آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک، سوشل میڈیا پر تبصروں اور میمز کا ہنگامہ برپا
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ٹوئٹر پر کیے گئے ایک اعلان نے انڈیا کے سوشل میڈیا صارفین کی نیندیں اڑا دی بلکہ شاید چند اداروں کی رات گئے دوڑیں بھی لگوا دی ہوں گی۔
نہیں نہیں! ایسا نہیں جیسا آپ سوچ رہے ہیں، نہ انھوں نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت کو دوبارہ بحال کرنے کا اعلان کیا ہے اور نہ ہی چین یا پاکستان کے ساتھ کوئی محاذ کھولنے کی بات کی۔
تو پھر کیا ہوا جس نے انڈیا کے سوشل صارفین کو ساری رات بے چین کیا رکھا؟
تو جناب انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے ٹوئٹر اکاونٹ سے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب (پاکستانی وقت کے مطابق) تقریباً 2:11 منٹ پر اور 2:15 منٹ پر دو ٹویٹس کی گئیں جن میں کہا گیا کہ 'انڈیا میں بٹ کوائن کو سرکاری طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے اور حکومت ہند نے باقاعدہ طور پر 500 بٹ کوائن خرید لیے ہیں جنھیں وہ اپنی عوام میں تقسیم کرے گی۔ جلدی کیجیے اور مستقبل کا آغاز آج سے ہو رہا ہے۔'
انڈین وزیر اعظم کے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ سے ایسی ٹویٹ آنا حیران کن تھا، کیونکہ انڈیا کی بٹ کوائن یا کسی بھی قسم کی کرپٹو کرنسی استعمال کرنے سے متعلق کوئی سرکاری پالیسی نہیں ہے۔
مگر رکیے ذرا۔۔۔۔ یہ ٹویٹ اصل نہیں تھی بلکہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک ہو گیا تھا اور ہیکرز نے کرپٹو کرنسی سے متعلق ایک ٹوئٹ کر کے عوام کو نہ صرف گمراہ کرنے کی کوشش کی بلکہ اس سے انڈین وزیر اعظم کی عملے کو خفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
اس واقعے کے تقریباً ایک گھنٹے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کے دفتر کے سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک ٹویٹ کی گئی جس میں یہ کہا گیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا اکاؤنٹ کچھ لمحوں کے لیے معمولی طور پر ہیک کرنے کی کوشش کی گئی تھی جس پر ٹوئٹر کو آگاہ کر دیا گیا ہے اور اکاؤنٹ کو محفوظ بنا لیا گیا ہے۔
’اس اکاؤنٹ سے اس دوران شیئر کی جانے والی کسی بھی ٹویٹ کو نظر انداز کر دیا جائے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نریندر مودی کے اکاؤنٹ سے کرپٹو کرنسی کے متعلق کی جانے والی ٹویٹس کو تو فوری ہٹا دیا گیا لیکن کیا کہیے صاحب یہ انٹرنیٹ کی دنیا ہے، یہاں کچھ غائب تھوڑی ہوتا ہے۔
جب تک ادارے حرکت میں آئے تب تک ہزاروں افراد نے ان ٹویٹس کے سکرین شاٹس وائرل کر دیے تھے۔
یاد رہے کہ ستمبر 2020 میں بھی انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی ذاتی ویب سائٹ اور ٹوئٹر اکاونٹ ہیک ہوا تھا۔
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ٹوئٹر پر سات کروڑ 30 لاکھ سے زائد فالورز ہیں اور وہ دنیا کے ان چند سیاسی رہنماؤں میں سے ایک ہیں جن کے سوشل میڈیا فالورز کی تعداد اس قدر زیادہ ہے۔
انڈین وزیر اعظم کے ٹوئٹر ہینڈل سے اس ٹویٹ کا شائع ہونا تھا کہ انڈین سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس پر شدید حیرانی اور خدشات کا اظہار کیا گیا۔ بلکہ یوں کہیں کہ ایک طوفان برپا ہو گیا۔
کوئی اسے سیاسی رنگ دے رہا تھا تو کوئی مودی جی کی خیریت دریافت کر رہا تھا، کوئی ان کی رات میں تبدیل کی گئی پالیسیوں ک حوالہ دے رہا تھا تو کوئی صرف مودی کی خیریت دریافت کرتا رہا۔
سندیپ نامی ایک صارف نے لکھا کہ 'مودی جی کا اکاؤنٹ ہیک ہو گیا اس پر بٹ کوائن کا اشتہار چل رہا ہے پتا نہیں کیسے۔'
رنجیت نامی صارف نے ٹویٹ میں پوچھا کہ ' کیا مودی کا اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے یا وہ سرکاری اکاؤنٹ سے بٹ کوائن کے استعمال کو بڑھاوا دے رہے ہیں؟
راوندر کپور نامی صارف نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ 'آدھی رات کے وقت جب دنیا سو رہی تھی انڈین وزیر اعظم کا اکاؤنٹ ہیک ہوا اور بٹ کوائن کو قانونی قرار دے دیا گیا۔ نریندر مودی سب فیصلے گئے رات ہی کیوں لیتے ہیں۔ ‘
شاید ان کا اشارہ نریندر مودی کے اس فیصلے کی جانب تھا جب انھوں نے راتوں رات ملک میں کرنسی نوٹ تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
کچھ صارفین نے اس موقع پر سیاسی وار بھی کیے۔ راوندر نے ہی مزید تبصرہ کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ 'مودی کی ورلڈ کلاس سائبر سکیورٹی کو کیا ہوا؟ مودی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو ہیک کرنے کے بجائے ہیکرز نریندر مودی کو ہی لے جاتے تو کم از کم 135 کروڑ افراد جشن منا رہے ہوتے۔'
عرفان نظامی نامی صارف نے لکھا کہ 'کیا نریندر مودی کا اکاؤنٹ ہیک ہو گیا تھا یا وہ سنہ 2022 میں ہونے والے اتر پردیش انتخابات میں اقتدار میں آنے کے بعد یو پی کے شہریوں میں بٹ کوائن کے ذریعے (15 لاکھ) بانٹنے کا غیر رسمی وعدہ کر رہے تھے۔'
ایک اور صارف نے لکھا کہ 'جب کانگریس کے رہنما راہل گاندھی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک ہوا تھا تو کہا گیا تھا کہ اگر ٹوئٹر اکاؤنٹ محفوظ نہیں بنا سکتے تو ملک کیا چلاؤ گے۔ اب اس بارے میں کیا کہنا ہے؟
بلکہ کچھ مودی کے حمایتی عوام کو یہ بتاتے دکھائی دیے کہ افواہوں پر کان نہ دھریں کیونکہ وزیر اعظم مودی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک ہوا تھا جس فوری طور پر محفوظ بنا لیا گیا اور انھوں نے ایسی کوئی ٹویٹ نہیں کی۔
جہاں ٹویٹس کے ذریعے تبصرے تھے وہاں میمز کا سلسلہ بھی جاری رہا ایک صارف نے کچھ ایسا ردعمل دیا۔