چندرکانت جھا: دہلی پولیس کی نیندیں اڑانے والا ’سیریل کلر‘

    • مصنف, بھرت شرما
    • عہدہ, بی بی سی ہندی

20 اکتوبر 2006 کو صبح سویرے مغربی دہلی کے ہری نگر پولیس سٹیشن میں فون کی گھنٹی بجی۔ فون کرنے والے نے بتایا کہ اس نے تہاڑ جیل کے گیٹ نمبر تین کے بالکل باہر ایک لاش رکھی ہے۔

پولیس وہاں پہنچی تو اسے ایک ٹوکری ملی، جس میں ایک کٹی ہوئی لاش رکھی ہوئی تھی۔ لاش کے ساتھ ایک خط بھی تھا، جس میں دہلی پولیس کے لیے نازیبا زبان استعمال کی گئی تھی اور قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے پولیس کو چیلنج کیا گیا تھا کہ ہمت ہے تو پکڑ کر دکھاؤ۔

چھ ماہ بعد اپریل 2007 میں تہاڑ جیل کے گیٹ نمبر تین کے باہر عین اسی جگہ سے ایک اور لاش ملی۔ جکڑی ہوئی لاش، سر اور ہاتھ پاؤں غائب۔ پچھلی بار کی طرح اس بار بھی لاش کو باندھ دیا گیا۔

قتل کے ان واقعات میں قاتل نے مقتولین کے سر دریائے جمنا میں پھینکنے کا دعویٰ کیا تھا۔

چھ ماہ میں اندھے قتل کی دو وارداتوں نے دہلی پولیس کو بوکھلا دیا۔ اپریل کے مہینے میں، پولیس کی تحقیقات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور مئی میں تہاڑ جیل کے باہر ایک اور سر قلم لاش مل گئی۔

لاش کو اسی طرح باندھ کر ٹوکری میں رکھا گیا۔ اس کے ساتھ ایک خط بھی تھا۔ خط ہندی میں لکھے گئے تھے اور آخر میں لکھا تھا - 'دہلی پولیس کا سالا یا دہلی پولیس کا باپ'، خط لکھنے والے کا نام درج تھا 'سی سی‘۔

تہاڑ جیل جیسے 'انتہائی محفوظ' مقام کے بالکل باہر ایک کے بعد ایک سر کٹی ہوئی لاشیں، لاشوں کے ساتھ ملنے والے خطوط اور تھانوں میں بجنے والے فون، ان سب چیزوں نے واضح کر دیا تھا کہ وہ ایک غیرمعمولی مجرم ہے جو دہلی پولیس کو کھلا چیلنج دے رہا ہے۔

نیٹ فلکس کی تین اقساط پر مشتمل دستاویزی فلم بہار کے علاقے مدھے پورہ میں ایک متوسط ​​گھرانے میں پیدا ہونے والے اس قاتل چندرکانت جھا کی پوری کہانی بیان کرتی ہے کہ کس طرح اس کے غصے نے اسے ایک سیریل کلر میں تبدیل کر دیا۔

مزید تفتیش سے علم ہوا کہ چندرکانت جھا دہلی پولیس کے ایک کانسٹیبل سے ناراض تھا کیونکہ اس نے تہاڑ جیل کے اندر اس کے ساتھ بدتمیزی کی تھی۔ اس وجہ سے چندرکانت لاشیں تہاڑ جیل کے دروازے پر رکھ کر دہلی پولیس کو ہراساں کر کے بدلہ لینا چاہتا تھا۔

دہلی پولیس کی بےبسی

سندر سنگھ یادو، جو اس سیریل کلر کیس کے تفتیشی افسر تھے، دہلی پولیس سے بطور اے سی پی ریٹائر ہوئے اور ان دنوں اپنے گاؤں میں کاشتکاری کر رہے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ ان دنوں اتنے سی سی ٹی وی کیمرے نہیں تھے، لاشوں کے سر نہ ہونے کی وجہ سے یہ پہچاننا مشکل تھا کہ متوفی کون ہے۔ مقتول کو جانے بغیر اس کے قتل کے محرک اور قاتل کا پتہ لگانا بہت مشکل کام ہے۔

