انڈین پنجاب میں حالیہ حملے اور گرفتاریاں: کیا انڈیا میں 'خالصتان تحریک' دوبارہ زور پکڑ رہی ہے؟

،تصویر کا ذریعہTimes of India
- مصنف, نیاز فاروقی
- عہدہ, بی بی سی، نئی دہلی
انڈیا کی ریاست پنجاب 1980 اور 90 کی دہائی میں شدت اختیار کرنے والی عسکریت پسند خالصتان تحریک کے بعد سے زیادہ تر پُرسکون رہی ہے تاہم گذشتہ دنوں میں پنجاب میں کچھ ایسی سرگرمیاں ہوئی ہیں جو پرانے دنوں کی یاد دلاتی ہیں۔
خالصتان تحریک سکھوں کے لیے ایک علیحدہ وطن بنانے کا مطالبہ تھا جس کے دوران پُرتشدد کارروائیاں ہوئیں اور درجنوں جانوں کا ضیاں ہوا۔
رواں ماہ نو مئی کو موہالی میں پنجاب پولیس کے انٹیلیجنس ونگ پر آر پی جی سے فائرنگ کی گئی۔ موہالی میں ہوئے اس حملے سے ایک دن پہلے پنجاب پولیس نے سرحدی ضلع ترن تارن سے آر ڈی ایکس سے بھرے دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) برآمد کرنے کے دعوے کے بعد دو افراد کو گرفتار کیا۔
اس سے تین دن پہلے ریاست ہریانہ کی پولیس نے کرنال سے تین دیسی ساختہ بم اور ایک پستول کی برآمدگی کرتے ہوئے چار افراد کو گرفتار کیا جبکہ اسی دوران ہمالیائی ریاست ہماچل پردیش کی اسمبلی پر خالصتان کا پرچم لگا ہوا ملا۔

،تصویر کا ذریعہANI
اسی دورانیے میں بیرون ممالک میں مقیم خالصتان تحریک سے منسلک کئی رہنماؤں نے بھی علیحدگی پسندی پر مبنی پیغامات بھی نشر کیے۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ سبھی واقعات ایک مشترکہ کوشش کا حصہ ہیں یا علیحدہ علیحدہ واقعات ہیں لیکن تھوڑے سے عرصے میں یکے بعد دیگرے پیش آنے والے ان واقعات نے چند پریشان کُن سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعات ’توجہ حاصل کرنے کے لیے ہیں‘ کیونکہ خالصتان تحریک کی اب عام لوگوں میں حمایت موجود نہیں ہے۔
گرو نانک دیو یونیورسٹی کے سینیئر پروفیسر کلدیپ سنگھ کہتے ہیں کہ خالصتان کی ملک کے باہر سے حمایت کے باوجود ’مجھے پنجاب میں عسکریت پسندی کے دوبارہ زندہ ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا کیونکہ میرا ماننا ہے کہ پنجاب میں ایسے گروہوں کے لیے اب کوئی حمایت نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ عوام کی حمایت کے بغیر کہیں بھی عسکریت پسندی زندہ نہیں رہ سکتی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پنجاب یونیورسٹی کے سینیئر پروفیسر رونکی رام بھی اُن سے اتفاق رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’ان کی (خالصتان تحریک) مخالفت سول سوسائٹی کے طرف سے ہی نہیں بلکہ سیاسی پارٹیوں کی طرف سے بھی ہے۔ تمام اپوزیشن جماعتیں اس مسئلے کی مخالفت کے موضوع پر یک زبان ہیں۔‘
ان معاملات کا جائزہ لینے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ خالصتان تحریک تھی کیا اور اب کہاں کھڑی ہے۔
خالصتان تحریک کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خالصتان تحریک سکھوں کے لیے الگ وطن کا مطالبہ کرتی ہے۔ اگرچہ سکھوں کی علیحدہ سرزمین کا مطالبہ کئی دہائیوں پرانا ہے لیکن 1980 کی دہائی میں اس نے زور پکڑا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اس میں اہم موڑ سنہ 1984 میں اس وقت آیا جب انڈیا کی مرکزی حکومت نے امرتسر میں سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل کے اندر سکھوں کے ایک گروہ کے خلاف آرمی ایکشن لیا۔
یہ بھی پڑھیے
