آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بنگلور میں منشیات کی عادی نوجوان نسل: ’آٹھ، نو سال کے بچے بچیاں منشیات کے عادی بن رہے ہیں‘
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو، بنگلور
’میں سکول میں اپنے دوستوں کے ساتھ شراب، سگریٹ، گانجا پیتی تھی۔ رفتہ رفتہ میں اس کی عادی ہو گئی۔ گہرے ڈپریشن میں رہنے لگی۔ مجھے منشیات کی لت بہت زیادہ نہیں تھی مگر جب مل جاتا تو استعمال کر لیتی تھی لیکن جب مجھے ڈپریشن ہوا تب معلوم ہوا کہ یہ اس لت کی وجہ سے ہے۔‘
نمرتا (فرضی نام ) بنگلور سے تعلق رکھنے والی ایک نوعمر طالبہ ہیں جو آج کل شہر کے نواح میں واقع 'ستری کیندر' ری ہیب سینٹر میں نشے کی عادت سے چھٹکارا پانے کے لیے علاج کروا رہی ہیں۔
ریاست کرناٹک کے شہر بنگلور نے جس تیزی سے ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر کے بین الاقوامی مرکز کے طور پر نام بنایا وہاں اب اتنی ہی تیزی سے یہ نام منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے بدنام بھی ہو رہا ہے۔
دس برس پہلے منشیات کے بارے میں ایک سروے میں علم ہوا تھا کہ بنگلور میں کالجوں اور سکول کے 25 فیصد طلبہ کوئی نہ کوئی نشہ آور چیز استعمال کر رہے تھے اور اس تعداد میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔
16- 2015 کے نیشنل مینٹل ہیلتھ سروے کے مطابق 18 برس اور اس سے زیادہ عمر کے سوا 22 فیصد لوگ شراب، تمباکو اور دوسری غیر قانونی منشیات میں سے کسی نہ کسی نشہ آور چیز کا استعمال کرتے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو گی کیونکہ اس سروے میں صرف ان لوگوں پر توجہ دی گئی تھی جو منشیات سے زیادہ متاثر تھے۔
آبادی اور صنعتی توسیع سے بنگلور شہر بھی بڑا ہوتا گیا ہے۔ پورے ملک اور بیرون ملک سے لاکھوں لوگ یہاں کام کرنے آ رہے ہیں۔ تنہائی اور شہری زندگی کی پیچیدگیوں نے نئے نئے ذہنی مسائل پیدا کیے ہیں اور ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کاسمو پولیٹن شہر کی آزاد زندگی بھی نوجوانوں کو شراب اور منشیات کی طرف مائل کرتی ہے۔
پولیس کے مطابق کرناٹک میں کوکین کا استعمال گذشتہ پانچ برس میں دوگنا سے بھی زیادہ بڑھا ہے جبکہ بنگلور ’ڈرگز کا ایک نیا مرکز‘ بن گیا ہے۔
پولیس کے مطابق 2015-16 میں یہاں 500 کلوگرام منشیات پکڑی گئی تھیں جن میں ہیروئن، افیون، گانجا، حشیش، مورفین اور ایفیڈرین شامل تھیں۔ اب پکڑی جانے والی منشیات کی مقدار 2000 کلوگرام سے بھی بڑھ گئی ہے۔ صرف بنگلور میں پولیس نے 2021 میں 8505 افراد کے خلاف منشیات کے استعمال یا خریدوفروخت کے معاملے میں کیس درج کیا تھا اور پانچ ہزار سے زیادہ گرفتاریاں کی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نمرتا جس مرکزِ بحالی میں رہ رہی ہیں وہیں نتاشا بھی زیر علاج ہیں۔ انٹرمیڈیٹ پاس کرنے کے بعد جب وہ اپنے قصبے سے بنگلور پڑھنے کے لیے آئیں تو یہاں کے ماحول ميں وہ بہت جلد شراب اور کبھی کبھی ویڈ سموکنگ کی لت کا شکار ہو گئیں۔
