آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
100 بچوں کے قاتل جاوید اقبال پر فلم: ’اس میں کچھ نہ کچھ تو ہے جو آپ کو دیکھنے کو آنا ہو گا‘
’سوشل میڈیا پر فراغت بہت زیادہ ہوتی ہے، لوگ کچھ نہ کچھ تو لکھیں گے، اتنے ٹریلر اور ٹیزر آئے ہیں۔ اس چھوٹی سی فلم نے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس میں کچھ نہ کچھ تو ہے جو آپ کو دیکھنے کو آنا ہو گا۔‘
یہ کہنا ہے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے سیریل کلر قرار دیے جانے والے جاوید اقبال کی زندگی پر بننے والی فلم کے ڈائریکٹر ابو علیحہ کا اور انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جب ٹکٹ کر خرید کر سینما پر لوگ فلم دیکھیں گے تو وہ بالکل مایوس نہیں ہوں گے۔
فلم سے جڑے تنازعات، اس کی تیاری کے مراحل اور اس کے مرکزی خیال سے متعلق بی بی سی اردو کے لیے صحافی براق شبیر نے اس فلم کے ڈائریکٹر ابوعلیحہ کے علاوہ اس فلم میں جاوید اقبال کے کردار میں نظر آنے والے اداکار یاسر حسین سے تفصیلی گفتگو کی۔
ابو علیحہ کا ماننا ہے کہ جاوید اقبال کے ہاتھوں 100 بچوں کا قتل پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا واقعہ ہے جسے یاد رکھنا چاہیے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ایک برا کردار ہے ہماری تاریخ کا تو اسے بھولنے کے بجائے اسے دوبارہ یاد کیا جائے اور دیکھا جائے کہ کیوں ایسا ہوا۔ اس پر ذرا روشنی ڈالی جائے اور چھوڑ دیا جائے عوام پر، ایک تاریخ کا حصہ ہے، کوئی ایسی چیز نہیں ہے یہ۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر تقسیم ہند پر مووی بن سکتی ہے جبکہ خود تقسیم کوئی اچھی یادداشت نہیں ہے تو یہ بھی ایک بری یادداشت ہے ہماری، اس پر بھی فلم بن سکتی ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں چاہتا ہوں ایدھی صاحب پر موودی بنے وہ تو بہت اچھی ہو گی۔ ہر جگہ جا کر جس طرح عوام ان کے پاس جمع ہوتی تھی۔ میں چاہتا ہوں کہ ایدھی پر ہم ہی فلم بنائیں۔۔ لگائیں پیسے۔‘
اس فلم بنانے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے وہ بیرونی دنیا کی کچھ مثالیں اور پاکستانی صارفین کے رحجانات پر بھی بات کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ میرے خیال میں ہر عنوان پر فلم بننی چاہیے اور بنتی رہی ہیں۔
’امریکن سائیکو جب انھوں نے بنائی تھی تو لوگوں نے تھوڑا ہی کہا تھا کہ اس پر مووی نہیں بننی چائیے۔ یہ تو ایک ایسی بات ہے جو پاکستان میں لوگ کرتے ہیں حالانکہ یہی سارے لوگ سکوئڈ گیمز بھی دیکھتے ہیں جس کا کوئی پیغام نہیں ہے۔ اور اسی طرح ’یو‘ ایک سیریز آئی ہوئی تھی جو پاکستان میں ٹرینڈنگ پر تھی، جس کا مطلب ہے کہ پاکستان اسے دیکھ رہا ہے۔ اس میں ایک بندہ ہے جو سٹاکر ہے، تو آپ سٹاکر کو کیوں دیکھ رہے ہیں، کیا میسیج مل رہا ہے آپ کو۔۔ تو ہر چیز کا میسیج نہیں ہوتا۔‘
ابو علیحہ نے بتایا کہ ’میں چار سال سے پرعزم تھا کہ مجھے یہ پروجیکٹ کرنا ہے اور کبھی بھی کسی بھی جگہ یہ آئیڈیا نہیں تھا کہ آپ کے پاس ایک سیریل کلر ہے اور کیونکہ ایمازون اور نیٹفلکس بھرے پڑے ہیں سیریل کلر کی فلموں سے تو ہم بھی ایک سریل کلر کی کہانی بناتے ہیں۔