بی بی سی سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ 'یہ کیس مختلف تھا کیونکہ اس میں مارے جانے والے افراد کی شناخت نہیں ہو رہی تھی، کیونکہ لاشوں کے سر نہیں تھے، لاشوں سے کوئی ٹھوس سراغ نہیں ملا'۔

یہ وہ دور تھا جب نہ صرف پولیس بلکہ ان خطوط کے لیک ہونے کی وجہ سے اس معاملے میں میڈیا کی دلچسپی اچانک بڑھ گئی۔

امیت کمار جھا ان دنوں دہلی کے ایک مقامی اخبار میں کرائم رپورٹر ہوا کرتے تھے۔ بی بی سی سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ 'جب یہ خط میڈیا پر لیک ہوا تو ہلچل مچ گئی۔ یہ ان دنوں دہلی کی سب سے بڑی خبر بن چکی تھی۔ عام طور پر دہلی میں کوئی چوری یا ڈکیتی کر کے پولیس کو چیلنج کرتا ہے یا ڈکیتی کرتا تھا لیکن اس معاملے میں کوئی اسے قتل کر کے چیلنج کر رہا تھا۔‘

امیت کمار جھا نے بتایا کہ کے کے پال اس وقت دہلی پولیس کمشنر تھے اور انھوں نے اس معاملے کو جلد از جلد حل کرنے کے احکامات دیے تھے، لیکن یہ اتنا آسان نہیں تھا۔

وہ کہتے ہیں، ’مشکل یہ تھی کہ جو لاشیں ملی تھیں ان کا صرف دھڑ تھا اور سر نہیں تھا اور پولیس کے لیے کسی بھی معاملے کو حل کرنے کے لیے لاش کی شناخت ضروری ہوتی ہے۔ شناخت ہو جائے تو پولیس تفتیش کرتی ہے، متوفی کے حوالے سے تانا بانا جوڑتی ہے، فیملی، کال ڈیٹیل، یہ سب مل کر بہت مدد کرتے ہیں لیکن ان معاملات میں ایسا نہیں تھا، یہ مشکل کیس تھا اور اس میں ایک سال سے زیادہ کا وقت لگا۔‘

چندرکانت جھا اور پولیس آمنے سامنے

سندر سنگھ یادو اور باقی تفتیشی ٹیم نے آخرکار چندرکانت جھا کو دہلی کے ایک علاقے سے مئی 2007 میں گرفتار کیا۔

یادو کہتے ہیں، ’جب چندرکانت میرے سامنے آیا تو ایسا لگتا تھا کہ وہ کافی منطقی اور تعلیم یافتہ ہے۔ میں ایک سال پہلے سے اس سے فون پر بات کر رہا تھا، لیکن جب میں تین چار قتل کے بعد اسے پکڑنے میں کامیاب ہو گیا، تب اس نے ملتے ہی مجھے پہچان لیا اور مجھ سے پوچھا کہ تم سندر سنگھ یادو ہو، میں بہت حیران ہوا، اس نے کہا تم جیتے، میں ہار گیا، میں سب کچھ بتا دوں گا، لیکن مجھے پریشان مت کرو، مجھے مت مارو۔‘

لیکن یادو اور اس کے ساتھیوں کی پریشانیاں ختم نہیں ہوئیں۔ وہ کہتے ہیں، ’اس معاملے میں تین قتل ہوئے تھے اور ایک کیس پہلے سے ہری نگر تھانے کا تھا۔ چار اور قتل دہلی کے دوسرے حصوں میں ہوئے تھے۔ مجھے ان چاروں جرائم کے بارے میں علم نہیں تھا۔ معلوم نہیں، مارے گئے لوگ کون تھے، یہ معلوم نہیں ہو سکا لیکن چندرکانت جھا نے اعترافی بیان میں کافی تفصیل بتائی تھی، لیکن پھر بھی مجھے لگا کہ مجھے مقدمے کی سماعت کے دوران پریشانی ہو گی۔

