آسام: مسلمانوں پر ’فلڈ جہاد‘ شروع کرنے کے جھوٹے الزامات لگائے گئے

    • مصنف, مدھاوی اروڑا اور مارکو سِلوا
    • عہدہ, بی بی سی ڈِس اِنفارمیشن یونٹ

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام میں تباہ کن سیلاب آئے تو آن لائن ایسے دعوے گردش کرنے لگے کہ اس کے ذمہ دار مقامی مسلمان ہیں۔ مگر کیا ان دعوؤں میں کوئی سچائی بھی تھی؟ ایسے ہی ایک ملزم نے اپنی کہانی بی بی سی کو سنائی۔

جب 3 جولائی کو علی الصبح پولیس نے نذیر حسین لاسکر کے دروازے پر دستک دی تو وہ حیران رہ گئے۔ وہ ریاست میں کئی برسوں سے فلڈ پروٹیکشن یعنی سیلاب کو روکنے کے لیے حفاظتی پُشتے بنانے کا کام کرتے تھے۔

مگر اس صبح جس پولیس والے نے انھیں گرفتار کیا اس نے نذیر حسین پر ’سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے‘ کا الزام لگایا، خاص کر ایک سیلابی پانی کو آبادی میں گھسنے سے روکنے والے پشتے کو توڑنے کا الزام۔

ان کا کہنا تھا، ’میں 16 سال سے گورنمنٹ کے لیے پشتے بنانے کا کام کر رہا ہوں۔ میں انھیں نقصان کیوں پہنچاؤں گا؟‘

ضمانت پر رہائی سے قبل نذیر کو سلاخوں کے پیچھے 20 دن گزارنا پڑے۔ اس الزام میں ان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا، مگر اس کے بعد سے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف ایک طوفان آیا ہوا ہے۔

’مجھے خود پر حملے کا ڈر تھا‘

مئی اور جون میں آسام میں دو سیلابی ریلے آئے جن میں مجموعی طور پر 192 افراد ہلاک ہوئے۔ اگرچہ ریاست میں ہر سال سیلاب آتا ہے، مگر اس بار یہ وقت سے پہلے آگیا اور بارشیں بھی زیادہ زوردار تھیں۔

مگر سوشل میڈیا کے صارفین کے خیال میں اس آفت کے پیچھے کسی کا ہاتھ تھا۔

انھوں نے بغیر کسی ثبوت کے یہ دعوے کرنا شروع کر دیے کہ یہ سیلاب انسان کا لایا ہوا ہے، اور مسلمانوں کے ایک گروہ نے جان بوجھ کر ہندو اکثریت والے شہر سلچر کے حفاظتی بندوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

تین دوسرے مسلمانوں سمیت نذیر حسین کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹوں کا انبار لگ گیا جس میں ان پر ’فلڈ جہاد‘ یعنی سیلابی جہاد شروع کرنے کے الزامات لگائے گئے۔

یہ پوسٹیں ہزاروں مرتبہ شیئر کی گئیں اور کئی ایسے انفلوئنسروں نے بھی شیئر کی جن کے اکاؤنٹ ویریفائڈ ہیں۔

نذیر حسین کو اپنی حالت کی سنگینی کا اندازہ جیل کے اندر اس وقت ہوا جب ایک نیوز چینل نے ان کا نام نشر کرتے ہوئے ان پر ’فلڈ جہاد‘ کرنے کا الزام لگایا۔

’میں بہت خوفزدہ تھا اور اس رات سو نہیں سکا۔ دوسرے قیدی میرے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔ میں نے سوچا کہیں وہ مجھ پر حملہ نہ کر دیں۔‘

’فلڈ جہاد‘ کے دعوؤں کی حقیقت

آسام کے گرد 2500 میل لمبے حفاظتی پشتے یا بند بنے ہوئے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر پرانے ہیں اور پچھلی چھ سات دہائی کے دوران کمزور ہو چکے ہیں۔

23 مئی کو شمال مشرقی انڈیا اور مشرقی بنگلہ دیش میں بہنے والے دریائے بارک پر بنے ایک بند کو نقصان پہنچا۔

