آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نریندر مودی نے ’برہمنوں اور بنیوں کی پارٹی‘ بی جے پی کو کیسے انڈیا کی مقبول ترین پارٹی بنایا؟
- مصنف, ریحان فضل
- عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی
انڈیا کے ایک رکنِ ریاستی اسمبلی (ایم ایل اے) نے مشہور انتخابی تجزیہ کار پرانوئے رائے سے کہا تھا کہ ’انڈیا میں انتخابات اب ایک ٹیسٹ بن گئے ہیں۔ آپ کو کئی مضامین پاس کرنے ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ آپ کے ہر مضمون میں اچھے نمبر آئیں۔ آپ کو پاس ہونے کے لیے اوسطاً 75 فیصد نمبرز کی ضرورت ہوتی ہے مگر ووٹرز صرف پاس ہونے جتنے نمبرز سے خوش نہیں ہوتے۔ صرف پاسنگ مارکس لانے کا مطلب ہے کہ آپ اقتدار سے باہر ہیں۔‘
کئی سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے گذشتہ 10 برسوں میں ایسے کئی امتحانات میں بہت اچھا سکور کیا ہے۔
جب بی جے پی سنہ 1980 میں قائم ہوئی تو ’ٹائمز آف انڈیا‘ کے ایک مضمون نے بہت دلچسپ شہ سرخی لگائی تھی کہ ’ویجیٹیریئن مگر ذائقہ دار پارٹی۔‘
تب اور آج کی بی جے پی میں بہت فرق ہے۔ کسی زمانے میں اسے ’برہمنوں اور بنیوں کی پارٹی‘ کہا جاتا تھا مگر اب اس نے اپنے انتظامی ڈھانچے میں جو تبدیلیاں کی ہیں، اُنھیں نظرانداز کرنا نہایت مشکل ہے۔
حال ہی میں شائع ہونے والی ایک کتاب ’دی آرکیٹیکٹ آف نیو بی جے پی‘ کے مصنف اجے سنگھ اس تبدیلی کا کریڈٹ نریندر مودی کو دیتے ہیں۔
موربی ڈیم حادثہ، مودی کا پہلا امتحان
مودی کا سب سے پہلے ایک تنظیمی کارکن کے طور پر اعتراف 11 اگست 1979 کو کیا گیا جب گجرات کا موربی ڈیم ٹوٹ گیا اور کچھ ہی منٹوں میں پورے علاقے میں سیلاب آ گیا۔ یہ سب کچھ اتنی جلدی ہوا کہ لوگوں کو بھاگنے کا موقع ہی نہیں ملا اور 25 ہزار لوگ سیلاب میں بہہ گئے۔
اجے سنگھ بتاتے ہیں کہ ’اس وقت بی جے پی رہنما کیشوبھائی پٹیل، بابو لال پٹیل کی کابینہ میں وزیرِ آبپاشی تھے۔ جب ڈیم ٹوٹا تو نریندر مودی ناناجی دیش مکھ کے ساتھ چنائی میں تھے۔ اس تباہی کی خبر سُن کر مودی گجرات پہنچے اور بڑے پیمانے پر جاری امدادی سرگرمیوں میں خود حصہ لیا۔‘
ایڈوانی کی رتھ یاترا
جب سنہ 1984 میں گجرات کے کسانوں نے تحریک شروع کی تو بھارتیہ کسان سنگھ نے آر ایس ایس کے پرچارک دتوپنت تھینگاڈی کی قیادت میں اس تحریک کی زبردستی حمایت کی۔ نریندر مودی نے پردے کے پیچھے رہتے ہوئے اس تحریک کو حتمی شکل دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب سنہ 1991 میں ایل کے ایڈوانی نے سومنات سے ایودھیا تک اپنی رتھ یاترا شروع کی تو نریندر مودی کو اس یاترا کے گجرات والے حصے کی تیاریوں کی ذمہ داری دی گئی۔
اجے سنگھ بتاتے ہیں کہ ’جب ایڈوانی اور پرمود مہاجن سومنات مندر کے قریب پہنچے تو اُنھیں وہاں کوئی پارٹی پرچم اور پوسٹرز نظر نہیں آئے۔ تنظیم میں اس حوالے سے تشویش پیدا ہو گئی کہ یاترا کیسے ہو گی، تیاریاں ہی نہیں ہوئی ہیں مگر جب اگلے دن یاترا شروع ہوئی تو ہزاروں لوگ سڑکوں پر موجود تھے اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اس میں حصہ لیا۔ پہلی مرتبہ بی جے پی اُن لوگوں تک پہنچی جن تک ہندو قوم پرست تنظیمیں اب تک نہیں پہنچ پائی تھیں۔‘
ہریانہ اور ہماچل پردیش میں کامیابی
سنہ 1996 میں کیشوبھائی پٹیل اور شنکرسنھ وگھیلا کے درمیان گجرات میں کشمکش کے دوران نریندر مودی کو گجرات سے باہر دلی بھیج دیا گیا جہاں اُنھوں نے پارٹی کے سیکریٹری کے طور پر ہریانہ اور ہماچل پردیش کی ذمہ داری سنبھالی۔ یہاں مودی نے پارٹی کی توسیع کے لیے روایت پسندی سے زیادہ عملیت پسندی سے کام لیا۔