وہ کہنے لگے کہ ’جاوید اقبال کو آپ دیکھ لیں۔ اس سے متعلق آپ کو جو بھی کلپ ملتا ہے، وہ ایک نارمل آدمی تھا۔ ایسا آدمی اگر آپ کے پاس سے سڑک سے گزر کر چلا جائے تو آپ دوبارہ نگاہ نہیں ڈالیں گے۔ وہ ماچو نہیں تھا، وہ ایک نارمل آدمی تھا۔
’جاوید اقبال کے کیریکٹر کو بنانا چیلنج تھا۔ اس فلم میں جب آپ دیکھنے جائیں گے تو آپ کو یاسر حسین نہیں یں گے، عائشہ عمر اور ربیعہ کلثوم نہیں ملے گی، آپ کو ایک پولیس آفیسر ملے گی، آپ کو ایک ماں ملے گی، آپ کو ایک سیریل کلر ملے گا۔‘
فلم کے اداکاروں کا انتخاب کیسے کیا؟
ابوعلیحہ کہتے ہیں کہ ایسا بالکل نہیں ہے کہ یاسر کی شکل جاوید اقبال سے ملتی جلتی ہے۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ یاسر حسین کا مجھے پتا تھا کہ وہ ایک بہت اچھا اداکار تھا، وہ اس کیریکٹر کو بڑا اچھا نبھا سکتے ہیں۔
عائشہ عمر کے انتخاب کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’عائشہ پر ’خوبصورت‘ کے کردار کی ایک چھاپ لگ چکی ہے۔ مجھے لگا کہ جو ہم حیرانی کا عنصر دینا چاہتے ہیں، چونکا دینا چاہتے ہیں، اس حوالے سے عائشہ عمر ایک بہتر چوائس ہوں گی، جو دس سال سے آپ کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتی ہوئی آ رہی ہیں اور اب وہ روئے گی، وہ سو بچوں کی ماؤں کے لیے روئے گی، اور وہ اسے نفرت سے دیکھے گی تو یہ ایک سرپرائز تھا‘۔
ابو علیحہ کے لیے جہاں اس موضوع پر فلم بنانا چیلنج تھا وہیں بڑے سٹارز کو منانا بھی آسان نہیں تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میرے لیے سب سے بڑا چیلنج تو محدود بجٹ تھا کہ کیسے یاسر حسین اور عائشہ عمر جیسے سٹارز کو مناؤں کہ وہ یہ فلم کریں اور یہ کہ انھیں کسی بھی قسم کی مایوسی نہیں ہو گی۔ انھیں اب اس بات پر قائل کرنا تھا کہ میں ان سے ایک ’رِسکی پروجیکٹ‘ پر مہینوں کی محنت مانگ رہا ہوں اور میں انھیں ان کا جائز معاوضہ بھی نہیں دے پا رہا ہوں۔‘
تین مختلف لوگوں نے جاوید اقبال پر فلم کرنے کی پیشکش کی
اداکار یاسر حسین کہتے ہیں کہ انھیں تین مختلف لوگوں نے جاوید اقبال پر فلم میں کام کرنے کی آفر کی تھی اور تینوں کو انھوں نے ہاں ہی کی تھی۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’میرے لیے تو جاوید اقبال کا ایک الگ تعلق ہے۔۔ وہ یہ ہے کہ چھ، سات سال پہلے لاہور میں مجھے ایک شارٹ فلم کی سکریننگ کے لیے بلایا گیا تھا، تو جنھوں نے وہ شارٹ فلم بنائی تھی انھوں نے بھی مجھے یہ بتایا تھا کہ میں اگلا پروجیکٹ جو کر رہا ہوں وہ جاوید اقبال پر کر رہا ہوں۔ تو کیا آپ کریں گے؟ تو میں نے کہا کیوں نہیں، یہ تو ایک بہت اچھا پروجیکٹ ہو گا۔ ایک ایسی کہانی آپ بنا رہے ہیں جو بہت ڈراؤنی ہو گی۔ میں نے کہا یہ میں ضرور کروں گا۔‘
یہ بھی پڑھیے
’پھر ایک اور صاحب آئے میرے پاس کہ میں جاوید اقبال پر فلم بنا رہا ہوں۔ تو کیا آپ اس میں کام کریں گے۔ میں نے کہا جی میں کروں گا، مجھے پہلے بھی کسی نے کہا تھا۔ پھر میرے پاس ابوعلیحہ آئے کہ میں جاوید اقبال پر فلم بنا رہا ہوں تو میں نے کہا کہ یار میرے ساتھ یہ مذاق ہو رہا ہے، بہت عرصے سے۔ ظاہر ہے میں فوراً ہی ہاں کر دی تھی۔ مجھے یہ پتا تھا کہ یہ بنا لیں گے کیونکہ پہلے بھی فلمیں بنائی ہیں اور یہ کسی بھی بجٹ میں فلم بنا لیتے ہیں۔ تو میں اب انھیں یہ کیوں کہوں گا کہ اب نے کریں ایسا
