آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ای رکشہ: سرینگر میں سو روپے کے سفر کو 10 روپے میں ممکن بنانے والی سواری
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
پیٹرول کی مہنگائی کے باوجود اگر کوئی کہے کہ اُس نے صرف 100 روپے دے کر انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے 250 مربع کلومیٹر پر پھیلے سرینگر شہر کا سفر کیا ہے تو کوئی یقین نہیں کرے گا کیونکہ یہاں پیٹرول فی لیٹر 110 روپے ہے، اور ایک لیٹر پیٹرول میں 15 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر ممکن نہیں۔
لیکن اسی ناممکن کو سرینگر میں ممکن بنایا ہے ریچارجیبل آٹو رکشہ یعنی ’ای رکشہ‘ نے۔ شہر میں جس سفر کے لیے پیٹرول پر چلنے والا رکشہ 100 روپے لیتا تھا، وہی سفر اب فقط 10 روپے دے کر کیا جا سکتا ہے۔
یہ وہ تجربہ ہے جو خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ کفایتی بھی ہے۔ کئی بے روزگار نوجوان اسے کمائی کا آسان ذریعہ سمجھتے ہیں۔
پُرانے سرینگر کے رہائشی بشارت احمد کُمہار تین ماہ سے ای رکشہ چلا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ’اس کی نہ تو آواز ہے اور نہ ہی پیٹرول یا انجن آئل کا خرچہ۔ ہماری کمائی بھی ہوتی ہے اور مسافر بھی خوشی خوشی پیسے دیتے ہیں کیونکہ کرایے میں سو فیصد کمی ہوئی ہے۔‘
ای رکشہ کو سرینگر میں متعارف کرانے والے آٹو ڈیلر عادل فاروق گورکھو کہتے ہیں کہ یہ تجربہ نہایت کامیاب رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان رکشوں میں لیتھیم آئن Lithium Ion بیڑی ہے جسے زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم درجہ حرارت کے لیے آزمایہ جا چکا ہے۔ ’ہم اب حکومت سے کہتے ہیں کہ کچرا اُٹھانے کے لیے چھوٹے بیٹری والے ٹرکس بھی لائے جائیں تاکہ وہ چھوٹی اور تنگ گلیوں میں جا سکیں۔‘
انسٹیٹیوٹ آف ہوٹل مینجمنٹ میں ملازمت کرنے والی حسینہ خالد کو پہلے دفتر آنے جانے میں روزانہ کی بنیاد پر 200 روپے خرچ کرنے پڑتے تھے۔
’اب تو میں صرف 20 روپے میں یہ سفر کرتی ہوں۔ حکومت کو چاہیے کہ شہر کے سبھی راستوں پر ای رکشہ ہی چلائیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ای رکشہ ڈرائیور بشارت کہتے ہیں کہ پیٹرول کے رکشہ چلانے والے ڈرائیور ان کی ہُوٹنگ کرتے ہیں۔
’وہ ہمیں تنگ بھی کرتے ہیں۔ لیکن ان کو نہیں معلوم کہ یہی مستقبل ہے۔ جن گلی کُوچوں میں وہ والے آٹو نہیں جا پاتے ہم وہاں آرام سے سواری کو چھوڑ کر آتے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
ای رکشہ چلانے والا کوئی بھی شخص دن میں 1000 سے 1500 روپے کماتا ہے جبکہ پیٹرول پر چلنے والا رکشہ 2000 سے 2500 روپے کماتا ہے۔
لیکن اس میں سے کم از کم 800 روپے پیٹرول پر ہی خرچ ہو جاتے ہیں۔
غربت کی وجہ سے پڑھائی کے ساتھ ساتھ کمانے پر مجبور نوجوان اس نئے تجربے سے بہت خوش ہیں۔
بشارت کمہار بھی اُنہی میں سے ایک نوجوان ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’پیٹرول والا رکشہ تو پانچ لاکھ روپے کا ہے جبکہ ای رکشہ اُس کی آدھی سے بھی کم قیمت میں ملتا ہے اور مفت میں چلتا ہے۔ میرے لیے یہ کسی معجزے سے کم نہ تھا، کیونکہ میں سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ میں رکشہ خرید سکوں گا۔‘