یہ شگاف بیتھوکنڈی کے مسلم اکثریتی علاقے میں پڑا، اور ہندو اکثریت والے علاقے سِلچر میں آنے والے شدید سیلاب کے دیگر اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی تھا۔

سلچر کی سپرنٹینڈنٹ آف پولیس رامندیپ کور کا کہنا ہے کہ ’دوسری وجوہات میں سے ایک وجہ یہ شگاف بھی تھا۔ مگر علاقے میں صرف اسی مقام سے پانی داخل نہیں ہوا تھا۔

بی بی سی کے خیال میں یہ ہی وہ واقعہ ہے جس کی وجہ سے نزید حسین اور تین دوسرے مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا۔ بعد میں ایک پانچویں شخص کو بھی گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے کسی کا بھی اس شگاف سے کسی طرح کے تعلق کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔

ممبئی میں قائم جیمسیٹجی ٹاٹا سکول آف ڈیزاسٹر منیجمنٹ سے وابستہ ایسوسی ایٹ پروفیسر نِرمالیا چوہدری کا کہنا ہے کہ ’بہت سے ایسے شگاف ان پشتوں کی مرمت اور دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے پڑتے ہیں۔

’بعض میں انسانی ہاتھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ کسی نے جان بوجھ کر کسی بند میں شگاف ڈال دیا ہو تاکہ سیلابی پانی علاقے میں جمع ہونے کی بجائے نکل جائے۔‘

سلچر پولیس اس بات سے اتفاق کرتی ہے۔

سپرنٹینڈنٹ کور کہتی ہیں، ’’فلڈ جہاد‘ نامی کوئی چیز نہیں ہے۔ گزشتہ برسوں میں انتظامیہ خود سیلابی پانی کو نکالنے کے لیے بندوں میں شگاف ڈالتی رہی ہے۔ اس برس ایسا نہیں ہوا تو بعض لوگوں نے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے۔‘

پروفیسر چوہدری کا کہنا ہے، ’اس طرح کا دعویٰ (’فلڈ جہاد‘) فرار کا آسان راستہ ہے۔ یہ ایک انتظامی مسئلہ ہے، اور میرے خیال میں اس کا حل زیادہ سوجھ بوجھ سے نکالنا چاہیے۔‘

’مجھ پر مسلمان ہونے کی وجہ سے الزام لگایا گیا‘

گوگل ٹرینڈز کے مطابق جولائی میں ’فلڈ جہاد‘ کی سرچ پچھلے پانچ برس کا نقطۂ عروج تھا، جس کے پیچھے اس دعوے کی نسبت سے سوشل میڈیا میں پیدا ہونے والا جنون تھا۔

مگر یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب مسلمانوں کے خلاف کونسپیرسی تھیوریاں (بے بنیاد نظریات) کو عام ٹی وی چینلوں پر بھی جگہ ملی۔

عالمی وبا کے دنوں میں انڈین مسلمانوں پر الزام لگایا گیا کہ وہ جان بوجھ کر کوڈ19 پھیلا رہے ہیں (جیسے بعض انڈین ذرائع ابلاغ نے ’کورونا جہاد‘ کا نام دیا۔‘

ناقدین کا کہنا ہے کہ 2014 سے، جب وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں آئی ہے، انڈیا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی اور گمراہ کن معلومات میں اضافہ ہوا ہے۔ بی جے پی اس کی تردید کرتی ہے۔

ادھر آسام میں جیل سے رہائی کے بعد نذیر حسین خوف عالم میں جے رہے ہیں۔

’مجھے اور میرے گھروالوں کو اب بھی گھر سے نکلتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ میرے بچے سکول نہیں جا رہے۔ اگر مجھے گھر سے نکلنا ہی پڑے تو میں اپنا چہراہ چھپانے کے لیے ہیلمٹ پہن لیتا ہوں۔ میں ڈر لگتا ہے کہ کہیں کوئی ہجوم مجھے جان سے نہ مار ڈالے۔

’مجھ پر ’فلڈ جہاد‘ کا الزام اس لیے لگایا گیا کیونکہ میں مسلمان ہوں۔ یہ جھوٹ ہے۔ جو یہ سب پھیلا رہے ہیں وہ بہت غلط کام کر رہے ہیں۔‘

اضافی رپورٹنگ دلیپ کمار شرما نے کی