مودی کی یوگا ڈے پر وائرل ویڈیو اور تصاویر تنقید کی زد میں: ’مودی کے لیے کیمرہ مین ایسے ہے، جیسے مرنے والے کے لیے آکسیجن سیلنڈر‘

    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

انڈین وزیراعظم نریندر مودی جہاں پریس سے بچنے کے لیے جانے جاتے ہیں، وہیں وہ تصاویر کھنچوانے کے معاملے میں بھی بہت حساس لگتے ہیں۔

وقتاً فوقتاً تصاویر سے ان کے لگاؤ کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے گرما گرم مباحثہ بھی نظر آتا رہا ہے۔ اکثر صارفین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم مودی سب کچھ کیمرے کے لیے اور اس کے حساب سے ہی کرتے ہیں۔

گذشتہ روز انڈیا سمیت دنیا بھر میں بین الاقوامی یوگا ڈے منایا گیا۔ جہاں یوگا کی تصاویر سوشل میڈیا پر چھائی رہیں، وہیں مودی کا ایک کلپ بھی وائرل رہا جس میں بظاہر وہ ایک شخص کو خود سے دور جانے کے لیے کہہ رہے ہیں۔

بہت سے صارفین نے لکھا کہ انھوں نے ایسا اپنی تصویر کے پرفیکٹ اینگل یعنی بہترین زاویے کے لیے کیا۔

معروف اداکار اور بی جے پی کے ناقد پرکاش راج نے اس وائرل ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’جب کیمرے کے زاویے کی بات آتی ہے تو کیا کوئی ہمارے سپریم ایکٹر/ڈائریکٹر کو شکست دے سکتا ہے؟‘

بہت سے صارفین نے لکھا کہ پوری ویڈیو نہیں پیش کی گئی، جس کے بعد کچھ صارفین نے اس سے آگے کی ویڈیو بھی شیئر کی۔

آگے کی ویڈیو جس میں ایک اور شخص جب مودی کے پیر چھونے کی کوشش کرتا ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ پہلی بار بھی انھوں نے اسی لیے اسے ہٹایا تھا لیکن ایسا ویڈیو میں نظر نہیں آتا۔

کانگریس پارٹی کی ترجمان شمع محمد نے لکھا کہ ’ریکارڈ مہنگائی اور بے روزگاری کے زمانے میں اپنے مستقبل کی حفاظت کے لیے ملک بھر میں نوجوان اپنے روزگار کی سکیورٹی کے لیے احتجاج کر رہے ہیں اور مودی کو صرف اس بات کی فکر ہے کہ ان کے لیے بہترین کیمرہ اینگل کیسے مل سکے۔‘

انڈین یوتھ کانگریس کے قومی صدر سرینیواس بی وی نے لکھا کہ آخر ’مودی جی کیا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

بہت سے لوگوں نے اس کیمرہ مین کی تعریف کی، جس نے یہ ویڈیو بنائی اور اسے ’پرفیکٹ اینگل‘ قرار دیا۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’اگر مودی کی زندگی پر حقیقی فلم بنائی جائے تو وہ لائٹ کیمرہ ایکشن سے شروع ہو گی اور لائٹ کیمرہ ایکشن پر ختم ہو گی۔‘

یاد رہے کہ اس سے قبل انڈین وزیراعظم نے 19 جون کو نئی دہلی میں ایک سرنگ کا افتتاح کیا تھا۔ اے این آئی کی ویڈیو کے مطابق اس موقع پر جب مودی کو گندگی نظر آئی تو وہ اسے اٹھانے لگے۔ اس ویڈیو میں انھیں چند کاغذ کے ٹکڑے اور ایک پلاسٹک کی بوتل اٹھاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس اقدام پر جہاں لوگوں نے صفائی سے متعلق مودی کی لگن کی بات کی تو وہیں کچھ لوگوں نے انھیں تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے ’فوٹو کا موقع‘ قرار دیا۔