’یہاں مجـھے آزادی مل گئی تھی۔ مجھے روکنے کے لیے ممی، پاپا نہیں تھے۔ دوستوں کی صحبت میں بےتحاشہ شراب پینے لگی، اس کی لت لگ گئی۔ ساتھ میں سموکنگ بھی کرتی تھی۔ مجھے اس کی لت میرے بوائے فرینڈ نے لگائی تھی۔ وہ کہتا تھا کہ سبھی لڑکیاں شراب پیتی ہیں، ڈرگز لیتی ہیں تم بھی لیا کرو ۔‘
بنگلور کے ’ستری کیندر‘ ری ہیب سنٹر کی سربراہ امرتا راج نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کئی مطالعوں سے پتہ چلا ہے کہ منشیات کے عادی 100 لوگوں میں 40 لڑکیاں ہوتی ہیں اور ان میں سے 10 فیصد سے بھی کم اس کا علاج کراتی ہیں۔ بیشتر کو یہ بھی نہیں معلوم کہ اس طرح کی لت سے نکلنے کے لیے علاج بھی ہوتا ہے۔‘
امرتا کہتی ہیں کہ منشیات کی لت کے علاج کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے اور سماج کو بھی اس طرح کے پروگراموں میں مدد کرنی چاہیے۔
’متاثرہ لڑکیوں اور لڑکوں کے والدین ڈرتے ہیں کہ اگر ری ہیب میں گئے تو لوگ کیا سوچیں گے۔ ری ہیب میں لانے کے بعد لڑکی کی عزت کیا رہ جائے گی، وہ کس طرح اس کا سامنا کرے گی لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ اگر اس کا ایک بار علاج ہو گیا اور وہ نشے کی لت سے باہر آ گئی تو اس کے سامنے ایک خوبصورت مستقبل ہے۔ وہ اس کے بارے میں فکرمند نہیں ہیں۔ انھیں بس اس کی فکر ہے کہ ری ہیب میں لانے سے ان کی عزت چلی جائے گی۔‘
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیرو سائنس (نیمہینس) کی ڈاکٹر ایشا شرما کہتی ہیں ’یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ نوعمر لوگ ڈرگز کی طرف راغب ہوتے ہیں لیکن آج کے دور میں معلومات زیادہ ہیں، سوشل میڈیا پر ایکسپوژر زیادہ ہے اس لیے منشیات کا شکار ہونے کے امکانات پہلے سے بڑھ گئے ہیں جس کے سبب زیادہ بچے ان نشہ آور اشیا کا تجربہ کرتے ہیں۔‘
ڈاکٹر ایشا کا کہنا ہے کہ ’کچھ بچوں کی شخصیت یا مزاج اس نوعیت کا ہوتا ہےکہ ان میں تجسس زیادہ ہوتا ہے۔ وہ نئی نئی چیزیں کرنا چاہتے ہیں، خطرہ مول لینا چاہتے ہیں،تجربہ کرنے کی فطرت ان میں زیادہ ہوتی ہے۔ اس طرح کا مزاج مخصوص سماجی اور خاندانی حالات میں انھیں منشیات کے استعمال کی طرف مائل کر سکتا ہے۔‘
