٹ مغل ان ٹوڈیز انڈیا‘ میں منی مگدھ ایس شرما لکھتے ہیں کہ ’فلم جودھا اکبر نے جودھا بائی کو راجہ بھارمل کی بیٹی اور اکبر کی اکلوتی بیوی کے طور پر پیش کیا ہے۔ دراصل، راجہ بھارمل کی بیٹی ہرکھا بائی اکبر کی چوتھی بیوی تھیں۔‘

شرما کے مطابق: ’اکبر اپنی پہلی بیوی رقیہ کے سب سے زیادہ قریب تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اُن کی بچپن کی سہیلی اور کزن تھیں۔ وہ رتبہ اور درجہ میں اُن کے برابر تھیں۔ انھیں مغل کا خطاب اکبر سے شادی کے بعد نہیں ملا بلکہ وہ پیدائشی طور پر مغل تھیں۔‘

اکبر کی مدد کے بدلے بھارمل نے ہرکھا سے ان کی شادی کرائی

ہرکھا بائی ریاست آمیر کے راجہ بھارمل کی بیٹی تھیں۔ آمیر ایک چھوٹی سی ریاست تھی جہاں وراثت کی جنگ جاری تھی۔

آمیر کے تخت پر حق کے لیے راجہ بھارمل اپنے بھائی پورن مل کے ساتھ جدوجہد کر رہے تھے۔ ان کا پڑوسی راٹھور گھرانہ بھی اُن کی سلطنت پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔

راجہ بھارمل کے بھائی کو مغل گورنر مرزا شرف الدین حسین کی حمایت حاصل تھی۔

اکبر کی ایک اور سوانح عمری ’اکبر دی گریٹ مغل: دی ڈیفینیٹو بائیوگرافی‘ لکھنے والی ایرا مکھوتی لکھتی ہیں کہ ’راجہ بھارمل اچھی حکمت عملی کے ماہر تھے۔ انھوں نے اپنے بھائی پر قابو پانے کے لیے اکبر سے مدد طلب کی اور اپنی بیٹی ہرکھا سے ان کی شادی کی تجویز پیش کی۔ اس سے پہلے بھی کئی بار راجپوت خاندان اپنی بیٹیوں کی شادی جیتنے والے حریفوں سے کرتے تھے۔‘

اکبر نے راجہ بھارمل کا پیغام قبول کیا اور اپنے گورنر مرزا شرف الدین حسین کو راجہ بھارمل کے اسیر رشتہ داروں کو رہا کرنے کی ہدایت کی۔

اکبر نے ہرکھا کا مذہب تبدیل نہیں کرایا

اکبر نے اجمیر سے واپس آتے ہوئے سانبھر میں 20 سالہ ہرکھا بائی سے شادی کی۔ اکبر نے وہاں سے آگرہ تک 200 کلومیٹر کا راستہ تین دن میں طے کیا تھا۔

ان کی اہلیہ کے بھائی بھگونت داس اور بھتیجا مان سنگھ بھی ہرکھا بائی کے ساتھ آگرہ آئے۔ اس شادی نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ہرکھا بائی کے والد کو اُن کی سلطنت واپس مل گئی اور ان کے مخالفین کو شکست کا منھ دیکھنا پڑا۔

ایرا مکھوتی اپنی دوسری کتاب ’ڈاٹرز آف دی سن‘ میں لکھتی ہیں کہ ’ہرکھا بھاری اور گھیر دار ٹخنوں تک کا گھاگھرا اور چولی پہنے ہوئے آگرے میں اُتریں۔ ان کے سر اور کندھے ایک چمکدار نقاب سے ڈھکے ہوئے تھے لیکن ان کے بازوؤں پر کوئی کپڑا نہیں تھا۔‘

اکبر نے ہرکھا بائی کا نیا نام ’مریم الزمانی‘ رکھا۔

سنہ 1562 میں ہرکھا بائی جو اکبر کے حرم میں داخل ہوئیں تو انھیں اُن کے ساتھ اُن کے تمام رسوم و عقائد کو لانے کی اجازت دی گئی۔

