علی گڑھ: کالج کیمپس میں نماز پڑھنے کی ویڈیو وائرل ہونے پر مسلمان پروفیسر کو چھٹی پر بھیج دیا گیا

،تصویر کا ذریعہNora Carol Photography
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
انڈیا کے معروف شہر علی گڑھ کے ایک پرائیویٹ کالج کے پروفیسر کی کیمپس میں کھلی جگہ پر نماز ادا کرنے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد انتظامیہ نے چھٹی پر بھیج دیا ہے۔
انڈین میڈیا میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں پروفیسر ایس کے خالد کو شری ورشنی کالج کے کیمپس کے اندر ایک پارک میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
جیسے ہی ویڈیو وائرل ہوئی انڈیا میں دائیں بازو کی تنظیموں بشمول برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور یووا مورچہ نے پروفیسر اور کالج کے خلاف احتجاج کرنا شروع کر دیا۔
سوشل میڈیا پر نماز پڑھنے کے خلاف بھی باتیں کی جا رہی ہیں اور پروفیسر کو ایک ماہ کی چھٹی پر بھیجے جانے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بہر حال اس ویڈیو کو کالج حکام کے نوٹس میں لایا گیا اور ایک تحقیقاتی پینل تشکیل دیا گیا ہے۔
کالج کے پرنسپل اے کے گپتا نے دی انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ وہ اس واقعے کے وقت چھٹی پر تھے۔ انھوں نے کہا 'اس وقت میں چھٹی پر تھا۔ واپس آنے کے بعد میں نے پوچھ گچھ کی۔ پروفیسر نے مجھے بتایا کہ وہ جلدی میں تھے اور انھوں نے ایک پارک میں نماز پڑھی۔ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے جو حقائق کا جائزہ لے گی۔ پینل کے فیصلے کے مطابق، ضروری کارروائی کی جائے گی۔'

،تصویر کا ذریعہAni
حکام نے بتایا کہ اتوار کو قائم کیا جانے والا پینل اسی ہفتے اپنی رپورٹ پیش کرنے والا ہے۔ گپتا نے کہا کہ 'تحقیقاتی کمیٹی کی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا معافی مانگنے کی ضرورت ہے۔'
خطے میں دائیں بازو کے گروپوں کا کہنا ہے کیمپس کو مزید مذہبی عقائد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میں نے اس بارے میں دہلی یونیورسٹی میں تاریخ کے استاد اور کالم نگار ابھے کمار سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ ایک سیکولر ملک میں یہ افسوسناک واقعہ ہے کہ اقلیتی برادری کو اس طرح سے نشانہ بنایا جائے۔
انھوں نے کہا کہ 'یہ آئین ہند کی خلاف ورزی ہے کیونکہ آئین نہ صرف مذہبی آزادی کے تحت ہر مذہب کو عبادت کی آزادی دیتا ہے بلکہ اپنے مذہب کے تبلیغ کی بھی اجازت دیتا ہے۔'
انھوں نے کہا کہ 'چند فرقہ پرست انڈیا میں اقلیت اور بطور خاص مسلمانوں کے خلاف ہر قسم کے حربے استعمال کر رہے ہیں اور حکومت کی جانب سے ان کے اقدام پر خاموشی سے ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔'
انھوں نے کہا کہ 'جب انڈیا کے بابائے قوم مہاتما گاندھی خود کو عقیدت مند ہندو کی طرح پیش کر سکتے ہیں اور ان کی پرارتھنا سبھا (عبادت کے اجتماع) پر کسی کو اعتراض نہیں تو پھر دوسرے کو کس طرح اس سے روکا جا سکتا ہے۔'
یہ بھی پڑھیے
ابھے کمار نے مزید کہا کہ 'دارالحکومت دہلی میں جواہر لعل نہرو جیسے مؤقر ادارے میں ہر طرح کی پوجا ہوتی ہے اور وہاں دائیں بازو کے لوگوں کو بلایا جاتا ہے جو اپنی باتیں رکھتے ہیں۔ ان کو انتظامیہ کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ جب دہلی میں ایسا ہو سکتا ہے تو آپ سوچیے کہ باقی دور دراز کے تعلیمی مقامات پر کیسا ہوتا ہوگا۔'
سویڈن کی اپسلا یونیورسٹی میں کنفلکٹ سٹڈیز کے پروفیسر اشوک سوائیں نے اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ 'دائیں بازو کے ہندو جنون نے تمام حدیں پار کردی ہیں۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
جبکہ ابھے کمار کا کہنا تھا کہ وہ کالج انتظامیہ کی بھی اسی قدر مذمت کریں گے جتنی وہ دائیں بازو کے فرقہ پرستوں کی کہ انتظامیہ نے فرقہ پرستوں کے دباؤ میں ہتھیار ڈال دیے۔
ہرنی کلیمر نامی ایک صارف نے انڈین ایکسپریس کی خبر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ جہاں ایک خاص برادری کا یہ مطالبہ ہے کہ سب سرسوتی وندنا کریں (ہندو دیوی سرسوتی کی ذکر) کریں وہاں علی گڑھ کے ایک پروفیسر کو نماز پڑھنے کے لیے چھٹی پر بھیج دیا جاتا ہے اور ان کے خلاف جانچ کا حکم دیا جاتا ہے۔'