جاوید اقبال کی لُک سے متعلق کیا سٹڈی کی تھی؟
یاسر حسین کہتے ہیں کہ میں نے سٹڈی کیا تو ان سے متعلق کوئی ذیادہ مواد نہیں ملا۔
’جاوید اقبال سے متعلق ایک چھوٹی سی ویڈیو سامنے آئی تھی۔ اس میں جاوید اقبال کا جو رویہ نظر آ رہا ہے کیونکہ اس نے خود سرینڈر کیا تھا، تو اس میں ایک چیز تھی کہ یار میں خود آیا ہوں، آپ کا کوئی کمال نہیں ہے اس میں۔ وہ غرور اور تکبر کا مظاہرہ کر رہا تھا ۔۔ اس سے مجھے اندازہ ہو گیا۔ اور پھر جس طرح ڈائریکٹر نے مجھے سمجھایا کہ وہ خود کو پولیس اور تھانوں سے اوپر سمجھتا ہے، وہ خود آیا ہے کہ مجھے گرفتار کرو، میں نے 100 بچے مار دیے ہیں۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’اس میں پھر اس کردار کو بھی پرسکون ہونا چاہیے کیونکہ وہ کوئی دہشتگرد تھوڑا ہی تھا کہ جو برقعہ پہن کر بھاگ رہا ہو، یہ خود آیا ہے۔ اس کو جو میں آگے لے کر بڑھا ہوں۔ جس پر لوگوں نے بتایا کہ وہ جس طرح آپ کا پولیس موبائل سے اترنے کا انداز ہے، جس طرح آپ دیکھ رہے ہیں، وہ ہمیں بہت زبردست احساس دیتا ہے۔۔۔ جب جاوید اقبال پولیس موبائل سے اتر رہا تھا تو وہ اس کے لیے فخریہ لمحہ تھا کہ آپ لوگ مجھے ایسے اتار رہے ہیں کہ جیسے آپ پکڑ کر لائے ہوں۔ میں خود آیا ہوں تو وہ ایک چیز تھی جسے میں نے فالو کیا۔‘
یاسر کہتے ہیں کہ مجھے میرے ایک نئے ایکٹر نے سوال کیا کہ جب وہ آپ کر رہے تھے تو آپ کیا سوچ رہے تھے۔ میں نے جواب دیا کہ اس وقت میں کچھ نہیں سوچ رہا تھا، میں اس سے پہلے سوچ چکا تھا کہ جب آپ اداکاری کرتے ہیں تو پھر آپ اس کو لے کر چلتے ہیں جو نیچرلی ذہن میں آتا ہے۔ اس وقت خاص کچھ نہیں سوچ رہے ہوتے ہیں۔
’کٹ کا نہیں کہا جاتا تو میں دھاڑیں مار مار کر رونے لگتا‘
یاسر حسین کہتے ہیں کہ اچھی بات یہ تھی کہ اس فلم کو جلدی بنا لیا گیا کیونکہ وہ جاوید اقبال کی پوری زندگی پر نہیں تھی۔ کچھ حصہ تھا اس کی زندگی کا، وہ جلدی شوٹ ہو گیا، (جو) میرے لیے خوشی کی بات تھی کیونکہ میں ذیادہ دیر اس کو نہیں کر سکتا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو میں دوبارہ اس کیریکٹر میں آ سکتا ہوں کیونکہ آپ کے ساتھ ایک بٹن لگ جاتا ہے۔ اسے آپ جب دباتے ہیں تو پھر اس کردار میں جا سکتے ہیں۔ مگر میں اب (اس کردار میں) نہیں جانا چاہتا، اس کردار میں ذیادہ وقت کے لیے رہنے سے متعلق وہ کوئی اچھے احساسات نہیں تھے
ایک سین کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ربیعہ کلثوم بڑی اچھی اداکارہ ہیں، وہ اس بچے کی ماں بنی تھیں، جن کا بچہ کھو گیا ہے، وہ جاوید اقبال سے پوچھنا چاہ رہی ہیں کہ وہ تمھارے پاس تو نہیں ہے۔ تو یہ ایک بڑا تکلیف دہ منظر تھا۔ وہ جب ربیعہ نے پرفارم کیا تو ایک اداکار کے طور پر میں اتنا غیر محفوظ تھا کہ اس وقت شاید مجھے کٹ کا نہیں کہا جاتا تو میں دھاڑیں مار مار کر رونے لگتا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’مجھ سے اپنے جذبات سنبھالے نہیں جا رہے تھے کیونکہ وہ میں کردار ایک اداکار کے طور پر کر رہا تھا مگر ایک انسان کے طور پر میں کنٹرول نہیں کر پا رہا تھا۔‘