سمیر (فرضی نام) ’سیف اینڈ سیرین‘ نامی بحالی مرکز میں زیرِ علاج ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میرے ساتھ کے پانچ بچوں نے مجھے نشہ پلایا۔ میرے محلے کے کچھ لڑکے گانجا پیتے تھے میں بھی ان کے ساتھ پینے لگا۔ میں اس کا عادی ہو گیا۔ جب میرے پاپا کو پتہ چلا تو انھوں نے بہت مارا اور یہاں داخل کروا دیا۔‘
’سیف اور سیرین ری ہیب سینٹر‘ کے سربراہ سید سیف شاہ کے مطابق ان کے مرکز میں اس وقت 40 سے 50 بچے ہیں۔
’یہ تین مہینے کا بحالی پروگرام ہے۔ بچے آتے رہتے ہیں اس لیے یہ اوسط بنا رہتا ہے۔ ڈرگز اور اس کی لت کا مسئلہ بہت سنگین ہے۔ دس سال پہلے ایسا نہیں تھا۔ اب یہ مسئلہ بہت بڑھ گیا ہے۔ اب یہ 11 سال کی عمر سے شروع ہو رہا ہے اور 70 سال کی عمر کے لوگ بھی منشیات کے عادی ہو رہے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
ڈاکٹر رخسانہ حسن بنگلور میں نشے سے متعلق امور کی ایک معروف ماہر ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ الارمنگ صورتحال ہے۔ پہلا استعمال بہت سستا ہوتا ہے۔ مارکیٹ میں ایسی بہت سے ڈرگز دستیاب ہیں جو نارکوٹکس کنٹرول کے دائرے میں نہیں آتیں۔ فارما ڈرگ ہے، ہرب ڈرگ ہے، پلانٹیشن ڈرگ ہے، نارمل ڈرگ ہے، انہیلنٹ ہے، سنفنگ ڈرگ ہے۔ یہ سب آسانی سے دستیاب ہیں۔ پہلا، دوسرا ڈوز فری ملتا ہے جب اس کی لت لگ جاتی ہے تب وہ پیسے کا انتظام خود کرتا ہے۔ ماں باپ میں اگر پہلے سے کوئی عادی ہے تو بچہ بھی اسی راستے پہ چلتا ہے۔‘
ڈاکٹر رخسانہ بتاتی ہیں ’ہم لوگ جو کیس ہینڈل کرتے ہیں ان میں سات، آٹھ، نو سال کے بچے ہوتے ہیں۔ اگر لڑکیوں کو دیکھیں تو 11 سال کی کم عمر بچی بھی نشے کی زد میں ہے۔ نشے کے لیے سکول سب سے اچھی جگہ ہے۔ زیادہ تر فیملیز مالی طور پر بہت امیر نہیں ہوتیں لیکن نشہ کرنے والے بیشتر بچوں کا تعلق متوسط طبقے سے ہوتا ہے۔‘
بنگلور کے سید ذاکر کہتے ہیں کہ ’پہلے 18 اور 19 سال کے بعد لوگ نشہ کرتے تھے۔ اب آٹھ،نو سال کے لڑکے سگریٹ پیتے ہیں۔ 11، 12 سال میں گانجا پینے لگتے ہیں اور 14 برس کی عمر تک شراب پینے لگتے ہیں۔ اگر ہم نے اپنی نوعمر نسل کو ابھی نہیں بچایا تو آنے والے دن کافی خراب ہو سکتے ہیں۔‘
نیمہینس کی ڈاکٹر ایشا کہتی ہیں کہ والدین اپنے بالغ ہوتے ہوئے بچوں سے کس طرح کی بات چیت اور تعلق رکھیں یہ ایک بہت اہم ایشو ہے۔
’منشیات کے سلسلے میں ٹیچرز کا بہت اہم کردار ہے، سکول کا ماحول کیسا ہے، ٹیچر کس طرح بچوں کو گائیڈ کر رہے ہیں، وہ کتنا فرینڈلی ہیں کہ وہ اپنی بات کھل کر کہہ سکیں۔ جہاں ماحول موزوں نہیں ہے وہاں بچوں کا رحجان ڈرگز کی طرف مائل ہونا آسان ہوتا ہے۔‘
’یہ ایک چھپا ہوا مسئلہ ہے جس کے بارے میں کم عمر بچے اعتراف نہیں کریں گے ، اس کے بارے میں والدین نہیں بتائیں گے لیکن یہ سماج کا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔‘