آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹرین کا سفر: ’بہو، ٹوائلٹ اور مائنڈ دا گیپ‘
یہ ٹرین گجرات سے ممبئی جا رہی ہے۔ روز کی طرح کھچا کھچ بھری ہوئی ہے، کہیں پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں ہے۔
انڈیا میں ٹرین سے سفر کرنا ہو تو یہ نظارہ روزانہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہو بھی کیوں نہ، انڈین ریلوے سے ہر روز تقریباً 2 کروڑ 30 لاکھ لوگ سفر کرتے ہیں۔
فوٹو گرافر بھاسکر سولنکی ایک دن علی الصبح ریل کے سفر کا جائزہ لینے نکلے۔ ان کا سفر ان کی ہی زبانی:
یہ جینتی گاندھی ہیں۔ گذشتہ 35 سالوں سے روز ایک ہی روٹ پر جاتے ہیں۔ سورت اور ممبئی کے درمیان 300 کلومیٹر فاصلہ طے کرنے میں انھیں روز پانچ گھنٹے لگتے ہیں۔
جب ٹرین روانہ ہوئی تو شروع میں کم بھیڑ تھی۔ لوگ آرام سے دور، دور فاصلے پر بیٹھتے ہیں۔
پھر آہستہ آہستہ بھیڑ میں اضافہ ہونے لگا۔ آخر میں بھیڑ اتنی بڑھ گئی کہ ٹھیک سے کھڑا ہونا بھی مشکل ہو گیا۔
ایسے میں اگر آپ کو کچھ پکڑ کر کھڑے ہونے کے لیے مل جائے تو سمجھیے آپ خوش قسمت ہیں۔
ٹرین میں ہر جگہ لوگ موجود ہیں۔ بھیڑ اتنی زیادہ ہے کہ لوگ ٹوائلیٹ تک میں کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ دو گھنٹے میں اپنی منزل تک پہنچ جائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک سیٹ پر بائیں جانب راہل بیٹھے ہیں۔ وہ روز ’واپی‘ جاتے ہیں، صبح 4 بجے جاگ جاتے ہیں اور پھر 25 منٹ چل کر نوساری سٹیشن آتے ہیں۔ یہاں سے 65 کلومیٹر دور واپی جانے کے لیے ٹرین پکڑتے ہیں۔
پہلے ڈبے میں اشوک راؤ (نیچے بائیں) کو سیٹ کے کنارے بیٹھنے کی جگہ مل گئی ہے۔
انڈین ریل میں خواتین بوگی ہوتی ہے۔ اس بوگی میں صرف خواتین ہوتی ہیں۔ یہاں وہ کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ سے بچی رہتی ہیں۔
مانسی ممبئی میں ملازمت کرتی ہیں۔ وہ ہر ہفتے کے آخر میں گھر واپس جاتی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ وومن بوگی میں مشکل سے 60 یا 70 سیٹیں ہوتی ہیں اور عورتوں کی تعداد 150 سے زیادہ ہوتی ہے۔ روزانہ سفر کرتے کرتے لوگ ایک دوسرے کو جاننے لگتے ہیں۔ یہاں کئی بار بزرگ خواتین اپنے رشتہ داروں کے لیے بہو تک پسند کر لیتی ہیں۔
سبز رنگ کے کپڑوں میں ملبوس پلوی جیولری ڈیزائنر ہیں۔ انھیں آج کئی گھنٹے تک ایک لڑکی کے ساتھ آگے پیچھے بیٹھ کر جانا پڑا۔
انھوں نے بتایا کہ ایسے سفر کرنا ان کی کمر کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ انھیں دفتر جا کر اور مزید آٹھ گھنٹے میز پر بیٹھنا ہوتا ہے۔
آج پلوی کی سالگرہ ہے۔ اس خوشی میں وہ لوگوں میں تقسیم کرنے کے لیے ڈھوکلا لائی ہیں۔
جیسے ہی ٹرین ممبئی کے بیرونی علاقے پر پہنچی اور لوگ چڑھنے لگے تو اندر جگہ نہ ہونے کے باعث انھیں باہر لٹک کر سفر کرنا پڑا۔
منزل پر پہنچتے ہی اترتے وقت ایک شخص نے یاد دلایا کہ ذرا احتیاط سے اتریے گا۔
انھوں نے بتایا کہ ابھی کچھ دن پہلے ہی پٹری پر گرنے سے ایک شخص کی موت ہو گئی تھی۔