انڈیا میں اغوا برائے تاوان کی واردات جس میں پیسہ نہیں بٹ کوائن وصول کیا گیا

انڈیا کی ریاست اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں ایک تاجر کو اغوا کر کے بٹ کوائن کا ڈیجیٹل تاوان لینے والے تین اغوا کاروں کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق سات اگست کی شام کو لکھنؤ کے ایک تاجر کو اغوا کیا گیا اور ان سے چار اغوا کاروں نے ایک کروڑ سے زائد مالیت کے بٹ کوائنز تاوان کے طور پر لیے۔

مغوی تاجر کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد سڑک کنارے پھینک دیا گیا۔

پولیس کے مطابق 16 اگست کو پولیس نے اس معاملے میں تین ملزمان سندیپ پرتاپ سنگھ، رنویر سنگھ اور وجے پرتاپ سنگھ کو گرفتار کیا ہے۔

پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ اغوا کاروں نے ایک کروڑ تین لاکھ روپے تاوان کی رقم تاجر کے بٹ کوائن والیٹ سے اپنے ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں منتقل کی۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے ایک پستول، کارتوس، ایک کار اور 30 ہزار روپے نقدی برآمد ہوئی ہے۔ پولیس کو تاوان کے لیے بٹ کوائن کے لین دین کے بارے میں بھی معلومات ملی ہیں۔

لکھنؤ ایسٹ کی ڈی سی پی پراچی سنگھ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ واقعہ سات اور آٹھ اگست کی درمیانی شب پی جی آئی تھانے کی حدود میں پیش آیا تھا جس پر اگلے روز تاجر کی بیوی کی شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا۔ اس مقدمے میں اغوا برائے تاوان، ڈکیتی، جائیداد کی چوری، کسی شخص کو زخمی کرنا، بھتہ خوری، زندگی کو خطرے میں ڈالنا، دھمکی دینا سمیت دیگر تین دفعات شامل کی گئیں۔‘

مجھے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تاجر نے اپنے اوپر کیے جانے والے تشدد کی داستان سناتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے تین گھنٹے تک میرے ہاتھ پاؤں باندھ کر مسلسل مجھے لاٹھیوں سے پیٹا، اور میرے منھ میں پستول اور لاٹھیاں ٹھونسی گئیں۔‘

تاجر کے مطابق ان پر بری طرح تشدد کیا گیا جس سے وہ شدید زخمی ہوئے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میرا سارا منھ پھٹا ہوا ہے۔ تین دن سے کچھ نہیں کھا سکا۔ تین دن تک صرف پانی پیوں، تب ہی میں کھانا شروع کر سکتا ہوں۔ میرے دونوں ہاتھ توڑ دیے گئے ہیں۔ ایک ہاتھ میں زیادہ فریکچر ہے۔‘

وہ اپنی حالت کے متعلق کہتے ہیں کہ ’ڈاکٹر کو فوری طور پر آپریشن کرنا چاہیے تھا، لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا اور آپریشن کچھ دنوں کے لیے ملتوی کر دیا، اب دوسرے ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں کہ آپریشن ممکن نہیں ہو گا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ میرا دایاں ہاتھ زیادہ سے زیادہ 80 فیصد ٹھیک ہو گا۔‘

تاجر نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ ’جب اغوا کاروں نے انھیں لکھنؤ کی ایک سڑک پر تاوان لینے اور تشدد کرنے کے بعد پھینکا تو وہ سر سے پاؤں تک خون میں لت پت تھے۔‘

یہ بھی پڑھیے

ایک ملزم تاجر کو جانتا تھا: پولیس

ڈی سی پی پراچی سنگھ نے یہ بھی بتایا کہ ’16 اگست کو تین ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ان ملزمان نے تاجر کو سیتا پور کے ایک فارم ہاؤس میں یرغمال بنا رکھا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’تاجر کے بٹ کوائن والیٹ سے رقم فارم ہاؤس میں ہی اغوا کاروں کے بٹ کوائن اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی تھی اور ایک کروڑ تین لاکھ روپے میں سے اب تک پولیس تقریباً 90 لاکھ واپس لے چکی ہے۔‘

پولیس کے مطابق اغوا کاروں کا چوتھا ساتھی اور سیتا پور کے فارم ہاؤس کا مالک ویرو بھی مطلوب ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور جلد اسے گرفتار کر لیا جائے گا۔

ڈی سی پی لکھنؤ ایسٹ پراچی سنگھ نے یہ بھی بتایا کہ ’اس واردات کا ماسٹر مائنڈ راجویر، تاجر کو پہلے سے جانتا تھا اور اس کے پاس تاجر کے بٹ کوائن والیٹ کے بارے میں بھی پوری معلومات تھیں۔ اسے معلوم تھا کہ وہ بٹ کوائنز میں اتنی زیادہ رقم لگا رہا ہے۔‘

پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس سے بچنے کے لیے گاڑی میں ہائی کورٹ کا بورڈ لگا رکھا تھا۔ تینوں ملزمان کو مخبر کی اطلاع پر پکڑا گیا۔

پولیس کی کارروائی کے حوالے سے تاجر نے بی بی سی کو بتایا، ’میں بہت تکلیف میں اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوں، پولیس نے میرا بھرپور ساتھ دیا ہے۔‘