ہریانہ میں اُنھوں نے بنسی لال کی ہریانہ وکاس پارٹی کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا جو کہ ایمرجنسی کے دنوں میں خاص طور پر بدنام ہوئی تھی۔ پھر بی جے پی ہریانہ میں پہلی بار اقتدار میں آئی اور وہ اُن لوگوں کے قریب ہو گئے جن پر کرپشن کے بے حد الزامات تھے۔
پارٹی کی عمومی رائے کے برعکس اُنھوں نے سدھا یادیو کو لوک سبھا کے انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹ دیا جو کارگل میں ہلاک ہونے والے ایک سپاہی کی اہلیہ تھیں۔
اجے سنگھ کہتے ہیں کہ ’ہماچل پردیش میں اُنھوں نے پریم کمار دھمل کو شانتا کمار کے متبادل کے طور پر کھڑا کیا اور اپنی حکومت مضبوط کرنے کے لیے اُنھوں نے ایسے رہنما کی حمایت حاصل کی جو کرپشن کے لیے بدنام ہو گئے تھے۔ سکھرام کا تعاون حاصل کرنے میں اُنھیں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوئی۔ سکھرام نے تب تک کانگریس چھوڑ کر اپنی الگ جماعت ’ہماچل وکاس کانگریس‘ بنا لی تھی۔ تب تک سکھرام ہر کسی کے لیے ناقابلِ قبول ہو گئی تھیں، سوائے نریندر مودی کے۔‘
گجرات فسادات کے حوالے سے تنقید
جب نریندر مودی سنہ 2002 میں گجرات کے وزیرِ اعلیٰ بنے تو اُن کے پاس حکومت چلانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ وہ اس ریاست میں کبھی ایم ایل اے بھی نہیں بنے تھے جس کے اب وہ وزیرِ اعلیٰ تھے۔ جب گجرات میں فسادات ہوئے تو اُن کی ناتجربہ کاری کُھل کر سامنے آ گئی مگر نریندر مودی نے گجرات کی شناخت کا سہارا لے کر اس تنقید کا مقابلہ کیا۔
اجے سنگھ کہتے ہیں ’مودی نے اپوزیشن، میڈیا اور سکیولر حلقوں کی تنقید کو گجراتی لوگوں پر تنقید قرار دیا۔ اُنھوں نے اگلے انتخابات میں گجراتی شناخت کے نام پر ووٹ مانگے۔ بی جے پی نے مودی کی جانب سے گجراتی شناخت کو کیش کروانے کو پسند نہیں کیا۔ مگر نریندر مودی کو یقین تھا کہ اُنھوں نے لوگوں کا مزاج صحیح انداز میں پہچان لیا ہے۔‘
گجرات میں اقتصادی سرمایہ کاری پر توجہ
وزیرِ اعلیٰ گجرات کے طور پر مودی نے اپنی ریاست میں اقتصادی سرمایہ کاری پر سب سے زیادہ اہمیت دی۔ اُنھوں نے گجرات کو پوری دنیا میں سرمایہ کاری کے لیے سب سے بہترین جگہ قرار دیا۔ مودی نے ’جیوتی گرام یوجنا‘ کی بنیاد ڈالی جس کے تحت ہر گھر کو 24 گھنٹے ایک فیز بجلی یقینی طور پر فراہم کی جاتی۔ نریندر مودی کی جانب سے گجرات میں سرمایہ کاری کے لیے پیدا کردہ ماحول کے بارے میں رتن ٹاٹا نے کہا تھا کہ ’اگر آپ گجرات میں سرمایہ کاری نہیں کر رہے تو آپ بے وقوف ہیں۔‘
ملکی اور غیر ملکی میڈیا میں اُن پر جانبداری کا الزام لگا مگر اس کے باوجود مودی نے گجرات میں اپنا تشخص ایسے وزیرِ اعلیٰ کا بنایا جس کے نزدیک ترقی سب سے اولین ترجیح ہے۔
سوالات پسند نہیں کرتے
میں نے اجے سنگھ سے پوچھا کہ نریندر مودی نے کیا اپنے پورے دور میں کوئی پریس کانفرنس اس لیے نہیں کی کیونکہ وہ مشکل سوالات سے اجتناب کرتے ہیں؟
جواباً وہ کہتے ہیں کہ ’آپ کو کیوں لگتا ہے کہ عام لوگوں سے رابطہ صرف پریس کانفرنس کے ذریعے ہو سکتا ہے؟ اُنھوں نے انتخابات سے قبل کئی صحافیوں سے بات چیت کی ہے۔ وہ ہر مہینے پروگرام ’من کی بات‘ میں آتے ہیں، قوم سے خطاب کرتے ہیں اور شاید کسی انڈین سیاست دان نے ٹوئٹر اور فیس بک کا نریندر مودی جتنا استعمال نہیں کیا ہے۔ دوسری بات یہ کہ آپ کیوں بھول جاتے ہیں کہ سونیا گاندھی نے کتنی پریس کانفرنسیں کی ہیں اور کتنے صحافیوں کو انٹرویوز دیے ہیں؟‘
