این سی آر بی کی رپورٹ: انڈیا میں خودکشی کرنے والا ہر چوتھا انسان یومیہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, راگھویندر راؤ
- عہدہ, نمائندہ بی بی سی، دہلی
انڈیا میں گذشتہ سال خودکشی کرنے والے 164,033 افراد میں سے 25.6 فیصد یومیہ اجرت والے مزدور تھے یعنی خودکشی کرنے والا ہر چوتھا شخص ایک مزدور تھا۔
نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سنہ 2021 میں کل 42,004 یومیہ اجرت والے مزدوروں نے خودکشی کی۔ ان میں 4,246 خواتین بھی شامل ہیں۔
اس کے ساتھ ہی خودکشی کرنے والے لوگوں کا ایک بڑا طبقہ وہ تھا جو اپنا کاروبار چلاتے تھے۔ اس زمرے میں کل 20,231 افراد نے خودکشی کی جو کہ ملک میں ہونے والی مجموعی خودکشیوں کا 12.3 فیصد ہے۔
ان 20,231 افراد میں سے 12,055 کا اپنا کاروبار تھا اور 8,176 دیگر قسم کے اپنے روزگار سے منسلک تھے۔
خیال رہے کہ اس رپورٹ میں زرعی مزدوروں اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کو الگ الگ شمار کیا گیا ہے اور انھیں 'زرعی شعبے سے وابستہ افراد' کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔
سنہ 2021 میں کل 10,881 افراد نے 'زرعی شعبے سے وابستہ افراد' کے زمرے میں خودکشی کی۔ ان میں سے 5,318 کسان اور 5,563 زرعی شعبے سے وابستہ مزدور تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دیگر کیٹیگریوں میں کتنی خودکشیاں؟
این سی آر بی کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2021 میں پیشہ ورانہ یا تنخواہ دار طبقے میں خودکشی کرنے والوں کی تعداد 15,870 تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ سال خودکشی کرنے والوں میں 13,714 بے روزگار اور 13,089 طلبہ و طالبات بھی شامل ہیں۔
ان کے علاوہ سنہ 2021 میں خودکشی کرنے والوں میں 23,179 گھریلو خواتین بھی شامل ہیں۔
جو لوگ ان میں سے کسی بھی زمرے میں نہیں آتے ہیں انھیں 'دیگر افراد' کے طور پر درجہ بندی میں رکھا گيا ہے۔ اس زمرے میں 23،547 لوگوں نے خودکشی کی۔
این سی آر بی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ڈیٹا صرف خودکشی کرنے والوں کا پیشہ بتاتا ہے اور اس کا خودکشی کرنے کی وجہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریاست تمل ناڈو (7673)، مہاراشٹر (5270)، مدھیہ پردیش (4657)، تلنگانہ (4223)، کیرالہ (3345) اور گجرات (3206) میں سب سے زیادہ 42004 یومیہ اجرت والے مزدوروں کی خودکشی ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خودکشی کے اعداد و شمار سال بہ سال بڑھ رہے ہیں
این سی آر بی کی رپورٹوں میں گذشتہ پانچ سالوں سے خودکشیوں کے بارے میں سالانہ ڈیٹا (اعداد و شمار) شائع کیے جا رہے ہیں۔ اس سالانہ رپورٹ پر ایک نظر ڈالی جائے تو واضح ہوتا ہے کہ خودکشی کے واقعات کا گراف مسلسل بڑھتا ہی جا رہا ہے۔
سنہ 2017 میں ملک میں 129,887 خودکشیاں ریکارڈ کی گئیں۔ اس وقت خودکشی کی شرح 9.9 تھی۔ خودکشی کی شرح سے مراد فی لاکھ آبادی میں خودکشیوں کی تعداد ہے۔
سنہ 2018 میں خودکشی کی شرح میں اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 10.2 ہوگئی۔ اس سال ملک میں خودکشی کے 134,516 کیس درج ہوئے تھے۔
سنہ 2019 میں کل 139,123 لوگوں نے خودکشی کی جبکہ سنہ 2020 میں بڑھ کر یہ 153,052 ہو گئی۔