وہ اکبر کی پہلی غیر مسلم بیوی تھیں جنھوں نے مذہب تبدیل نہیں کیا تھا۔

عبدالقادر بدایونی اپنی کتاب ’منتخب التواریخ‘ میں لکھتے ہیں کہ ’ہرکھا کا بھائی اور بھارمل کا جانشین بھگونت داس اور ان کے 11 سالہ بھتیجے مان سنگھ نے بھی اکبر کے دربار میں شمولیت اختیار کی۔ جب ہرکھا کا بیٹا سلیم مرزا بادشاہ کا جانشین بنا تو ان کی بھگونت داس کی بیٹی اور ان کی بھتیجی سے شادی ہوئی تو اکبر نے بہو کے گھر میں تمام ہندو رسومات میں حصہ لیا۔‘

وہ لکھتے ہیں کہ ’شہنشاہ اکبر نے شہزادی کے گھر سے لے کر محل تک سونے کے سکوں کو اچھالنے کا حکم دیا، اتنی بڑی تعداد میں سکے لٹائے گئے کہ انھیں اٹھا اٹھا کر لوگوں کے ہاتھ دُکھنے لگے۔‘

اکبر نے ہرکھا بائی کی وجہ سے گائے کا گوشت کھانا ترک کیا

یہ ہرکھا بائی کا اثر تھا کہ اکبر نے نہ صرف خود گائے کا گوشت کھانا چھوڑ دیا بلکہ اپنے دربار کے لوگوں پر بھی گائے کا گوشت کھانے پر پابندی لگا دی۔

اکبر کے اس فیصلے سے افسردہ خاطر ہو کر مؤرخ بدایونی نے لکھا: ’اکبر کی ہندوؤں کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے ہی انھوں نے گائے کا گوشت، لہسن اور پیاز کھانے پر پابندی لگا دی تھی۔ وہ ان لوگوں سے رابطہ کرنے میں ہچکچانے لگے جو داڑھی رکھتے تھے۔‘

وہ لکھتے ہیں کہ ’اکبر نے ایک اور عادت ڈال لی تھی، اور وہ تھی سال کے چند مہینے گوشت نہ کھانا۔‘

ابوالفضل نے ’اکبر نامہ‘ میں اکبر کی اس نئی عادت کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’عالی جاہ اب گوشت کو پسند نہیں کرتے اور اس پر کُھل کر بات کرتے ہیں۔ وہ صرف گنگا جل پیتے ہیں جو خاص طور پر ان کے لیے کاس گنج کے قریب سورون سے منگوایا جاتا ہے۔ وہ پہلے سے ہی روزے رکھا کرتے تھے، بعد میں آہستہ آہستہ ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔‘

اکبر نے ہندوؤں کی مقدس کتابوں ’مہا بھارت‘ اور ’رامائن‘ کا ترجمہ کروانے کا بیڑا اٹھایا۔ انھوں نے جان بوجھ کر ’مہا بھارت‘ کے ترجمے کی ذمہ داری تنگ نظر بدایونی کو سونپ دی۔

ایرا مکھوتی لکھتی ہیں کہ ’اکبر نامہ کے لیے بشن داس کی بنائی گئی منی ایچر پینٹنگ میں حمیدہ بانو بیگم کو اپنی بہو ہرکھا بائی کے پاس ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ پینٹنگ میں دکھایا گیا ہے کہ ہرکھا بائی نے ایک چھوٹے بچے سلیم کو اپنے ہاتھ میں اٹھا رکھا ہے۔ ان کی رنگت اپنی ساس کے مقابلے میں سانولی ہے۔ یہ شاید واحد پینٹنگ ہے جس میں مغل ملکہ کو پردے کے بغیر دکھایا گیا ہے۔‘

ہرکھا بائی سے شادی کے علاوہ اکبر کی شخصیت اور ان کی بادشاہت میں بہت کچھ دلچسپی کا حامل ہے جس کی ایک جھلک ذیل میں پیش کی جا رہی ہے۔

اکبر مضبوط جسم کے مالک تھے

اپنے والد اکبر کے حلیے کا ذکر کرتے ہوئے جہانگیر نے بتایا تھا کہ ’اُن کی رنگت گندمی تھی۔ اُن کی آنکھیں اور پلکیں کالی تھیں۔ ان کا قد درمیانہ تھا اور جسم مضبوط تھا۔ ان کے بازو لمبے اور سینہ چوڑا تھا۔‘

