آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بنگلہ دیش میں احتجاج کے بعد پاکستانی ہائی کمیشن نے مشترکہ پرچموں کی تصویر ہٹا دی
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں قائم پاکستانی ہائی کمیشن نے بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ کی درخواست پر اپنے فیس بک پیج سے بنگلہ دیش کے پرچم کے ساتھ پاکستان پرچم والی سرورق کی تصویر ہٹا دی ہے۔
بنگلہ دیش اور پاکستان کا مشترکہ پرچم 21 جولائی کو فیس بک پیج کی کور فوٹو کے طور پر لگایا گیا تھا۔
بعد ازاں جب بنگلہ دیش میں کئی تنظیموں نے اس پر رد عمل ظاہر کیا تو بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے پاکستانی ہائی کمیشن سے تصویر ہٹانے کی درخواست کی۔
بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ اے کے عبدالمومن نے اتوار کو ڈھاکہ میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ہمیں یہ پسند نہیں آیا، اس لیے ہم نے آپ سے اسے ہٹانے کو کہا۔‘
پاکستان نے اس سوال کا جواب نہیں دیا
بی بی سی کی بنگلہ سروس نے ڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمیشن سے پوچھا کہ پاکستان نے ایسی تصویر کیوں لگائی اور بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے انھیں اس تصویر کے بارے میں کیا کہا؟
پاکستانی ہائی کمیشن نے ان سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
تاہم اتوار کی پریس بریفنگ میں بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ نے خود کہا کہ انھوں نے پاکستان سے پوچھا کہ تصویر کیوں لگائی گئی، ساتھ ہی انھوں نے اپنے موبائل پر ہائی کمیشن کی جانب سے بھیجی گئی کچھ تصاویر صحافیوں کو دکھائیں۔
انھوں نے بتایا کہ پاکستان ہائی کمیشن نے انھیں یہ تصاویر نمونے کے طور پر بھیجی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان ہائی کمیشن نے کئی ممالک میں اپنے ہائی کمیشن کے فیس بک پیج پر اس ملک کے پرچم کے ساتھ پاکستان کے پرچم کا کولاج لگایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستانی ہائی کمیشن کی وضاحت
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستانی ہائی کمیشن نے بتایا کہ انھوں نے سنگاپور، سری لنکا، سعودی عرب اور ملائیشیا جیسے ممالک کے فیس بک پیجز پر بھی ایسی ہی تصویر لگائی تھی جو پاکستان اور ان ممالک کے جھنڈے کو ملا کر بنائی گئی تھی۔
انھوں نے کہا کہ ’ان میں سے ہر ایک کی سرورق کی تصویر بالکل اسی طرح لگائی گئی، جیسے ہمارے پرچم کے ساتھ بنائی گئی تھی۔ انھوں نے یہ کسی غلط منصوبے کے تحت نہیں کیا تھا۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ وہ پاکستانی ہائی کمیشن کی وضاحت سے مطمئن ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ’انھوں نے سوچا کہ اگر وہ دوسرے ممالک کے جھنڈوں کے ساتھ فیس بک کور پیج ڈال سکتے ہیں تو وہ بنگلہ دیش کے پرچم کے ساتھ بھی تصویر لگا سکتے ہیں۔ انھوں (پاکستانی ہائی کمیشن) نے کہا کہ کسی دوسرے ملک نے اعتراض نہیں کیا۔‘
واضح رہے کہ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ جب پریس کانفرنس کر رہے تھے تو اس سے کچھ دیر قبل ہی پاکستانی ہائی کمیشن نے بنگلہ دیش کے پرچم والی اس تصویر کو ہٹا کر اس کی جگہ صرف پاکستان کے پرچم والی تصویر لگا دی تھی۔
بنگلہ دیش نے اعتراض کیوں کیا؟
اگرچہ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے یہ کسی خاص منصوبے کے تحت نہیں کیا لیکن اسے ہٹانے کے کہنے کے پیچھے وجہ یہ تھی کہ بنگلہ دیش اس تصویر کی وجہ سے کسی سیاسی تنازع میں نہیں پڑنا چاہتا۔
اس تصویر کو لگانے کے بعد سے کئی اداروں نے اس پر تنقید کرتے ہوئے بیانات جاری کیے تھے کہ اس میں بنگلہ دیش کے جھنڈے کی توہین کی گئی۔
تاہم چند ماہ قبل بنگلہ دیش کی آزادی کی 50ویں سالگرہ کے موقع پر کئی ممالک نے جذبہ خیر سگالی کے طور پر بنگلہ دیش کے پرچم کے ساتھ اپنے ملک کے پرچم کی تصویر جاری کی تھی۔
فیس بک پیج سے ہٹانے کی درخواست
دو ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کو ظاہر کرنے کے لیے کئی ممالک ایسی تصاویر جاری کرتے رہے ہیں لیکن پاکستانی ہائی کمیشن کے فیس بک پیج پر اس طرح کی تصویر لگائے جانے پر بنگلہ دیش میں ہونے والے احتجاج کے پیش نظر یہ معاملہ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ کے نوٹس میں لایا گیا۔
سنیچر کی شام وزیر خارجہ کی ہدایت پر وزارت نے یہ معاملہ پاکستانی ہائی کمیشن کے سامنے اٹھایا اور اسے فیس بک پیج سے ہٹانے کی درخواست کی۔
بعد ازاں پاکستانی ہائی کمیشن نے براہ راست وزیر خارجہ کو ان تصاویر کے نمونے بھیجے جو انھوں نے پاکستانی ہائی کمشنز کے فیس بک پیجز پر دیگر ممالک کے جھنڈوں کے ساتھ بنوائے تھے، جو ان کے خیال میں دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات کی نمائندگی کے لیے تھے۔
ڈھاکہ میں مقیم ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ سیاسی تنازع کی وجہ سے اس تصویر کو ہٹانے کی درخواست کی گئی۔