سردار پٹیل کا مجسمہ سیاسی چال؟
اجے سنگھ نریندر مودی کے لیے ’سیاسی چالاکی‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ وہ اس کی مثال نرمادا ڈیم کے نزدیک سردار پٹیل کے ایک بلند قامت مجسمے کی تعمیر سے دیتے ہیں جو امریکہ کے مجسمہ آزادی سے بھی زیادہ بلند قامت ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اجے سنگھ کے نزدیک یہ ایک اہم سیاسی مؤقف تھا۔ جس طرح اُنھوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اوزار عطیہ کریں تاکہ اُنھیں پگھلا کر یہ 182 میٹر بلند مجسمہ بنایا جا سکے، اس کے پیچھے بھی ایک چالاک سیاسی سوچ تھی۔
اسے مودی کا ایک حربہ کہا جائے گا کہ اُنھوں نے کانگریس کے ایک عظیم رہنما کو ’ایک نظرانداز کردہ گجراتی عظیم ہیرو‘ کے طور پر پیش کیا۔ اُنھوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس مجسمے کی تیاری میں شامل پانچ لاکھ دیہاتیوں کی کوششوں کو ایک ٹائم کیپسول کے ذریعے محفوظ کیا جائے گا تاکہ آنے والی نسلیں اس سے متاثر ہو سکیں۔‘
مودی کی نظریاتی لچک
اٹل بہاری واجپائی کی قیادت میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی حکومت کو کئی نظریاتی معاملات پر سنگھ پریوار کی تنقید جھیلنی پڑی تھی۔ بھارتیہ مزدور سنگھ اور سوادیشی جگران منچ کی جانب سے واجپائی حکومت پر تنقید عام تھی۔
اس کے برعکس نریندر مودی کی سنگھ پریوار کے ساتھ ہم آہنگی مثالی ہے۔ جب اجے سنگھ سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو اُنھوں نے بتایا: ’واجپائی کی فطرت مودی سے بالکل مختلف تھی اور دوسری بات یہ کہ اُن کی اپنی جماعت کے پاس اکثریت نہیں تھی۔ مودی نے خود کو ایک زبردست تنظیم ساز کے سانچے میں ڈھال لیا ہے جس کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ صرف آگے بڑھنا ہی نظریے کے لیے بہتر ہے۔‘
اجے سنگھ کہتے ہیں کہ ’مودی جانتے ہیں کہ سیاسی سمجھ بوجھ وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ کچھ دن بعد جب اُنھوں نے دلی میں شری رام کالج آف کامرس میں طلبہ سے خطاب کیا تو اُنھوں نے اُن سے مینیجمنٹ اور تجارت کی زبان میں بات کی۔‘
مسلمانوں کا اعتماد جیتنے میں ناکامی
جانز ہاپکنز یونیورسٹی میں جنوبی ایشیا سٹڈیز کے سربراہ والٹر اینڈرسن کہتے ہیں کہ ’مودی نے سنگھ کی تنگ نظر تنظیم سے باہر نکل کر بھی ووٹرز کی حمایت جیتنے کی کوشش کی ہے۔ اُنھیں اُن کے ماضی کے برخلاف کئی اہم عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے۔ مگر اس کے باوجود اُنھوں نے خیال رکھا ہے کہ اُن کی جماعت کی ہندو نظریاتی بنیاد کمزور نہ پڑے۔ اُنھوں نے اعلیٰ ذاتوں کی حمایت برقرار رکھی ہے مگر ساتھ ہی ساتھ نچلی ذاتوں اور شیڈول ذاتوں کو بھی اپنے ساتھ شامل رکھا ہے۔‘
مگر مسلمان اب بھی اُن کے منصوبے کا حصہ نہیں ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کوئی ایک بھی مسلمان اُن کی کابینہ اور اُن کی جماعت کی پارلیمانی پارٹی میں نہیں ہے۔ اجے سنگھ کہتے ہیں کہ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ مسلمان بی جے پی کو اپنانے میں نہ صرف ہچکچاتے ہیں بلکہ اکثر اوقات کھل کر اس کے مخالف بھی ہیں۔
حالیہ دنوں میں بی جے پی نے پسماندہ مسلمانوں تک پہنچنے کی کوششوں کی شروعات کی ہے۔
نوٹ بند کرنے کے باوجود کامیابی
