’صحافت پر پابندی لمحہ فکریہ ہے صحافیوں کو بولنے اور لکھنے پر جیل میں نہیں ڈالا جا سکتا‘ انڈیا پر جرمنی کا طنز

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجی 7 میں انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے جمہوری اقدار کی وکالت کی تھی

آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کی گرفتاری پر جرمن وزارت خارجہ نے انڈیا کی جمہوریت پر طنز کیا ہے۔ بدھ کو جرمن وزارت خارجہ کی پریس کانفرنس میں محمد زبیر کی گرفتاری پر سوال پوچھا گیا تھا۔

جرمن وزارت خارجہ نے جواب میں کہا، 'انڈیا خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے۔ ایسے میں انڈیا سے آزادی اظہار اور پریس کی آزادی جیسی جمہوری اقدار کی توقع کی جا سکتی ہے۔ پریس کو ضروری آزادی دی جانی چاہیے۔ ہم آزادی اظہار کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم دنیا بھر میں آزادی صحافت کی حمایت کرتے ہیں۔ آزادی صحافت بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اور اس کا اطلاق انڈیا پر بھی ہوتا ہے۔ آزاد رپورٹنگ کسی بھی معاشرے کے لیے ضروری ہے۔ صحافت پر پابندی لمحہ فکریہ ہے۔ صحافیوں کو بولنے اور لکھنے پر جیل میں نہیں ڈالا جا سکتا'۔

جرمن وزارت خارجہ نے کہا، 'ہمیں انڈیا میں ہونے والی اس گرفتاری کی اطلاع ہے۔ نئی دہلی میں ہمارے سفارت خانے کی اس پر نظر ہے ۔ ہم اس معاملے پر یورپی یونین کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں۔ یورپی یونین کی انڈیا کے ساتھ انسانی حقوق پر بات چیت ہے۔ اس میں اظہار رائے اور پریس کی آزادی شامل ہے۔

وہاں کے براڈکاسٹر ڈی ڈبلیو کے چیف ایڈیٹر رچرڈ واکر نے جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان سے پوچھا کہ جرمنی آزادی صحافت کے حوالے سے آواز اٹھاتا ہے اور صحافیوں کی کہیں بھی گرفتاری کی مخالفت کرتا ہے۔ لیکن انڈیا کے حوالے سے اس معاملے میں فرق کیوں ہے؟ جرمنی انڈیا پر سخت موقف اختیار کیوں نہیں کر رہا؟

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

اس پر جرمن وزارت خارجہ نے کہا کہ میں یہ نہیں کہوں گا کہ وقت پر اس کی تنقید نہیں کی۔ میں آزادی اظہار اور آزادِ صحافت کے حوالے سے ہمیشہ آواز اٹھاتا رہا ہوں'۔

جرمنی میں وزیر اعظم مودی نے جمہوری اقدار کی وکالت کی تھی

وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ ماہ 26 اور 27 جون کو جرمنی میں G-7 میٹنگ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی تھی۔ انڈیا کے علاوہ انڈونیشیا، ارجنٹائن، جنوبی افریقہ اور سینیگال کو بھی بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا تھا۔

ان پانچ ممالک نے 27 جون کو G-7 ممالک کے ساتھ 'ریزیلیئنس ڈیمو کریسیز سٹیٹمنٹ 2022 پر دستخط کیے تھے۔ اس میں سول سوسائٹی میں تنوع اور آزادی کی حفاظت، آن لائن اور آف لائن خیالات سمیت اظہار رائے کی آزادی کے تحفظ کے لیے کہا گیا ہے۔

چار صفحات پر مشتمل بیان میں کہا گیا ہے کہ 'ہم جرمنی، ارجنٹائن، کینیڈا، فرانس، انڈیا، انڈونیشیا، اٹلی، جاپان، سینیگال، جنوبی افریقہ، برطانیہ، امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ مل کر جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم جمہوریت کا دفاع کریں گے اور استحصال کے علاوہ تشدد کے خلاف مل کر لڑیں گے۔ عالمی سطح پر جمہوری اقدار کا تحفظ کریں گے۔ ہم عوامی مباحثے، میڈیا کی آزادی اور آن لائن اور آف لائن معلومات کی شفافیت کے دفاع کے لیے مل کر کام کریں گے'۔

اسی دن جب وزیر اعظم نریندر مودی ان جمہوری اقدار پر جی 7 ممالک کے ساتھ کام کرنے کے اپنے عزم کا اظہار کر رہے تھے، اسی دن فیکٹ چیکر ویب سائٹ آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کو دہلی پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔ ایک ٹوئٹر صارف نے محمد زبیر کے 2018 کی ٹوئٹ کے بارے میں شکایت کی۔ انہوں نے محمد زبیر پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگایا ہے۔ دہلی پولیس نے اس بنیاد پر زبیر کو گرفتار کیا ہے۔

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہ@MEA

،تصویر کا کیپشنیورپ کے اپنے دورے کے دوران نریندر مودی نے صحافیوں سے سوال لینے سے انکار کر دیا