’جس انسانی کھوپڑی کو برآمد کیا گیا تھا وہ اس مقدمے کا حوالہ دے رہی تھی جس کی میں تفتیش کر رہا تھا اور ایک کھوپڑی کسی اور مقدمے کی طرف۔ وہ سوچ رہا ہو گا کہ دونوں معاملات کے ڈی این اے پروفائلز آپس میں نہیں مل رہے ہیں اور اس سے اسے عدالت میں مدد ملے گی۔‘

جب یہ معاملہ عدالت میں پہنچا تو عدالت میں چندرکانت جھا کا رویہ کیسا رہا، اس کا جواب اتکرش آنند نے دیا ہے، جنھوں نے خود بطور رپورٹر پر سب کچھ دیکھا ہے۔

اتکرش آنند نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’وہ عدالت میں بہت کم بولتا تھا لیکن اس میں ایک عجیب قسم کا اعتماد تھا۔ جب وہ اپنے وکیل سے بات کرتا تھا، تو اسے انہیں سمجھاتے ہوئے دیکھا جاتا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ ان کے پاس کوئی حکمت عملی ہے، جس کے تحت وہ کام کر رہا ہے۔ ایسا نہیں لگتا تھا کہ وہ پاگل یا دیوانہ تھا۔ وہ کنٹرولڈ اور کمپوزڈ لگتا تھا۔‘

چندرکانت جھا کا میڈیا کو مشورہ

چندرکانت جھا کا صرف ایک ویڈیو کلپ ہے جسے نیٹ فلکس کی دستاویزی فلم میں بھی استعمال کیا گیا ہے۔

اس ویڈیو کلپ میں چندرکانت کہتے ہیں کہ میں میڈیا سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ لوگ جھوٹی خبریں کیوں شائع کرتے ہیں؟

’اگر آپ کو لگتا ہے کہ خبر غلط ہو رہی ہے تو یہ آپ کی غلطی ہے کہ آپ نے ابھی تک سچ نہیں بتایا۔ کیا آپ نے ہم سے پوچھ کر پرنٹ کیا؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ میں کہاں سے پکڑا گیا ہوں، یا میں جانتا ہوں؟‘

ایک صحافی نے جب ان سے پوچھا کہ تم نے چاروں کو کیوں مارا؟ تو جواب ملا ’ہو سکتا ہے ہم نے چار سے زیادہ کو مارا ہو… آپ کو کیسے معلوم کہ صرف چار ہیں؟‘

اتکرش کہتے ہیں، ’جب وہ میڈیا کے ساتھ بحث کرتا تھا جس طرح سے وہ بات کرتا تھا، اس کے جوابات منطقی ہوتے تھے۔ جب بھی اس سے آمنا سامنا ہوتا تو میں بھی ڈرتا تھا کہ نہ جانے وہ کیا ردعمل ظاہر کرے، تاہم میری ان سے کبھی طویل گفتگو نہیں ہوئی۔‘

سیریل کلر عدالت میں

اتکرش بتاتے ہیں کہ جب تک ان کا مقدمہ عدالت میں چلتا رہا، ایک بھی شکایت عدالت میں نہیں آئی اور نہ ہی جیل سے آئی۔ پولیس کا ماننا تھا کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ کرتا تھا، قتل کر دیتا تھا، لیکن ٹرائل جج کے پاس کبھی کوئی ایسی شکایت نہیں آئی کہ وہ کبھی غصے میں حواس کھو بیٹھا ہو۔

یہ بھی پڑھیے

پولیس اور جج کے سامنے چندرکانت جھا کے الفاظ اور بیانات میں فرق تھا۔

امیت کمار جھا کا کہنا ہے کہ 'جب اسے عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ پولیس والوں کے سامنے کہتا تھا کہ دو، چار قتل کوئی بڑی بات نہیں، ہم یہ کام کسی بھی وقت کر سکتے ہیں۔' اور جب اسے جج کے سامنے پیش کیا گیا تو وہ وہاں کہتا تھا کہ وہ ایک غریب آدمی ہے جو سبزی بیچتا ہے اور جسے پولیس نے بیکار پھنسایا ہے، وہ جانتا تھا کہ اس نے جو کچھ پولیس کے سامنے کہا اس کی جج کے سامنے کوئی اہمیت نہیں ہے۔‘

