آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا میں مودی کا ’ٹوائلٹ انقلاب‘ جس نے انڈین شہریوں کی زندگیاں بدلیں
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اُردو، دلی
انڈیا میں وزیراعظم نریندر مودی نے برسرِ اقتدار آنے کے بعد اکتوبر 2014 میں بیت الخلا یا ٹوائلٹس بنانے کی ایک ملک گیر مہم شروع کی تھی۔ ’سووچھ بھارت مشن‘ کے نام سے یہ مہم ایک قوی تحریک کے طور پر ملک کے طول وعرض میں شروع کی گئی۔
اس کا مقصد انڈیا کے ہر گھر میں ٹوائلٹ تعمیر کرنا تھا تاکہ کھلے مقامات کو رفع حاجت کے استعمال کے لیے پوری طرح بند کیا جا سکے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بی جے پی کی حکومت پورے ملک میں گذشتہ پانچ برس میں دس کروڑ سے زیادہ ٹوائلٹ تعمیر کر چکی ہے۔
انڈیا میں ثقافتی اور مذہبی اعتقادات کے سبب گھر کے اندر بیت الخلا بنانا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ بیشتر ہندوؤں کا یہ عقیدہ تھا کہ گھر ایک ’پاک صاف‘ جگہ ہے اور جس جگہ کھانا پکتا ہو اور کھایا جاتا ہو وہاں بیت الخلا تعمیر کرنا گھر کی پاکیزگی کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔
اس صورتحال میں گھر کے اندر ٹوائلٹ بنانے کے لیے لوگوں کو آمادہ کرنا بھی ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔
انڈیا میں ’ٹوائلٹس میوزیم‘ کے بانی بندیشور پاٹھک کہتے ہیں کہ ’انڈیا والوں کو یہ ثقافتی طور پر بتایا گیا تھا کہ گھر کے آس پاس ٹوائلٹس نہیں ہونے چاہیے۔ پرانی کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک تیر کمان سے چھوڑیے، جہاں تیر جا کر گرے، گھر سے اُتنی دوری پر مٹی کھودیے، رفع حاجت کیجیے اور اسے مٹی سے ڈھک دیجیے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اسی نوعیت کے تصورات کے سبب ملک کے بیشتر علاقوں بالخصوص چھوٹے چھوٹے قصبوں اور لاکھوں دیہاتوں میں ہندوؤں کے گھروں میں بیت الخلا نہیں ہوتا تھا اور لوگ اپنی فطری حاجت کی تکمیل کے لیے کھتیوں، جنگلوں اور ویران مقامات کا رُخ کیا کرتے تھے۔
عورتوں کے لیے یہ صورتحال اور بھی مشکل ہوتی تھی۔ یہ ایک مشکل عمل تھا جو صدیوں سے چلا آ رہا تھا۔ گھروں میں بیت الخلا نہ بنانے کا تعلق غربت سے زیادہ فرسودہ تصورات اور عقائد سے تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیت الخلا تعمیر کرنے کی ایک مہم سابقہ حکومت کے دور میں سنہ 2009 میں بھی ’نرمل بھارت‘ کے نام سے شروع کی گئی لیکن وہ بہت زیادہ کامیاب نہ ہو سکی تھی۔
مودی حکومت کی ’سووچھ بھارت‘ مہم ایک قومی تحریک کے طور پر شروع کی گئی اور اس کا پہلا مرحلہ 2019 میں اس وقت پورا ہو گیا جب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تقریباً نو کروڑ ٹوائلٹس تعمیر کیے جا چکے تھے۔
مہم کا دوسرا مرحلہ سنہ 2021 سے 2025 تک جاری رہے گا۔ حکومت کے مطابق اب تک ملک کے طول و عرض میں 10 کروڑ 87 لاکھ ٹوائلٹس تعمیر کیے جا چکے ہیں۔ اس مشن کے لیے 28 ارب ڈالر کی رقم مختص کی گئی اور اس کے نفاذ کے لیے لاکھوں سرکاری ملازمین اور طلبہ کی مدد لی گئی۔
اس میں ایک مسئلہ یہ درپیش ہے کہ بہت سے مقامات پر ٹوائلٹس تو تعیمر ہو گئے لیکن وہ پانی کی سپلائی یا نکاسی نہ ہونے کے سبب بیکار پڑے ہیں۔ بہت سے مقامات پر ٹوائلٹس کی دیواریں اور چھتیں وغیرہ مضبوط نہ ہونے کے سبب ٹوائلٹس مخدوش حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔
لیکن اس سے بھی پیچیدہ مسئلہ وہی پرانے اور دقیانوسی خیالات ہیں اور بہت سے مقامات پر سبھی سہولیات ہونے کے باوجود لوگ اب بھی کھلے میں ہی رفع حاجت کے لیے جاتے ہیں۔
