یہ لائیو پیج اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی پاکستان انڈیا میچ کی لائیو کوریج اپنے اختتام کو پہنچی۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایشیا کپ کے سوپر فور مرحلے میں پاکستان نے انڈیاکو ایک دلچسپ مقابلے کے بعد پانچ وکٹوں شکست دے دی ہے۔ محمد نواز اور رضوان کی عمدہ شراکت اور خوشدل اور آصف کی جارحانہ بیٹنگ کے باعث پاکستان نے 182 رنز کا ہدف میچ کے آخری اوور میں پورا کر لیا۔
محمد صہیب
بی بی سی اردو کی پاکستان انڈیا میچ کی لائیو کوریج اپنے اختتام کو پہنچی۔
آرشدیپ سنگھ کو انتہائی اہم موقع پر آصف علی کا کیچ ڈراپ کرنے پر خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور انڈیا کے سابق کھلاڑی ہربھجن سنگھ کی جانب سے ان کی ہمت بندھائی جا رہی ہے۔
پاکستانی آلراؤنڈر محمد نواز کو پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا ہے۔
انھوں نے ایک انتہائی اہم موقع پر آ کر پاکستان کی بیٹنگ کو نہ صرف سہارا دیا بلکہ جارحانہ انداز بھی اپنائے رکھا جس سے پاکستان کو درکار رن ریٹ کم رکھا۔
نواز نے میچ کے بعد بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں بیٹنگ میں پروموشن اس لیے کیا گیا تھا کیونکہ انڈیا کے لیگ سپنرز بولنگ کر رہے تھے اور اس کے علاوہ لیفٹ ہینڈ، رائٹ ہینڈ کمبینیشن بھی بنائے رکھیں تاکہ چھوٹی باؤنڈری کا استعمال کر سکیں۔
نواز نے اس دوران میچ میں سوریا کمار یادو کی اہم وکٹ بھی حاصل کی۔ انھوں نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میں چیزوں کو سادہ رکھنے کی کوشش کرتا ہوں، جس کا فائدہ آج ہوا۔
اس کے علاوہ نواز نے تین کیچ پکڑے تھے جس میں پانڈیا کا بہترین کیچ بھی شامل تھا۔
پاکستان نے سوپر فور مرحلے میں انڈیا کو پانچ وکٹوں سے شکست دے کر گروپ مرحلے میں شکست کا بدلہ چکا دیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے تعاقب کے دوران محمد رضوان اور محمد نواز نے عمدہ شراکت جوڑ کر پاکستانی پاور ہٹرز کے لیے ایک بہترین بنیاد رکھی۔
پھر آخر میں آصف علی اور خوشدل شاہ نے جارحانہ بیٹنگ کر کے پاکستان کو فتح سے ہمکنار کیا۔
آصف علی نے بھونیشور کمار کے اوور کی دوسری گیند پر چھکار لگا دیا ہے جس کے بعد اب پاکستان اس میچ میں فیورٹ ہے۔
بھونیشور کا یہ اوور خاصا مہنگا رہا، جس میں انھیں خوشدل سے بھی ایک چوکا پڑا اور پھر آخری گیند پر آصف علی نے چوکا لگا کر، اوور میں 19 رنز بنا لیے۔
آرشدیپ سنگھ نے روی بشنوئی کی بولنگ پر آصف علی کا آسان کیچ ڈراپ کر دیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس اوور میں صرف آٹھ رنز بنائے گئے، جس کے بعد اب پاکستان کو جیت کے لیے 12 گیندوں پر 26 رنز درکار ہیں۔
پاکستانی وکٹ کیپر 51 گیندوں پر 71 رنز کی عمدہ اننگز کھیلنے کے بعد پویلین لوٹ گئے ہیں۔
اس وقت انڈیا نے میچ میں واپسی کی ہے اور پاکستان کو جیت کے لیے تین اوورز میں 34 رنز درکار ہیں۔
بھونیشور نے اٹیک میں واپس آنے کے بعد پاکستان کو کچھ حد تک محدود کیا اور محمد نواز کی وکٹ حاصل کر کے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ پاکستان کے درکار رن ریٹ مزید بڑھ جائے۔
پاکستان کے آلراؤنڈر محمد نواز بھونیشور کمار کی گیند پر مڈ آف پر کیچ دے بیٹھے ہیں تاہم انھیں جس وجہ سے پروموٹ کیا گیا تھا، وہ اپنا کام کر گئے۔
نواز نے 20 گیندوں پر 42 رنز بنائے جس میں چھ چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔
15 اوورز کے اختتام پر پاکستان کا سکور دو وکٹوں کے نقصان پر 135 رنز ہے۔ محمد نواز اور رضوان کی عمدہ شراکت جاری ہے۔
دونوں نے اب تک کی شراکت میں 72 رنز بنا لیے ہیں اور پاکستان کو ایک مستحکم پوزیشن پر پہنچا دیا ہے۔
ایک طرف محمد رضوان نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے نصف سنچری مکمل کر لی ہے تو دوسری جانب محمد نواز ہر اوور میں باؤنڈری حاصل کر کے سکور کو درکار رن ریٹ کے قریب رکھے ہوئے ہیں۔
محمد رضوان نے چہل کو مڈ وکٹ کے اوپر سے چھکا مارا ہے۔
پاکستان نے آج محمد نواز کو افتخار احمد اور شاداب خان سے پہلے پروموٹ کیا ہے۔ اس کی وجہ انڈیا کے دو لیگ سپنرز کی اٹیک میں موجودگی ہے۔
پاکستان کا رن ریٹ اس وقت درکار رن ریٹ سے کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محمد نواز نے آتے ہی پہلے چوکا، اور پھر ایک چھکا مارا ہے۔