سندر سنگھ یادو بھی چندرکانت جھا کی اس چالاکی کی تصدیق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'اس میں صرف ایک خامی تھی اور وہ کہتا تھا کہ اسے انگریزی نہیں آتی، ورنہ وہ تکنیکی چیزوں، قانون، قانونی پیچیدگیوں اور کوتاہیوں کو اچھی طرح جانتا تھا۔‘

مدھے پورہ میں بھی قتل ہوئے

دستاویزی فلم میں چندرکانت جھا کے گھوشائی گاؤں کے دیہاتیوں کے بیانات اور کچھ تصویریں خوف و ہراس پیدا کرتی ہیں اور اندازے ہیں کہ چندرکانت جھا نے تین، چار نہیں بلکہ ان سے زیادہ قتل کیے تھے۔

اصل میں کتنے قتل ہوئے اس کے جواب میں اتکرش آنند کہتے ہیں، ’'یہ بتانا بہت مشکل ہے، میں یہ بھی نہیں بتا سکتا کہ جن جرائم کے لیے وہ سزا کاٹ رہا ہے، اس نے وہ جرائم بھی کیے ہیں کیونکہ اس نے کئی قتل کیے ہیں۔ میڈیا میں بیانات کہ اسے کیسے پتا چلا کہ صرف چار قتل ہوئے ہیں، چار پر قتل کا الزام ہے، تین کو سزا ہوئی ہے، پھر چوتھا کس نے کیا؟، دستاویزی فلم سے لگتا ہے کہ یہ تعداد 40 یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

دستاویزی فلم میں اتکرش آنند نے ذکر کیا ہے کہ چندرکانت اپنی سزا کے بعد کئی بار جیل سے باہر آئے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں، ’تین مقدمات میں اسے سزا ہوئی اور وہ سزا کاٹ رہا ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اسے چار بار پیرول ملا، سات بار فرلو ملا۔ سنہ 2019 کے بعد وہ جیل سے باہر نہیں آیا لیکن اس سے پہلے بھی وہ کئی بار جیل سے باہر آ چکا ہے‘۔

2019 کے بعد کیا بدلا اس کا جواب دیتے ہوئے، وہ کہتے ہیں، ’اس سال اس نے حملے کی شکایت کی تھی۔ پھر فیصلہ ہوا کہ اسے دو سال کے لیے پیرول یا فرلو پر رہا نہیں کیا جائے گا۔ میں آپ کو تازہ ترین واقعہ بتاتا ہوں۔ اس سال فروری میں اس نے دہلی ہائی کورٹ میں ایک رٹ دائر کر کے اپیل کی کہ اسے اپنی بیٹی سے شادی کرنی ہے اور ماں کی موت کی وجہ سے پنشن رک گئی ہے اس لیے اسے پیرول پر رہا کیا جائے لیکن اس کی شکایت اور وجوہات سنجیدہ نہیں تھیں، اس لیے اسے اجازت نہیں دی گئی۔‘

امیت کمار جھا نے چندرکانت سے متعلق ایک دلچسپ واقعہ بھی بیان کیا ہے۔

’جب چندرکانت سزا کے بعد جیل میں تھے، مجھے اس کی بیوی کا فون آیا کہ وہ چندرکانت جھا کی بیوی کی بات کر رہی ہے اور وہ قتل کے ایک مقدمے میں بری ہو گئی ہے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کو میرا نمبر کیسے ملا؟ اس نے کہا کہ وہ چندرکانت سے ملنے جیل گئی تھی، اس نے دیا ہے۔ مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ جیل میں میرا نمبر بھی ان کے پاس ہے۔‘

دستاویزی فلم میں چندرکانت کے خاندان کے کسی فرد کا بیان نہیں دکھایا گیا۔ ایسا کیوں ہے؟

اس کے جواب میں سیریز کی ہیڈ آف ریسرچ اور کریئیٹو پروڈیوسر نندیتا گپتا کہتی ہیں، ’میں چندرکانت جھا کے گھر والوں سے ملی، وہ بہت اچھے تھے اور اس معاملے میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے، کیمرے پر آنا نہیں چاہتے تھے، اس لیے ہم اس کے فیصلے کا احترام کیا۔‘