ان کی ناک کے بائیں جانب مٹر کے آدھے دانے کے برابر ایک بڑا تل تھا جو خوش قسمتی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ ان کی آواز بہت بھاری تھی جسے سُن کر اچھا لگتا تھا۔

جہانگیر اپنی سوانح عمری ’تزکِ جہانگیری‘ میں لکھتے ہیں کہ ’اکبر کی پیشانی چوڑی تھی۔ اُن کی پلکیں لمبی تھیں۔ ان کے نتھنے بھی چوڑے تھے۔ انھوں نے داڑھی منڈوائی تھی لیکن ان کی چھوٹی مونچھیں ہوا کرتی تھیں۔ ان کے بال لمبے ہوا کرتے تھے۔ اپنی بائیں ٹانگ سے لنگڑا کر چلتے تھے۔ انھیں اونٹ، عربی گھوڑے، کبوتر اور شکاری کتے بہت پسند تھے۔‘

جہانگیر لکھتے ہیں: 'بندوق سے نشانہ لگانے میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ جب ہمایوں نے انھیں ہاتھی پیش کیا تو انھیں ہاتھی پر سوار ہونے کا شوق چڑھ گیا۔ شہنشاہ بننے کے بعد جب وہ صرف 14 سال کے تھے تو انھوں نے ایک ’مست‘ ہاتھی پر سواری کی تھی۔‘

شاہی دسترخوان میں انواع و اقسام کے پکوان

اکبر کی یادداشت حیرت انگیز تھی۔ وہ دن میں صرف ایک بار کھانا کھاتے تھے۔ اس کے لیے بھی کوئی وقت مقرر نہیں تھا۔

کھانوں کی تاریخ کی ماہر سلمیٰ حسین لکھتی ہیں کہ ’اکبر کے شاہی حکیم یہ فیصلہ کرتے تھے کہ وہ کیا کھائیں گے۔ کھانے میں یخنی، بُھنی ہوئی چکن، دو پیازہ اور دھیمی آنچ پر پکا ہوا گوشت یعنی دم پخت، نان، دہی، لیموں اور سالن ہوتا تھا۔ 30 قسم کے اچار اور چٹنیوں کے ساتھ انھیں دسترخوان پر پیش کیا جاتا تھا۔‘

وہ لکھتی ہیں کہ ’ان کے دسترخوان کی ایک خاص ڈش ’مرغ زمیندوز‘ تھی جس میں چکن کو آٹے میں لپیٹ کر زمین کے نیچے پکایا جاتا تھا۔ اس میں ادرک، دار چینی، کالی مرچ، زیرہ، لونگ، الائچی اور زعفران کا استعمال کیا جاتا تھا۔‘

اکبر کے کھانے میں سرخ مرچ، آلو اور ٹماٹر نہیں ہوتے تھے کیونکہ اس وقت تک وہ شمالی ہندوستان تک نہیں پہنچے تھے۔ اس کے علاوہ شاہی کچن میں کلونجی، سرسوں اور تلوں کے بیج اور کڑھی کے پتے بھی استعمال نہیں ہوتے تھے۔

ابوالفضل لکھتے ہیں: ’اکبر کو خربوزے کا بہت شوق تھا اور سال بھر اس کے لیے دنیا کے کونے کونے سے خربوزے منگوائے جاتے تھے۔‘

یہ بھی پڑھیے

اکبر کا حکم تھا کہ ہر روز ان کے لیے تیار کردہ کھانے کا کچھ حصہ غریبوں کو کھلایا جائے۔

اکبر کے لیے ہر سال ایک ہزار جوڑے کپڑے سلے جاتے تھے۔ ان میں سے 120 کپڑوں کے جوڑے ہمیشہ دس کے بنڈل میں پہننے کے لیے تیار رکھے جاتے تھے۔

اکبر زیادہ تر ریشمی کپڑے پہنتے تھے، جن پر سونے کے تاروں سے کڑھائی کی گئی تھی۔ اکبر کو موتی پہننے کا بھی شوق تھا۔