معروف کالم نگار پتر لیکھا چٹرجی نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک بڑا قدم تھا لیکن اس میں ابتدائی طور پر توجہ ٹوائلٹس بنانے پر مرکوز تھی۔ یہ نہیں سوچا گیا کہ وہاں پانی کہاں سے آئے گا۔ گندے پانی کی نکاسی کیسے ہوگی۔ اس کی دیکھ بھال کون کرے گا اور سب سے بڑی بات یہ کہ لوگوں کو ٹوائلٹس استعمال کرنے کے لیے آمادہ کرنے کے لیے کیا کوششیں کی جائیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اس کے باوجود آج کروڑوں لوگ ٹوائلٹس استعمال کرنے لگے ہیں اور سب سے سے زیادہ فائدہ خواتین اور لڑکیوں کو ہوا۔
راجستھان کے سانگا نیر کے واٹیکا گاؤں کی سیتا چودھری کہتی ہیں کہ ’گھر میں ٹوائلٹ بننے سے بہت اچھا لگ رہا ہے، پہلے جنگلوں میں جانا پڑتا تھا۔ چھپ چھپ کے جانا پڑتا تھا، بہت دقت ہوتی تھی۔ لوگ آ جاتے تھے، کتے اور جنگلی جانور آ جاتے تھے۔ بہت ڈر رہتا تھا۔‘
اسی گاؤں کے رام بابو چودھری کہتے ہیں کہ ’اب بہت بڑا فرق آ گیا ہے۔ خاص کر ہماری بہو بیٹیوں کی تو زندگی ہی بدل گئی ہے۔ پہلے سردی کے دنوں میں باہر جانا پڑتا تھا۔ برسات میں باہر جانا پڑتا تھا۔ وہاں لوگوں کا مل جانا، کتوں کا ڈر، سوروں کا ڈر، ہر طرح کا ڈر ہوتا۔ اب اس سے آزادی مل گئی ہے۔‘
حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کی ترجمان شازیہ علمی کہتی ہیں کہ حکومت نے اس مہم کے تحت ملک میں اب تک 10 کروڑ 87 لاکھ ٹوائلٹس تعمیر کیے ہیں۔ اس سے پہلے کروڑوں عورتیں کھلے میں رفع حاجت کے لیے جایا کرتی تھیں ۔
’سنہ 2013 سے پہلے 32 فیصد بچیاں سکول سے ڈراپ آؤٹ ہو جاتی تھیں کیونکہ سکول میں ٹوائلٹس نہیں ہوتے تھے لیکن اب صورتحال بدل گئی ہے۔‘
لیکن بہت سے مقامات پر اب بھی ٹوائلٹس نہیں بنے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
اتر پردیش کے شیخ پور گاؤں کی لجاوتی بتاتی ہیں ’ہم شروع سے ہی باہر جاتے تھے اور اب بھی باہر جاتے ہیں۔ میرا بچہ معذور ہے مگر مجھے (سرکار کی جانب سے) ٹوائلٹ نہیں دیا گیا۔ میں بہت پریشان رہتی ہوں۔ میرے بچے بھی باہر جاتے ہیں۔‘
لجاوتی کی طرح بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کے یہاں مقامی سیاست یا بد انتظامی کے سبب ٹوائلٹس نہیں بن سکے ہیں۔ کئی مقامات پر جو ٹوائلٹس بنائے گئے ہیں ان کا معیار اتنا خراب ہے کہ وہ استعمال کے قابل ہی نہیں ہیں۔
شیخپور گاؤں کی ہی ارملا دیوی کہتی ہیں ’ہم لوگ پہلے بھی کھیت جاتے تھے اور اب بھی کھیت جاتے ہیں۔ لیٹرین بنی ہے لیکن وہ بالکل بیکار ہے۔ ریت سے بنوا دیا ہے۔ کچی اینٹ سے بنی ہے۔ اس کو بنوانے سے کیا فائدہ۔ اچھی بنواتے تو اس کا استعمال کرتے۔‘
شریف آباد گاؤں کے امیش چندر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’یہاں جو شوچالے یعنی ٹوائلٹس بنائے گئے ہیں ان میں کسی میں چھت نہیں تو کسی میں گڈھے نہیں بنے ہیں۔‘
بارہ بنکی کے ونے باجپئی کہتے ہیں ’صورتحال یقینی طور پر بدلی ہے لیکن اتنی نہیں بدلی جتنی حکومت چاہ رہی تھی۔ آپ کسی بھی دیہات چلے جائیں لوگ صبح لوٹا لیے ہوئے رفع حاجت کے لیے کھیتوں کی طرف جاتے ہوئے مل جائیں گے۔‘
ان سب کے باوجود مودی حکومت کاسووچھ بھارت مشن ملک میں ایک بہت بڑی تبدیلی لایا ہے۔
آج ان گھروں اور علاقوں میں کروڑوں جدید ٹوائلٹس بنے ہوئے ہیں جہاں پہلے موجود نہیں تھے اور ان میں سے بیشتر استعمال میں ہیں۔ یہ ایک بڑا چیلنج تھا اور حکومت بہت تک اپنے مشن میں کامیاب رہی ہے۔