تازہ ترین اعداد و شمار سنہ 2021 کے جاری کیے گئے ہیں جس میں خودکشی کے کل تعداد 164,033 بتائی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کی خودکشی میں بھی اضافہ
2020 میں کل 37666 یومیہ اجرت والے مزدوروں نے خودکشی کی تھی۔ جبکہ گذشتہ سال اس زمرے میں خودکشی کے واقعات میں تقریباً 11 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اسی طرح خود کا کاروبار کرنے والے یا سیلف امپلائیڈ لوگوں میں جہاں سنہ 2020 میں خود کشی کرنے والوں کی تعداد 17,332 تھی وہیں سنہ 2021 میں اس میں تقریباً 17 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ایک کیٹیگری جس میں خودکشی کرنے والے افراد کی شرح میں کمی آئی ہے وہ بے روزگار افراد ہیں۔ این سی آر بی کی رپورٹ کے مطابق جہاں سنہ 2020 میں خودکشی کرنے والے بے روزگاروں کی تعداد 15652 تھی وہیں سنہ 2021 میں خودکشی کرنے والے بے روزگاروں کی تعداد 13714 ہے جو تقریباً 12 فیصد کم ہے۔

خودکشیوں کی صحیح تعداد
گذشتہ سال ذہنی امراض اور خودکشی سے بچاؤ پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر پٹھارے نے بی بی سی کو بتایا کہ انڈیا کے سرکاری اعداد و شمار کو غلط سمجھا جاتا ہے اور اس مسئلے کو پوری طرح سے سامنے نہیں لایا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا 'اگر آپ ملین ڈیتھ سٹڈی (جس میں 1998-2014 کے درمیان 2.4 ملین گھرانوں میں تقریباً 14 ملین افراد کی نگرانی کی گئی) یا لینسٹ سٹڈی کو دیکھیں تو انڈیا میں خودکشیوں کی تعداد 30 سے 100فیصد تک کم رپورٹ کی جاتی ہے۔‘
‘خودکشی جیسے سنگین مسئلے پر اب بھی کھل کر بات نہیں کی جاتی ہے۔ اسے ایک بدنما داغ کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور زیادہ تر خاندان اسے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انڈیا کے دیہی علاقوں میں اٹوپسی (پوسٹ مارٹم) کی ضرورت نہیں ہوتی ہے اور امرا مقامی پولیس کے ذریعے خودکشی کو حادثاتی موت ظاہر کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ پولیس کی رپورٹ غیر مصدقہ رہ جاتی ہیں۔‘
ڈاکٹر پٹھارے نے کہا 'اگر ہم انڈیا میں خودکشیوں کی تعداد کو دیکھیں تو وہ بہت کم ہیں۔ اصل تعداد عام طور پر دنیا میں چار سے 20 گنا زیادہ ہوتی ہیں۔ اس طرح اگر ہم دیکھیں تو انڈیا میں گذشتہ سال خودکشی کے ڈیڑھ لاکھ واقعات رجسٹر کیے گئے تو اس حساب سے دیکھا جائے تو اصل تعداد چھ لاکھ سے 60 لاکھ تک ہو سکتی ہے۔'
ڈاکٹر پٹھارے کے مطابق یہ خطرے میں پڑنے والی پہلی آبادی ہے جسے خودکشی سے روکنے کے لیے نشان زد کیا جانا چاہیے، لیکن ناقص اعدادوشمار کی وجہ سے ہم یہ کام صحیح طریقے سے نہیں کر پا رہے ہیں۔
انھوں نے کہا تھا کہ 'اقوام متحدہ کا ہدف ہے کہ سنہ 2030 تک دنیا بھر میں خودکشیوں کو ایک تہائی تک کم کیا جائے، لیکن ہمارے یہاں اس تعداد میں گذشتہ سال کے مقابلے میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔'
اگر آپ کے ذہن میں خودکشی کے خیالات آتے ہیں یا آپ کے شناسا میں کسی اور کے ساتھ ہو رہا ہے تو آپ بیفرینڈز ورلڈ وائیڈ پر رابطہ کر سکتے ہیں جبکہ انڈیا میں آسرا کے ویب سائٹ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔











