ارشدیپ سنگھ: 'خالصتان مہم انڈیا کے خلاف 'ففتھ جنریشن' کی جنگ ہے'

    • مصنف, نیاز فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی

ایک اور انڈیا پاکستان کرکٹ میچ اور ایک اور تنازع۔ اس بار اس کی شروعات انڈین بالر ارشدیپ سنگھ کے ذریعے ڈراپ کیے گئے کیچ سے ہوئی جس کے نتیجے میں انھیں ٹویٹر اور ویکی پیڈیا پر ’خالصتانی‘ کہا گیا۔

لیکن فی الحال اس تنازع نے ایک نیا رُخ لے لیا ہے۔ انڈیا میں سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے کہ آخرکار ارشدیپ سنگھ کو ’خالصتانی‘ کس نے کہا؟ کئی صارفین نے الزام لگایا کہ ٹویٹر پر اُن کی ٹرولنگ اور ویکی پیڈیا پر ان کے تعارف میں ترمیم درحقیقت ’پاکستان سے ہوئی‘ ہے۔

سرکاری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے صحافی پلّوی گھوش نے کہا کہ ’ارشدیپ سنگھ کے خلاف ٹویٹس کی سیریز کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے اور اس کا پتہ لگایا جا رہا ہے۔ فی الحال ایسا لگتا ہے کہ یہ پاکستان سے آئے ہیں۔ اسے (ٹویٹ کو) مزید آگے نہیں بڑھایا جانا چاہیے۔‘

صحافی سدھیر چودھری نے ٹویٹ کیا کہ ’ٹیم انڈیا کے کرکٹر ارشدیپ سنگھ کے ویکی پیڈیا پیج میں ترمیم کی گئی اور جان بوجھ کر لفظ ’خالصتان‘ کا تعارف کیا گیا۔ آئی پی (جس کی مدد سے انٹرنیٹ سے جڑے کسی بھی کمپیوٹر یا موبائل کی شناخت کی جا سکتی ہے) کی تفصیلات بتاتی ہیں کہ یہ پاکستان سے ہو رہا ہے۔ محمد شامی کے بعد پاکستان کی جانب سے سوشل میڈیا ہینڈل اب نوجوان ارشدیپ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔‘

یہ واضح کر دیں کہ حالانکہ آئی پی ایڈریس کی مدد سے انٹرنیٹ سے جڑے کسی بھی کمپیوٹر یا موبائل کی شناخت کی جا سکتی ہے لیکن وی پی این نامی ٹیکنالوجی کی مدد سے شناخت کو بدلا بھی جا سکتا ہے۔

بی بی سی اس کی تصدیق نہیں کر سکی کہ ارشدیپ کے تعارف میں ترمیم کس نے اور کہاں سے کی۔

ایک اور ٹویٹ میں چودھری نے مزید کہا کہ ’ہمارے کھلاڑی ارشدیپ سنگھ کے خلاف خالصتان مہم انڈیا کے خلاف ’ففتھ جنریشن‘ یعنی 5ویں نسل کی جنگ ہے۔‘

ویکی پیڈیا رضاکارانہ ترامیم کی اجازت دیتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی صارف اس کے زیادہ تر مضامین میں ترمیم کر سکتا ہے۔

انڈین میڈیا نے پیر کو اطلاع دی تھی کہ حکومت نے ارشدیپ سنگھ کے لیے خالصتانی لفظ کے تعارف کی وضاحت کے لیے ویکی پیڈیا کے اہلکاروں کو طلب کیا ہے۔

بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ حکومت نے ویکی پیڈیا کے اہلکاروں کو طلب نہیں کیا بلکہ اس نے ارشدیپ کے تعارف میں ترمیم کے خلاف کی گئی کارروائی پر تنظیم سے 24 گھنٹوں کے اندر وضاحت طلب کی۔

دریں اثنا، دہلی میں بی جے پی کے ایک رہنما نے فیکٹ چیکر زبیر احمد کے خلاف ’بدنیتی سے اور جان بوجھ کر انڈین کرکٹ کھلاڑی ارشدیپ سنگھ اور سکھ برادری کے خلاف نفرت انگیز پراپیگنڈہ پھیلانے‘ کے الزام میں مقدمہ درج کرایا ہے۔

