پیغمبرِ اسلام کے متعلق متنازع تبصرے، بی جے پی رہنما راجہ سنگھ گرفتار

،تصویر کا ذریعہSocial Media
انڈیا کے جنوبی شہر حیدرآباد میں پولیس نے بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے مقامی رکنِ اسمبلی راجہ سنگھ کو پیغمبرِ اسلام کے خلاف متنازع تبصروں پر گرفتار کر لیا ہے۔
ٹھاکر راجہ سنگھ کے تبصروں پر مسلمانوں کی جانب سے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔
راجہ سنگھ ریاست تلنگانہ کی اسمبلی کے دو مرتبہ رکن رہ چکے ہیں اور ماضی میں بھی وہ مسلم مخالف نفرت انگیز تقاریر کے باعث خبروں میں رہے ہیں۔ دو سال پہلے فیس بک نے اُن پر نفرت انگیز گفتگو کی پالیسی کی خلاف ورزی پر پابندی عائد کر دی تھی۔
بی جے پی پہلے ہی اپنی رکن نوپور شرما کے ایسے ہی متنازع بیانات کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہے چنانچہ پارٹی نے فوری طور پر راجہ سنگھ کی رکنیت معطل کرتے ہوئے اُنھیں اظہارِ وجوہ کا نوٹس دیا کہ کیوں نہ ان کی رکنیت معطل کر دی جائے۔
پارٹی نے یہ بھی کہا کہ راجہ سنگھ کے بیانات ان کے اپنے ہیں اور پارٹی کے مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتے۔
اس سے پہلے اُنھیں منگل کی صبح کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم عدالت نے پولیس کی ایک تکنیکی غلطی کی بنا پر اُنھیں ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔
اس کے بعد پولیس نے عوام سے امن و امان قائم رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اُنھیں دوبارہ گرفتار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم اس کے باوجود مظاہرے جاری رہے۔
بدھ کو رات گئے بڑی تعداد میں شہر میں مسلمانوں کی جانب سے مظاہرے کیے گئے اور راجہ سنگھ کے پتلے جلائے گئے۔ مظاہرین ان کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ویڈیوز میں پولیس کو مظاہرین پر لاٹھی چارج کرتے اور اُنھیں حراست میں لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعرات کی صبح اطلاعات تھیں کہ حالات کشیدہ ہیں اور متاثرہ علاقوں میں نیم عسکری دستوں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ کچھ سکول، دکانیں اور پیٹرول پمپ بند بھی رہے۔

،تصویر کا ذریعہANI
واضح رہے کہ حیدرآباد میں گذشتہ ہفتے سے ہی تناؤ پیدا ہو رہا تھا۔ پولیس نے راجہ سنگھ کی جانب سے مسلمان کامیڈین منور فاروقی کا شو روکنے اور ان پر تشدد کرنے کی دھمکیوں کے بعد اُنھیں نظربند کر دیا تھا۔
منور فاروقی 2021 میں مبینہ طور پر اپنے لطیفوں سے مذہبی جذبات کو بھڑکانے کے جرم میں ایک ماہ جیل میں گزار چکے ہیں تاہم وہ اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔
بی بی سی تیلگو سروس کے مطابق راجہ سنگھ نے دھمکی دی تھی کہ اگر یہ شو حیدرآباد میں پولیس کی سکیورٹی میں ہوا تو وہ ایسا شو کریں گے جس سے 'ہندو فخر محسوس کریں گے۔'
یہ بھی پڑھیے
جب اتوار کو منور فاروقی کا شو پرامن انداز میں ہو گیا تو راجہ سنگھ نے پیر کی رات کو یوٹیوب پر 10 منٹ کی ایک ویڈیو اپ لوڈ کی جسے اب ہٹا دیا گیا ہے۔ اس ویڈیو میں اُنھیں پیغمبرِ اسلام کے بارے میں وہی باتیں کرتے دیکھا جا سکتا تھا جو نوپور شرما نے کی تھیں جس سے انڈیا کے مسلمانوں سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں میں اشتعال کی لہر دوڑ گئی تھی۔
اپنے دفاع میں اُنھوں نے کہا کہ اُن کی ویڈیو کسی مذہب یا برادری کے خلاف نہیں بلکہ ایک 'مزاحیہ ویڈیو' ہے جو منور فاروقی کے خلاف ہے۔ راجہ سنگھ کا منور فاروقی پر الزام ہے کہ وہ ہندو دیویوں اور دیوتاؤں کی توہین کرتے ہیں۔
اخبار دی انڈین ایکسپریس کے مطابق راجہ سنگھ نے کہا: 'میں نے کسی مخصوص برادری کا نام نہیں لیا۔ میری ویڈیو تو منور فاروقی کے بارے میں تھی اور میں اپنے الفاظ پر قائم ہوں، اور میں نے کسی کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچائی ہے۔'