وہ کہتی ہیں، ’اس فلم کو بنانے میں دو سال لگے۔ چار مہینے تک، ہم نے صرف تحقیق کا کام کیا۔ ہم نے بہار کے اس گاؤں میں بہت سے لوگوں سے بات کی۔ ہم نے تقریباً 40-50 لوگوں سے بات کی ہو گی۔ کئی مہینوں میں، یہ کام ہوا۔‘

تفتیش کے لحاظ سے مشکل کیس

یہ کیس تفتیش کے لحاظ سے مشکل تھا، جرائم کی کوریج کرنے والے صحافی بھی اس سے متفق ہیں۔

امیت کمار جھا کا کہنا ہے کہ ’اُن دنوں سی سی ٹی وی نہیں تھے، موبائل فون کا استعمال زیادہ نہیں تھا، آج شاید ہی کوئی ایسا جرم ہو جو سی سی ٹی وی میں قید نہ ہوا ہو، موبائل کا استعمال کم ہوتا تھا، اب پولیس ڈیٹا پر کام کرتی ہے۔ سارا ڈیٹا اٹھا لیتی ہے۔ اس وقت اتنی مدد کم تھی۔ کوئی پولیس والا پورا سال تہاڑ کے باہر نہیں رہ سکتا تھا۔ وہ لاش کو کب رکھے گا، کہاں رکھے گا، مجھے نہیں معلوم تھا۔‘

سندر سنگھ یادو کے مطابق، اس کیس میں واقعاتی ثبوت بہت مضبوط تھے۔ وہ کہتے ہیں، ’ہم تفصیلات کا جائزہ لے رہے تھے، کئی زاویوں سے جانچتے رہے، پھر آگے بڑھے۔ ہمیں معلوم تھا کہ اس سے ملزم کو مزید پریشانی ہو گی، اس لیے ہم نے نہ صرف لاش بلکہ ڈی این اے کے مختلف حصے بھی حاصل کیے، پروفائلنگ کے لیے بھیجے، خط لکھتے تھے، پھر ہاتھ کی لکھائی چیک کروائی، ٹیسٹنگ ریاضی کی طرح ہے، یا تو آپ کو سو میں سے سو ملے گا، یا آپ کو صفر ملے گا۔‘

چندرکانت جھا کیسے پکڑا گیا؟

یہ کیس پورے محکمۂ پولیس کے لیے ایک چیلنج بن گیا تھا اور اسے حل کرنے کے لیے دباؤ مسلسل بڑھ رہا تھا۔ لیکن یہ کامیابی کیسے حاصل ہوئی؟

یادو کہتے ہیں، ’جب وہ ہمیں فون کرتا تھا، تو ہم کافی دیر تک اس سے بات کرنے کی کوشش کرتے تھے تاکہ ہمیں کوئی اشارہ مل سکے۔ اس سے طویل بات کرنا بھی ہماری تفتیش کا حصہ تھا۔ اس گفتگو کے دوران، ہم نے اسے بہت سی باتیں سنائی۔ کچھ جو اسے بتانا نہیں چاہیے تھا۔‘

دہلی پولیس نے اس کیس کو حل کرنے کے لیے مخبروں سے بھی کافی مدد لی۔ دستاویزی فلم میں دکھایا گیا ہے کہ ان کی مدد سے وہ ایک ڈاکٹر کے پاس پہنچے جس کے پاس چندرکانت باقاعدگی سے جایا کرتا تھا۔ اس ڈاکٹر اور چندرکانت کے ایک رشتہ دار کے درمیان کچھ جھگڑا ہوا تھا۔

یادو دستاویزی فلم میں بتاتے ہیں، اسی رشتہ دار نے بتایا کہ چندرکانت کے پاس ایک ریڑھا ہے جس میں انجن لگا ہوا ہے۔ کال ریکارڈ کے مطابق ایک مخصوص علاقے کی نشاندہی کی گئی اور گشت کے دوران پولیس والوں نے ایسی ہی ایک گلی میں وہ ریڑھا دیکھا اور اس کے ذریعے ہم چندرکانت کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئے۔

چندرکانت جھا ان دنوں جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