اکبر کا جھروکھا درشن

اکبر رات کو بہت کم سوتے تھے۔ ان کی ہر سالگرہ پر انھیں بارہ قسم کی چیزوں سے تولا جاتا تھا جس میں سونا، کپڑے، گھی اور مٹھائیاں شامل تھیں۔ بعد میں یہ تمام چیزیں غریبوں میں تقسیم کر دی جاتی تھیں۔

ایس ایم برکے اپنی کتاب ’اکبر دی گریٹسٹ مغل‘ میں لکھتے ہیں کہ ’ہر صبح اکبر پہلی عوامی تقریب میں لوگوں کو اپنے محل کی کھڑکی سے دیکھتے تھے۔ لوگوں کا ہجوم ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے محل کے باہر پہلے سے ہی جمع ہو جاتا تھا۔‘

وہ لکھتے ہیں کہ ’فتح پور سیکری میں یہ روایت تھی کہ لوگ جب تک شہنشاہ کو نہ دیکھ لیتے نہ منھ دھوتے تھے نہ کچھ کھاتے پیتے تھے۔ اس رسم سے لوگوں کو نہ صرف یہ تاثر ملتا تھا کہ شہنشاہ زندہ ہے بلکہ وہ لوگوں کو ان کے قریب لاتا تھا۔ جب بھی اکبر کا دربار ہوتا تھا لوگوں کو ڈھول پیٹ کر اس کی اطلاع دی جاتی تھی۔‘

روزانہ طلوع سے پہلے اکبر کو موسیقی کی آواز سے بیدار کیا جاتا تھا۔ اکبر سونے سے پہلے اپنا وقت فلسفیوں، صوفیا اور مؤرخین کے درمیان گزارتا تھے۔ انھیں اپنے ہر ہاتھی، گھوڑے، ہرن اور کبوتروں کے نام یاد تھے جبکہ ان کے پاس ہزاروں ہاتھی تھے۔

اکبر کے دربار کا پروٹوکول

جب بھی اکبر کا کھلا دربار منعقد ہوتا تو تمام حاضرین نے اس کے سامنے 'کورنش' میں سر جھکاتے اور اپنی مقررہ جگہ پر کھڑے رہتے تھے۔

ایس ایم برک لکھتے ہیں کہ ’تخت کے پاس عمر کے لحاظ سے شہزادوں کی جگہ ہوتی تھی، لیکن یہ قاعدہ اکثر ٹوٹ جاتا تھا کیونکہ اکبر اکثر چھوٹے شہزادوں کو اپنے ساتھ کھڑا کر لیتے تھے۔ دربار کے دوران اکبر سونے اور چاندی کے سکوں کا ایک ڈھیر اپنے پاس رکھتے تھے، جسے وہ وقتاً فوقتاً اپنی مٹھی میں لے کر بطور خیرات اور تحفے میں دیا کرتے تھے۔‘

بدایونی ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ہلدی گھاٹی کی لڑائی کے بعد جب اکبر کے سامنے رام پرساد ہاتھی کو پیش کیا گيا تو انھوں نے اسے بھی سونے کے چند سکے تحفے میں دیے تھے۔

بدایونی لکھتے ہیں کہ ’اکبر نے اپنے ہاتھ اشرفیوں کے ڈھیر میں ڈالے اور 96 اشرفیاں میرے ہاتھوں میں رکھ دیں۔‘

اکبر کو کبوتر اڑانے کا بہت شوق تھا۔ ان کے پاس 20 ہزار سے زیادہ کبوتر تھے۔ اکبر کا پرندوں سے لگاؤ دیکھ کر ایران اور توران کے حکمران انھیں کبوتر کے تحفے بھیجتے تھے۔ شکار اور پولو کھیل اکبر کے لیے تفریح کا اہم ذریعہ تھے۔

ابوالفضل ’آئین اکبری‘ میں لکھتے ہیں کہ ’کئی ہزار لوگوں کو دریائے جہلم کی طرف ایک بڑے علاقے میں جانوروں کے ریوڑ کو اکٹھا کرنے کے کام پر لگایا جاتا تھا۔ یہ مہم تقریباً ایک ماہ تک جاری رہتی۔ جب یہ جانور تقریباً 10 میل کے دائرے میں آ جاتے تو اکبر ان کے شکار کے لیے نکلتے تھے اور یہ سلسلہ تقریباً پانچ دنوں تک جاری رہتا تھا۔ اکبر شکار کے لیے تیر، تلوار، نیزے اور بندوقیں استعمال کرتے تھے۔