محمد زبیر کی گرفتاری کو بی جے پی کی اس وقت کی قومی ترجمان نوپور شرما کے پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازعہ ریمارکس سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ محمد زبیر نے نوپور شرما کے متنازعہ ریمارکس کا معاملہ سوشل میڈیا پر زور و شور سے اٹھایا تھا۔

اس کے بعد کئی اسلامی ممالک نے انڈیا کے خلاف بیانات جاری کیے تھے اور نوپور شرما کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ بعد میں بی جے پی نے شرما کو پارٹی سے معطل کر دیا۔ نوپور شرما کے خلاف کئی ریاستوں میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے لیکن انہیں ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ دوسری جانب دہلی پولیس نے ایک ٹوئٹر صارف کی شکایت پر محمد زبیر کو گرفتار کرلیا۔ بعد میں ان پر کئی اور الزامات لگائے گئے۔ ان میں بیرون ملک سے چندہ وصول کرنے کا معاملہ بھی شامل ہے۔

نریندر مودی نے دورہ یورپ میں صحافیوں کے سوالات نہیں لیے

مئی کے پہلے ہفتے میں انڈین وزیر اعظم مودی یورپ کے دورے پر گئے تھے۔ اپنے دورہ یورپ کے دوران صحافیوں کے سوالات نہ لینے اور انڈیا کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر نریندر مودی پر تنقید شروع ہو گئی تھی۔

2015 کے اواخر سے ہی ایسا ہو رہا ہے کہ وزیر اعظم صحافیوں کے سوالات لیے بغیر صرف اپنے ہم منصبوں کے ساتھ مشترکہ بیان جاری کرتے ہیں۔ تاہم اس بار جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کے چیف انٹرنیشنل ایڈیٹر رچرڈ واکر نے مودی کے دورہ جرمنی کے حوالے سے ایک ٹوئٹ کے ذریعے یہ مسئلہ سب کے سامنے اٹھایا۔

انہوں نے لکھا، 'مودی اور شلٹز برلن میں پریس سے خطاب کرنے والے ہیں۔ وہ دونوں حکومتوں کے درمیان 14 معاہدوں کا اعلان کریں گے۔ وہ انڈیا کے اپنے فریق کی درخواست پر ایک بھی سوال نہیں لیں گے'۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

واکر نے پریس کی آزادی کے معاملے میں انڈیا کے آٹھ مقام پر پہنچنے کی بھی بات کی۔ سرحدوں سے ماورا نامہ ناگاروں کی تنظیم رپورٹرز سان فرنٹیئرز نے آزادی صحافت کے معاملے میں انڈیا کو 180 ممالک میں سے 150 ویں نمبر پر رکھا ہے۔ پچھلے سال انڈیا 142 ویں نمبر پر تھا۔

'رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ میں، آزادی صحافت کے معاملے میں انڈیا 142 ویں مقام سے 150 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔

فرانس کی نیوز ویب سائٹ فرانس 24 نے پی ایم مودی کے دورہ یورپ کے بارے میں لکھا، 'پی ایم مودی نے 4 مئی کو چانسلر اولاف شلٹز سے ملاقات کی لیکن دو طرفہ معاہدوں کے بعد، جرمن چانسلر نے پریس کو ضابطے کے مطابق سوال کرنے کا موقع نہیں دیا۔ جرمنی میں بھی صحافیوں سے سوالات نہ لینے کا فیصلہ انڈین وفد کی درخواست پر کیا گیا۔ اخبار نے یہ دعویٰ جرمن حکام کے حوالے سے کیا ہے۔

محمد زبیر کی گرفتاری پر اقوام متحدہ کا اعتراض اور انڈیا کا ردعمل

29 جون کو اقوام متحدہ نے بھی محمد زبیر کی گرفتاری پر احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ صحافی کیا لکھتا ہے، کیا ٹوئٹ کرتا ہے اور کیا کہتا ہے اس پر انہیں جیل میں نہیں ڈالا جا سکتا۔

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوٹیرس کے ترجمان نے کہا کہ صحافیوں کو بولنے اور لکھنے پر ہراساں نہیں کیا جا سکتا۔

اقوام متحدہ کے سربراہ کے ترجمان نے کہا کہ 'میرا خیال ہے کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں یہ ضروری ہے کہ لوگوں کو آزادی سے بات کرنے کی آزادی ہو، صحافیوں کو آزادی سے اپنا کام کرنے کی آزادی ہو۔ اس کے لیے کسی کو ڈرایا یا ہراساں نہیں کیا جانا چاہیے۔

انڈیا کی وزارت خارجہ نے محمد زبیر پر اقوام متحدہ کے ریمارکس کے بارے میں کہا تھا کہ یہ بے بنیاد الزام ہے اور انڈیا کی آزاد عدلیہ میں مداخلت ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے کہا تھا کہ انڈیا میں کوئی بھی کارروائی عدالتی عمل کے ذریعے ہی کی جاتی ہے۔