جس طرح نریندر مودی نے آٹھ نومبر 2016 کو اچانک 500 اور 1000 روپے کے نوٹ بند کیے اس سے عام لوگوں کو بے حد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ امید کی جا رہی تھی کہ اتر پردیش اسمبلی کے اگلے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس پورے مرحلے کی مشکلات اور مطلوبہ نتائج نہ ملنے کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی نے انتخابات جیت لیے۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ نریندر مودی لوگوں کو قائل کرنے میں کامیاب رہے کہ بھلے ہی اس سے مطلوبہ نتائج نہ حاصل ہوئے ہوں مگر اُن کا ارادہ برا نہیں تھا۔
پولنگ بوتھ سنبھالنے کی مہارت
ساتھ مل کر نریندر مودی اور امیت شاہ نے بوتھ سنبھالنے کے فن میں ملکہ حاصل کر لیا ہے۔
والٹر اینڈرسن لکھتے ہیں کہ ’اس کی سب سے بڑی مثال حال ہی میں ہونے والے اُترپردیش کے اسمبلی انتخابات ہیں جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے اتحادی 402 میں سے 273 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہے ہیں۔ اُترپردیش کی یوگی حکومت کو کووڈ کے پھیلاؤ، کسانوں کی تحریک اور بے روزگاری سمیت کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر اپوزیشن کی سخت تر مخالفت کے باوجود پارٹی کی اقتدار میں واپسی اس بات کی علامت ہے کہ مودی اور شاہ کی جوڑی انتخابات کی باریک بینی سے انتظام کاری میں ماہر ہے۔ چنانچہ زیادہ سے زیادہ ووٹر پولنگ بوتھس تک پہنچ رہے ہیں۔‘
اس کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مودی نے کہا تھا کہ ’میرے نزدیک اہم بات بوتھ جیتنا ہے۔ اگر ہم یہ کر پائیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں الیکشن جیتنے سے نہیں روک سکتی۔‘
کرناٹک میں بی جے پی کے جنرل سیکریٹری این روی کمار نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’10 برس قبل کوئی بھی بوتھ ورکرز کی فکر نہیں کرتا تھا۔ پارٹی میں صرف ایم ایل ایز، ایم پیز، یا پھر ضلعی پنچایتوں کے صدور کی رائے لی جاتی تھی۔ اس وقت کرناٹک میں 58 ہزار بوتھ ہیں چنانچہ ہمارے پاچ 58 ہزار بوتھ صدر ہیں۔ ہمارے پاس ہر بوتھ پر دو سیکریٹری ہیں۔ اس طرح پوری ریاست میں سیکریٹریز کی تعداد ایک لاکھ 16 ہزار ہے۔ ہر بوتھ کے لیے ایک 13 رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے جس کا مطلب ہے کہ بی جے پی کے لیے صرف ایک ریاست کرناٹک میں ہی بوتھ کی سطح پر سات لاکھ 54 ہزار افراد کام کر رہے ہیں۔‘
میڈیا پر پابندیوں کی شکایت
مگر اس سب کے باوجود مودی حکومت کو اکثر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ اُن کی حکومت نے خوف کی ایک فضا قائم کر رکھی ہے اور حکومت کے کئی اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
میڈیا کو دبانے کی بھی کئی شکایت سامنے آئی ہیں مگر مشہور صحافی ویر سنگھوی کا ماننا ہے کہ ’انڈیا میں ایسی چیزیں پہلی مرتبہ نہیں ہوئیں۔ اس سے پہلے بھی حکومتوں نے سرکاری اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا ہے۔ اٹل بہاری واجپائی کے دور میں انڈین ایکسپریس کے خلاف مقدمات قائم ہوئے اور اسی دور میں آؤٹ لُک میگزین کے دفتر پر چھاپہ مارا گیا۔‘
دنیا کے کئی حکمرانوں کے ساتھ نریندر مودی کے تعلقات بہت اچھے ہیں مگر مودی پھر بھی بین الاقوامی میڈیا میں اپنا مثالی تشخص قائم نہیں کر پائے ہیں۔
چاہے ٹائم میگزین کی جانب سے اُنھیں ’تفریق پیدا کرنے والا‘ کہا گیا ہو یا پھر نیو یارک ٹائمز، دی گارجین، دی اکنامسٹ اور گلوبل ٹائمز کی اُن کے خلاف شہ سرخیاں ہوں۔
حال ہی میں جرمن وزیرِ خارجہ نے بھی انڈیا میں جمہوری روایات کی خلاف ورزی کے واقعات پر تنقید کی ہے۔