بی جے پی رہنما نے یہ بھی ٹویٹ کیا کہ ’ملک کرکٹ سے پہلے آتا ہے۔ میں پاکستان کے پراپیگنڈے کو مسترد کرتا ہوں اور ارشدیپ سنگھ کے ساتھ کھڑا ہوں۔‘

بی جے پی اور دائیں بازو کے ساتھ منسلک کئی ہینڈلز نے الزام لگایا ہے کہ زبیر پاکستان کے اشارے پر کام کر رہے ہیں۔

گذشتہ سال ون ڈے انٹرنیشنل ورلڈ کپ کرکٹ میں محمد شامی کی ٹرولنگ، جس کے لیے دائیں بازو کے بہت سے صارفین نے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا تھا، کا حوالہ دیتے ہوئے کوگیٹو نامی صارف نے کہا کہ ’پچھلے سال محمد شامی کے ساتھ جو ہوا وہ ارشدیپ سنگھ کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’پاکستانی بوٹس انھیں خالصتانی کہہ کر گالی دینا شروع کر دیتے ہیں، ویکی پیڈیا پر ترمیم کرتے ہیں اور اسی اشارے پر زبیر اسے انڈیا میں ہندوؤں کے ذریعے کی گئی حرکت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اب ہم انڈیا میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری پر مغرب میں سرخیاں دیکھیں گے۔‘

زبیر احمد نے ٹویٹس کی ایک مجموعی تصویر ٹویٹ کی تھی جس میں متعدد ٹویٹر صارفین ارشدیپ سنگھ کو کیچ چھوڑنے کے بعد ’خالصتانی‘ کہہ رہے تھے۔

چند صارفین نے نشاندہی کی کہ انڈیا میں اقلیتوں کی حب الوطنی ہمیشہ سوالوں میں رہتی ہے۔

جیسے ہی سوشل میڈیا پر ارشدیپ کو خالصتانی کہا گیا، صحافی رعنا ایوب نے کہا، ’ارشدیپ سنگھ 23 سال کے ہیں۔ خدا کے لیے یہ ایک میچ ہے۔ کئی بہترین کھلاڑیوں نے بھی کیچ چھوڑا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’انھوں نے آخری اوور تک چہرے پر مسکراہٹ کے ساتھ مقابلہ کیا جب کہ گمنام ’کی بورڈ جنگجو‘ حب الوطنی کے سرٹیفکیٹس دے رہے ہیں۔‘

ماضی میں بھی ہندو دائیں بازو کے حامی کسان مظاہرین پر خالصتانی ہونے کا الزام لگایا ہے۔

اس لفظ کا استعمال اکثر سکھوں کے لیے توہین کے طور پر کیا جاتا ہے کیونکہ بنیادی طور پر سنہ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں بہت سے سکھوں نے ریاست پنجاب کو سکھوں کی ایک آزاد ریاست خالصتان میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

گذشتہ سال بھی جب پاکستان نے ورلڈ کپ میں انڈیا کو شکست دی تھی تو میچ کے فیصلہ کن لمحے میں محمد شامی کو ان کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے شدید ٹرول کیا گیا تھا۔

اس وقت انڈیا کے کپتان وراٹ کوہلی شامی کی حمایت میں آئے تھے۔ اس فعل کو بدقسمت قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ’یہ انسانی صلاحیت کی سب سے کم سطح ہے اور میں ان لوگوں کو (ٹرولز کو) اسی طرح دیکھتا ہوں۔‘

کوہلی، شامی اور ہربھجن سنگھ سمیت کئی کھلاڑی اور عام لوگ ارشدیپ سنگھ کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔

سنگھ کے والد نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ انھوں نے میچ کے بعد سنگھ سے بات کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ارشدیپ کے الفاظ یہ تھے کہ میں ان تمام ٹویٹس اور پیغامات پر ہنس رہا ہوں۔ میں صرف اس سے مثبت تعلیم لوں گا۔ اس واقعے نے مجھے مزید اعتماد دیا ہے۔‘