،تصویر کا ذریعہTwitter
بہت سے لوگوں نے اس پر افسوس اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انڈیا کے سرکاری سکولوں میں ہندو دیوی سرسوتی کی پوجا عام بات ہے۔
شیام تیواری نامی صارف نے لکھا ’اے بی وی پی (بی جے پی کی طلبہ ونگ) کے رہنما کپل چودھری نے گاندھی پارک پولیس سٹیشن میں بھی شکایت کی ہے اور کہا کہ 'کالج میں نماز پڑھ کر اسے اسلامی بنایا جا رہا ہے۔ اگر آج ان کو نہیں روکا گیا تو بچے کلاس میں بھی نماز پڑھیں گے۔'

،تصویر کا ذریعہTwitter
احمد خبیر نامی صارف نے لکھا ’کالج کے احاطے میں نماز پڑھنا جرم ہے لیکن کالج کے مندر میں پوجا آرتی کرنا سب کے لیے خوشبختی ہے۔ (آئین کا آرٹیکل 25-28 تمام شہریوں کو مذہب کی آزادی فراہم کرتا ہے جس کے تحت اس پر عمل کرنا اس پر یقین رکھنا اور اس کی تبلیغ کرنا شامل ہے)۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
ہم نے اردو کے معروف صحافی اور بہار کے ایک کالج میں اردو کے استاد زین شمسی سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ مسلمان اس کے لیے یا تو قانونی لڑائی لڑیں یا پھر مسلمانوں کا ایک وفد وزیر اعظم سے ملے اور انھیں اس کے متعلق بتائے۔
انھوں نے کہا کہ ’مسلمانوں کے لیے حالات نازک ہیں ایسے میں ان کے لیے احتیاط ضروری ہے۔ اگرچہ وہ تعلیمی اداروں کو مذہب سے دور رکھنے کی بات کہتے ہیں لیکن وہ خود اس کے مرتکب ہیں۔ دو فیصد لوگ ایسا کرتے ہیں اور حکومت کی خاموشی ان کو 98 فیصد بنا دیتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہماری عدالتیں بھی یکطرفہ از خود نوٹس لیتی ہیں۔ ان سب کی وجہ سے فرقہ پرستوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔‘
انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک کے تعلیم اداروں میں ابھی حجاب کا مسئلہ جوں کا توں بنا ہوا ہے جبکہ مسلمانوں کو کبھی بیف کے نام پر تو کھبی لو جہاد کے نام پر تو کبھی محض مسلم ہونے کے شبے میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔













