شمشان گھاٹ میں لاشوں کی آخری رسومات ادا کرنے والی مایا دیوی کہتی ہیں کہ ’مجھے زندہ لوگوں سے ڈرنا چاہیے، مردوں سے کیا ڈرنا‘

مایا دیوی بنجارا

،تصویر کا ذریعہMOHAR SINGH MEENA

،تصویر کا کیپشنمایا دیوی بنجارا
    • مصنف, موہر سنگھ مینا
    • عہدہ, نمائندہ بی بی سی، جے پور

سانولا رنگ، ہاتھ میں سرخ رنگ کی چوڑیاں، شلوار قمیض اور سر پر دوپٹے میں ملبوس 55 سالہ مایا دیوی بنجارا جب شمشان گھاٹ (جہاں ہندوؤں کی میت کو نذر آتش کیا جاتا ہے) میں لاشوں کی آخری رسومات ادا کرتی ہیں تو تماشائی ایک بار انھیں ضرور حیرت سے میں دیکھتے ہیں۔

انڈیا کی مغربی ریاست راجستھان کے معروف شہر جے پور کے تروینی نگر میں ایک شمشان گھاٹ ہے۔ مایا دیوی بنجارا اس شمشان گھاٹ میں رہتی ہیں۔ وہ شمشان گھاٹ کی دیکھ بھال کرتی ہیں اور یہاں آنے والی لاشوں کی آخری رسومات بھی ادا کرتی ہیں۔

آخری رسومات ادا کرنا ماں سے سیکھا

'ماں کہتی تھیں بیٹا شرم کریں گے تو بھوکے مر جائيں گے، کام کرنے میں کوئی شرم نہیں۔'

مایا دیوی ہمارے سامنے پرسکون چہرے، ہمدردانہ تاثرات اور روایتی لباس میں بیٹھی تھیں۔ ان کی آواز میں اعتماد تھا۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے مایا دیوی بنجارا نے اپنی کہانی سنائی۔

وہ کہتی ہیں: 'میں اپنی ماں کے ساتھ لکڑیاں اٹھوایا کرتی تھی۔ میں تقریباً 10 سال کی تھی اور اسی عمر سے میں نے اپنی ماں کا ہاتھ بٹانا شروع کر دیا تھا۔ ماں نے تقریباً 35 سال تک شمشان گھاٹ میں لاشوں کی آخری رسومات ادا کیں۔'

مایا دیوی بنجارا

،تصویر کا ذریعہMOHAR SINGH MEENA

وہ مزید کہتی ہیں: 'ممی آخری رسومات کرواتی تھیں، ممی نے ہی مجھے آخری رسومات کے طور طریقے سکھائے۔ انھوں نے کہا تھا کہ بیٹا اب میری عمر ہو گئی ہے، اب مجھ سے یہ کام نہیں ہوتا۔'

شمشان گھاٹ کے باہر رکھی لکڑیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں: 'میں شمشان میں لکڑیاں وزن کر کے رکھتی ہوں، چتا جلاتی ہوں، ناریل میں گھی بھر کر رکھتی ہوں، کپال کریا بھی کرواتی ہوں۔ کسی میت کے ساتھ اگر بیٹیاں ہوتی ہیں تو میں بھی اس میت کو کندھا دیتی ہوں۔'

چہرے پر بہت سکون کے ساتھ وہ ہاتھ جوڑ کر کہتی ہیں: 'اگر لاوارث لاشیں آتی ہیں تو ان کی آخری رسومات کے لیے پیسے نہیں ملتے، یہ دھرم (خیر) کا کام ہے، میں یہ کام کر کے خوش ہوں، یہ سب ساتھ جائے گا۔'

شمشان (قبرستان) کی دیکھ بھال

شاہ راہ سے شمشان کی طرف جانے والی سڑک شمشان گھاٹ پر ہی ختم ہوتی ہے۔ شمشان گھاٹ کے باہر لکڑی کا ڈھیر رکھا ہوا ہے۔ شمشان گھاٹ کے صدر دروازے سے ہی اندر کے سبز درخت نظر آنے لگتے ہیں۔

شمشان گھاٹ میں داخل ہوتے ہی دائیں جانب موجود دو کمروں میں مایا دیوی رہتی ہیں۔ کمروں کے سامنے مٹی کا چولہا، کچھ برتن اور کپڑے رکھے ہیں۔

شمشان گھاٹ میں بیٹھنے کے لیے سیمنٹ کی کئی بنچ ہیں۔ درختوں اور پودوں کی بہت سی اقسام ہیں۔ مایا دیوی ان درختوں میں پانی ڈالتی ہیں، وہ جھاڑو لگاتی ہیں اور شمشان کو صاف رکھتی ہیں۔

مایا دیوی بنجارا

،تصویر کا ذریعہMOHAR SINGH MEENA

شمشان گھاٹ کے ایک کونے پر ٹوٹی ہوئی ارتھیوں (وہ عارضی تابوت جس پر میت کو لایا جاتا ہے) کا ڈھیر ہے۔ لاشوں پر جو کپڑے اور پھول رکھ کر لائے جاتے ہیں وہ بکھرے پڑے ہیں۔ جبکہ دوسرے کونے میں ایک چھت کے نیچے گائے کے گوبر کے اپلے رکھے ہوئے ہیں۔

لاشوں کی تدفین کے بعد لواحقین راکھ لے جاتے ہیں۔ جس کے بعد مایا دیوی آخری رسومات کے لیے نشان زد جگہ سے باقی راکھ اٹھاتی ہیں۔

شمشان سے ڈر نہیں لگتا

مایا دیوی بنجارا نے دو بیٹیوں کی شادی کی ہے، دو بیٹیاں سکول میں پڑھتی ہیں اور ایک بیٹا ہے۔ مایا دیوی کے شوہر اس کام میں ان کی مدد نہیں کرتے۔

ان کی دو بیٹیاں سکول میں پڑھتی ہیں۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ وہ اکثر شمشان میں مایا دیوی کا ہاتھ بھی بٹاتی ہیں۔

مایا دیوی بنجارا

،تصویر کا ذریعہMOHAR SINGH MEENA

،تصویر کا کیپشنمایا دیوی بنجارا اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ

مایا دیوی بنجارا کی بیٹی انجلی بنجارا سکول سے واپس آئیں اور سیدھے شمشان گھاٹ پہنچیں۔ ہم سے بات کرتے ہوئے 16 سالہ انجلی نے کہا کہ 'میں کلکٹر بننا چاہتی ہوں۔ میری ماں کہتی ہیں کہ اس کام میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں، بالکل بھی نہیں ڈرنا۔'

وہ مکمل خود اعتمادی کے ساتھ کہتی ہیں: 'مجھے شمشان گھاٹ سے بالکل بھی ڈر نہیں لگتا۔ ہر کوئی کہتا ہے کہ تمھاری ماں شمشان گھاٹ میں کام کرتی ہیں۔ ڈر نہیں لگتا۔ تو میں ہمیشہ کہتی ہوں کہ میں نہیں ڈرتی۔'

یہ بھی پڑھیے

ایک عورت ہوتے ہوئے شمشان گھاٹ میں رہنا اور لاشوں کی آخری رسومات ادا کرتے ہوئے ڈر نہیں لگتا؟ یا کبھی کوئی ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس نے آپ کو چونکا دیا ہو؟

اس سوال پر وہ کہتی ہیں کہ 'مجھے زندہ لوگوں سے ڈرنا چاہیے، مردوں سے کیا ڈرنا۔ شمشان ایک مقدس جگہ ہے، میں یہاں رہنے یا لاشوں کی آخری رسومات سے نہیں ڈرتی، بلکہ مجھے سکون ملتا ہے۔'

مایا دیوی بنجارا

،تصویر کا ذریعہMOHAR SINGH MEENA

تمام رسومات ادا کرواتی ہیں

مایا دیوی بنجارا لاشوں کی آخری رسومات کیسے ادا کرتی ہیں، یہ دیکھنے کے لیے ہم ایک دن شمشان گھاٹ پہنچے۔ اسی دوران ایک لاش آ چکی تھی اور اس وقت رسومات کا عمل جاری تھا۔

مایا دیوی آخری رسومات کے لیے شمشان گھاٹ کی نشان زد جگہ پر تول کر لکڑیاں لاتی ہیں۔ لکڑیوں کو بچھاتی ہیں اور چتا تیار کرتی ہیں۔ میت کے ساتھ آنے والوں کو میت کو نذر آتش کرنے کا طریقہ بتاتی ہیں، میت پر گھی لگانے سے لے کر تمام قسم کے طریقے بتاتی ہیں۔

چتا پر لاش کو رکھنے کے بعد، وہ رسومات ادا کرواتی ہیں۔ چتا پر گھی ڈالا جاتا ہے، اسے جلانے کی تیاریاں کی جاتی ہیں۔ کپال کریا کے عمل کو انجام دلواتی ہیں۔

وہ لاش کو جلانے والے شخص کے ذریعے باقی تمام رسومات ادا کرواتی ہیں۔ میت کے ساتھ آنے والے لوگوں سے شور مچاتے ہوئے لکڑیاں دینے کو کہا جاتا ہے، وہ وقتاً فوقتاً چتا پر لکڑیاں ڈالتی رہتی ہیں۔

مایا دیوی بنجارا

،تصویر کا ذریعہMOHAR SINGH MEENA

مایا لاش کے ساتھ آنے والے رشتہ داروں کو میت کی راکھ اٹھانے کا طریقہ بتاتی ہیں۔ لوگوں کے جانے کے بعد وہ جلتی ہوئی چتا کے پاس بیٹھی رہتی ہیں۔ چتا کی لکڑی کو اس وقت تک ٹھیک کرتی رہتی ہیں جب تک کہ میت اور لکڑیاں پوری طرح جل نہ جائیں۔

شروع میں اپنے پیاروں کی لاشوں کے ساتھ آخری رسومات کے لیے شمشان گھاٹ آنے والے لوگ مایا دیوی کو دیکھ کر دنگ رہ جاتے تھے۔ لیکن، اب زیادہ تر لوگ مایا دیوی کو پہچانتے ہیں اور ان کے کام کی بہت تعریف کرتے ہیں۔

راجستھان جو کبھی صنفی عدم توازن، رحم مادر میں بچیوں کے قتل، بچپن کی شادی اور سخت پردے کے رواج جیسی برائیوں کے لیے پہچانا جاتا تھا، اب وہاں خواتین ہر شعبے میں اپنی شناخت بنانے کے لیے آگے بڑھ رہی ہیں اور مایا دیوی اس کی ایک مثال ہیں۔