گولڈن ٹیمپل پر سکھ مذہبی رہنما جرنیل سنگھ بھنڈرانوالا کا قبضہ تھا جو سکھوں کے لیے زیادہ خود مختاری چاہتے تھے۔ بہت سے لوگوں کا خیال یہ بھی ہے کہ وہ علیحدگی پسند عسکریت پسند تھے لیکن مخالف دلائل دیے جاتے ہیں کہ وہ کبھی انڈیا سے علیحدگی نہیں چاہتے تھے۔
اُن کے مدرسے سے منسلک ایک شخص نے بی بی سی کے مارک ٹلی کو سنہ 2004 میں بتایا کہ بھنڈرانوالا علیحدہ خالصتان سرزمین کے حق میں نہیں تھے لیکن انھوں نے یہ ضرور کہا تھا کہ اگر حکومت نے خالصتان دیا تو وہ ناں نہیں کہیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس وقت کی حکمران جماعت کانگریس نے اکالی دل، جو کہ ابتدا میں سکھوں کے علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا کرتے تھے، کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا تھا۔
لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ دیہی سکھوں کا ایک بڑا حصہ بھنڈرانوالا کی حمایت کرتا تھا جو کہ حکومت کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی تھی۔
انڈین حکومت نے سنہ 1984 میں بالآخر گرودوارے میں فوج بھیج دی جس کے نتیجے میں وہاں خونریزی ہوئی اور بھنڈروالے سمیت سینکڑوں ہلاک ہوئے۔
انڈین حکومت کے مطابق 87 فوجیوں سمیت تقریباً 400 افراد ہلاک ہوئے لیکن سکھ جماعتیں اس اعداد و شمار پر تشویش ظاہر کرتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں بڑی تعداد میں وہ زائرین بھی شامل ہیں جو سکھوں کے ایک اہم تہوار کے لیے وہاں موجود تھے۔
سکھ، یہاں تک کہ اکالی دل کے حامی جو اب تک بھنڈرانوالا کے مخالفت کرتے تھے، انھیں ایک سنت کے طور پر دیکھنے لگے اور گولڈن ٹیمپل پر حملہ کو ان کے مقدس مقام کی بے حرمتی کے طور پر دیکھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس معاملے نے ریاست میں ایک طوفان برپا کر دیا جو کہ 90 کی دہائی کے اوائل تک جاری رہا اور جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔
اسی دوران کئی عسکریت پسند گروہ ابھرے اور انھیں قابو کرنے کے کی کوشش میں پولیس پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزام لگے۔
حالات اس حد تک خراب ہو گئے کہ وزیر اعظم اندرا گاندھی کے سکھ باڈی گارڈز نے گولڈن ٹیمپل واقعے کے تقریباً چار ماہ بعد انھیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
اس تحریک کے دوران عسکریت پسندوں نے کئی ہوائی جہازوں کو بھی ہائی جیک کیا، اور ایسے ہی ہائی جیکنگ کے ایک واقعے میں طیارے میں سوار 329 مسافروں اور عملے کے ارکان کی موت ہو گئی۔ ایک اور واقعے میں ایک طیارہ ہائی جیک کر پاکستان کے شہر لاہور لایا گیا۔

،تصویر کا ذریعہTHE CORK EXAMINER
’انتشار کا دور‘
خالصتان کا مطالبہ طویل عرصے سے کچھ حلقوں میں محدود تھا لیکن کبھی بھی مرکزی دھارے کا حصہ نہیں تھا۔گولڈن ٹیمپل پر حملے کے علاوہ پڑوسی ریاستوں میں پانی کی تقسیم جیسے تنازعات کی اکالی دل کے ساتھ بھنڈرانوالا نے بھی مخالفت کی تھی۔
بھڈروالے وہی مطالبات کیے جو اکالی کر رہے تھے لیکن وہ کہتے تھے کہ اکالی مرکز سے سکھوں کے مطالبات حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ وہ جلد ہی اکالیوں سے زیادہ مقبول ہو گئےخاص طور پر پنجاب کے دیہی علاقوں کے جٹ سکھوں میں۔
پروفیسر کلدیپ کا کہنا ہے کہ ’بھنڈروالے نے کئی وہ مطالبات نہیں کیے جو اکثر ان سے منسوب کیے جاتے ہیں۔ لیکن انھوں نے یہ کہا کہ گولڈن ٹمپل میں آ کر اگر حکومت ہند گولڈن ٹیمپل پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو میں یہ جگہ نہیں چھوڑوں گا۔‘