مزید پڑھیے

کئی لوگوں نے لکھا کہ نئی تیار کردہ سرنگ میں جس کا افتتاح وزیراعظم کرنے والے ہوں کیا ایسی کوتاہی کی جا سکتی ہے۔

پریا ریٹرنز نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’حیرت ہے کہ مودی کی پی آر ٹیم کو کتنے دماغ سوز سیشن کرنے پڑے ہوں گے کہ مناسب جگہ پر کچرا رکھا جائے تاکہ وہ (مودی) کیمرے کے سامنے زیادہ سے زیادہ نظر آ سکیں۔‘

اس سے قبل گذشتہ سال بھی ساحل سمندر پر انھیں کوڑے کرکٹ اور پلاسٹک کی بوتلیں چنتے ہوئے دیکھا گيا تھا۔

شیلجا نامی ایک صارف لکھتی ہیں کہ ’پہلے خالی بوتل کو دانستہ طور پر رکھو، پھر اسے کیمرے کے سامنے اٹھاؤ۔ ویسے تو مودی جی کبھی نیچے دیکھتے نہیں تو وہ کس طرح سے جان پائے کہ وہاں (کونے میں) بوتل ہے۔‘

18 جون کو اپنی والدہ کی 100ویں سالگرہ کے موقع پر جب وزیر اعظم مودی ان سے ملنے گھر گئے تو وہاں کی بھی ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ پہلے ان کی گاڑی سے فوٹو گرافر اترتا ہے اور دوڑ کر گھر میں داخل ہوتا ہے، پھر صدر دروازے سے ایک دوسرا فوٹو گرافر دوڑتا ہوا داخل ہوتا ہے اور اس کے بعد ہی مودی اپنی کار سے اترتے ہیں۔

مدھو نامی ایک صارف نے مودی کے اپنی ماں سے ملنے کے دورے کی ایک وائرل کلپ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’مودی جی واحد بیٹے ہیں جو جب بھی اپنی ماں سے ملنے جاتے ہیں تو اپنی پوری کیمرہ ٹیم کو ساتھ لے جاتے ہیں۔ مودی کے لیے کیمرہ مین ایسا ہی ہے، جیسے کسی مرنے والے کے لیے آکسیجن سیلنڈر۔‘

اس سے قبل سنہ 2015 میں جب فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے انڈیا کا دورہ کیا تھا تو مودی فیس بک کی ایک خاتون اہلکار کے ساتھ بات کر رہے تھے اور ان کی تصویریں لی جا رہی تھیں کہ اسی دوران مارک زکربرگ ان کے سامنے آ گئے تو اچھی تصویر کے لیے مودی نے ان کو بازو سے پکڑ کر ایک کنارے کھینچ دیا۔

اس عمل کو جہاں بہت سے لوگوں نے ناشائستہ قرار دیا وہیں بہت سے لوگوں نے تصاویر کے لیے ان کے جنون کا مذاق بھی اڑایا۔

ایسا ہی ایک موقع سنہ 2019 میں اس وقت آیا جب مودی نے مراقبے کے لیے ایک غار میں ایک دن گزارا۔

انگریزی کے معروف اخبار ’دی ہندو‘ نے حکام کے حوالے سے لکھا کہ شمالی ریاست اتراکھنڈ کے مذہبی اہمیت کے مقام کیدارناتھ میں پہلی بار کسی غار کو بک کیا گیا ہو۔ وہاں بھی ان کے غار میں داخل ہوتے ہوئے جب تصویر آئی تو لوگوں نے کہا کہ کوئی غار میں پہلے سے بھی کیمرہ مین رکھتا ہے کیا۔

اس کے علاوہ وزیراعظم مودی کو دوسرے ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ملتے ہوئے تصویر کے لیے مناسب جگہ تلاش کرتے دیکھا گیا ہے۔