ایران میں احتجاج: تہران میں یونیورسٹی کے طلبا اور پولیس میں جھڑپیں

ایران میں سوشل اور سرکاری میڈیا کی رپورٹس کے مطابق دارالحکومت تہران کی معروف درسگاہ شریف یونیورسٹی کے طلبا اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ شریف یونیورسٹی کے طلبا کی ایک بڑی تعداد اس وقت کیمپس کی کار پارکنگ میں پھنسی ہوئی ہے۔

سوشل میڈیا پر اس حوالے سے دکھائی دینے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طلبا سکیورٹی فورسز سے دور بھاگ رہے تھے جس سے پہلے گولیاں چلنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ایران میں ستمبر کے مہینے میں اخلاقی پولیس کے ہاتھوں حراست میں لی گئی ایک خاتون کی ہلاکت کے بعد حکومت مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔

یاد رہے کہ مبینہ طور پر سر ڈھانپنے کے حوالے سے سخت قوانین کی پابندی نہ کرنے کے الزام میں اخلاقی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے والی 22 سالہ ایرانی خاتون مہسا امینی جنھیں ژینا بھی کہا جاتا تھا جمعے کو ہلاک ہو گئی تھیں۔

عینی شاہدین کا دعویٰ تھا کہ مہسا امینی کو پولیس وین کے اندر اس وقت مارا پیٹا گیا جب انھیں منگل کو تہران سے حراست میں لیا جا رہا تھا۔

پولیس نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امینی کو 'اچانک دل کا عارضہ لاحق ہو گیا تھا۔'

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں شریف یونیورسٹی کے کیمپس میں طلبا کو سکیورٹی فورسز سے بھاگتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ بظاہر گولیوں کی طرح کی آوازیں دور سے سنی جا سکتی ہیں۔

ایک اور ویڈیو میں دیکھا گیا ہے کہ موٹر سائیکلوں پر سوار سکیورٹی اہلکار بظاہر ایک ایسی گاڑی پر فائرنگ کر رہے ہیں جس میں سوار شخص ویڈیو بنا رہا ہے۔

ایسی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ پولیس آنسو گیس کا استعمال کر رہی ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ اتوار کو شریف یونیورسٹی میں بہت سے طلبا پہلی بار آئے ہیں۔ ہنگامہ آرائی کی خبریں موصول ہونے کے بعد کیمپس کے گیٹ پر رات گئے لوگوں کا ہجوم اکھٹا ہوا۔

تاہم بی بی سی آزادانہ طور پر یونیورسٹی کے حوالے سے سامنے آنے والی خبروں کی تصدیق نہیں کر سکی۔

یہ بھی پڑھیے

ایک عینی شاہد نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ طالبات کے ہاسٹل کا دروازہ بند کر دیا گیا اور انھیں باہر جانے کی اجازت نہیں دی۔ لیکن اجتماع اور نعرے بازی کی آواز ہاسٹل کے باہر سے سنی جا سکتی ہے۔

بی بی سی فارسی سروس کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ شریف یونیورسٹی کے طلبا کی حمایت کے لیے جانے والی کاروں کی آمدورفت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ سکیورٹی فورسز نے شریف یونیورسٹی کی طرف جانے والی کم از کم ایک سڑک کو بند کر دیا ہے۔

ایران کی خبر رساں ایجنس یکے مطابق پولیس نے ’پریشان کن عناصر‘ کے جمع ہونے کے بعد آزادی سٹریٹ کو بند کر دیا۔

ایران ہیومن رائٹس، جو کہ ناروے میں موجود ایک این جی او ہے، کا کہنا ہے کہ ایران میں حالیہ مظاہروں کے نتیجے میں 133 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایرانی حکام مظاہرین سے سختی سے نمٹنے کے عزم کا اعلان کر چکی ہیں۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ ایران میں یہ صورتحال بیرونی دشمنوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