اکبر کا غصہ

اکبر اگرچہ بہت ملنسار تھے لیکن جب وہ غصے میں آتے تھے تو انھیں قابو کرنا بہت مشکل ہوتا تھا۔ ان کے نتھنے پھولنے لگتے اور آنکھوں سے آگ برسنے لگتی۔ وہ بعض اوقات ہندی میں فحش گالیوں کا استعمال کرتے جسے ان کے سوانح نگار ابوالفضل نے جان بوجھ کر ریکارڈ سے نہیں ہٹایا۔

دربار میں کسی بھی قسم کی گستاخی کی سخت سزا دی جاتی۔ انھوں نے اپنے والد ہمایوں کے ذاتی دوست شاہ عبدالمالک کو اکبر کا احترام کرتے ہوئے گھوڑے سے نہ اترنے کی سزا دی تھی۔

ایک اور درباری لشکر خان کو اور بھی سخت سزا دی گئی جب وہ دن کے وقت شراب پی کر دربار میں آ گئے تھے۔

ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ابوالفضل لکھتے ہیں کہ ’اکبر نے خود ایک بار ادھم خان کو اپنے ہاتھوں سے گھونسا مارا اور اسے محل کی بالکونی سے نیچے پھینک کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ادھم خان کو یہ سزا اٹکا خان کو قتل کرنے پر دی گئی تھی۔‘

وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’ایک دفعہ جب وہ بغیر بتائے تخت والے کمرے میں داخل ہوئے تو وہاں تمام نوکروں کو غائب پایا۔ مشعل روشن کرنے والا صرف ایک ملازم وہاں موجود تھا اور وہ بھی سو رہا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر اکبر کو اتنا غصہ آیا کہ انھوں نے مشعل جلانے والے کو مینار سے دھکا دلوا کر موت کی سزا دی تھی۔‘

ایرا مکھوتی لکھتی ہیں کہ ’اکبر کو جب کسی خاص شخص کو اپنے پاس بلانا ہوتا تھا تو وہ ان کے لیے ’خلعت‘ بھیجتے تھے جو کبھی لمبے گاؤن کی شکل میں ہوتا تھا تو کبھی پگڑی، شال یا سکارف کی شکل میں۔

دربار کا یہ دستور تھا کہ جیسے ہی کسی شخص کو خلعت ملتی تو اسے بادشاہ کے سامنے اسی طرح جھکنا پڑتا تھا جیسا کہ بادشاہ اس کے سامنے کھڑا ہو، خواہ وہ اس وقت کہیں بھی ہو۔‘

وہ لکھتی ہیں: ’اکبر بعض اوقات جذباتی بھی ہو جاتے تھے اور اپنے قریبی اور خاندان کے کسی فرد کی موت پر کھل کر روتے تھے۔‘

تلسی داس، سورداس اور تان سین اکبر کے زمانے میں تھے

اکبر کے زمانے میں ہندی کے سب سے بڑے شاعر تلسی داس ہوا کرتے تھے۔ اگرچہ ان کا شاہی دربار سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن اس ماحول سے ان کی مدد ضرور ہوئی جہاں ہر قسم کی ادبی سرگرمیون کی قدر کی جاتی تھی۔

اکبر کے زمانے میں ایک اور ہندی شاعر سورداس بھی تھے۔ ابوالفضل نے اپنی کتاب میں ان کا ذکر کیا ہے۔ اکبر کو موسیقی سے بھی دلچسپی تھی۔ ان کے دربار کا سب سے مشہور موسیقار تان سین تھے۔

ابوالفضل ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ان جیسا موسیقار ہندوستان میں پچھلے ایک ہزار سال میں پیدا نہیں ہوا۔ جب تان سین نے شاہی دربار میں پہلی بار اپنی دھنیں سنائیں تو اکبر نے انھیں دو لاکھ روپے کا انعام دیا۔

اکبر کے دربار میں آنے والے فرانسیسی سیاح فادر پیے دو جاریک نے لکھا کہ ’جیسے جیسے وقت آگے بڑھتا گیا، اکبر نے ملحد ہونے کے آثار دکھانا شروع کر دیے تھے۔‘