پروفیسر کلدیپ جو کہ امرتسر کے گرونانک دیو یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، گولڈن ٹمپل حملے کے بعد کے دور کو ’مکمل انتشار کا دور‘ کہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ کہتے ہیں یہ ایک ’مکمل الجھن کا دور تھا۔ اور اس طرح کا غیر یقینی صورتحال 1993 تک جاری رہی کیونکہ بہت ساری عسکریت پسند تنظیمیں آ چکی تھیں، (اور یہ واضح نہیں تھا) کہ ان کا لیڈر کون تھا، کون ان کو کنٹرول کر رہا تھا، وہ کیا کر رہے تھے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اس سراسر الجھن کے دور سے نکل کر سکھوں نے عسکریت پسندوں کے مخالفت کا انتخاب کیا۔ اس سے 'موڈریشن' (اعتدال) کا مرحلہ شروع ہوا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’1990 کی دہائی کے بعد میں نے اس وقت کے اکالی دل کے صدر پرکاش سنگھ بادل کو مشورہ دیا۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ پنجاب میں عسکریت پسندی کی ناکامی کے بعد اکالیوں کی سیاست کا موڑ کیا ہونا چاہیے۔ میں نے انھیں پارٹی کو اعتدال پسند خطوط پر دوبارہ ترتیب دینے کا مشورہ دیا اور اسے پنجابی پارٹی بنانے کو کہا جو انھوں نے کیا۔ وہ اس کے بعد 10 سال تک مسلسل اقتدار میں رہے۔‘
یہ معتدل سیاست انتخابی طور پر کامیاب ثابت ہوئی۔ کلدیپ کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ عسکریت پسندوں کا کوئی خاص اہمیت نہیں ہے یہاں تک کہ جاٹ سکھ کسانوں میں بھی۔

،تصویر کا ذریعہPIB
حالیہ تشدد کا کیا مطلب ہے؟
انڈین حکومت نے تشدد کے ان واقعات کے لیے انڈیا سے باہر خالصتان علیحدگی پسندوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور سکیورٹی ماہرین بھی اس سے اتفاق رکھتے ہیں۔
پروفیسر رونکی رام کہتے ہیں ’کچھ طاقتیں ریاست میں کس وجہ سے مسئلہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہ وہی بہتر جانتے ہیں۔ جہاں تک پنجاب کے لوگوں کا تعلق ہے، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ سب ایک آواز میں ان افعال کی مخالفت کر رہے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ایسا اس لیے ہے 'کیونکہ وہ عسکریت پسندی کے ایک دور سے گزر چکے ہیں اور جانتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’وہ تمام لوگ جو بیرون ملک سے لڑ رہے ہیں یہاں آئیں، یہاں سے لڑیں۔ ہماری زندگیوں کو کیوں جہنم بنا رہے ہو؟‘
پنجاب پولیس کے خفیہ ونگ پر آر پی جی کا نو مئی کے حملے کو پنجاب پولیس نے ’معمولی پرتشدد کارروائی‘ قرار دیا لیکن حکومت نے جس عجلت سے ردعمل کا اظہار کیا اس سے معاملے کی سنگینی ظاہر ہوتی ہے۔
حالیہ دیگر معاملات کی طرح پنجاب پولیس نے فوری طور پر نتائج کا اعلان کیا، مثلاً اس حملے کے ایک دن بعد ہی پولیس نے چھ ملزمان کی گرفتاری کا اعلان کیا۔
انڈین حکومت اکثر پاکستان پر ریاست پنجاب میں مشکلات پیدا کرنے کا الزام عائد کرتی ہے۔ اس کا یہ بھی الزام ہے کہ پاکستان خالصتان کے بہت سے ارکان کو پناہ دیتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSATPAL DANISH
گذشتہ جمعہ کی شام ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ویریش کمار بھورا نے الزام عائد کیا کہ ’نو مئی کو موہالی میں ریاستی پولیس کے انٹیلیجنس ونگ ہیڈ کوارٹر پر آر پی جی حملہ ببر خالصہ انٹرنیشنل کے ایک گروہ نے پاکستان کی خفیہ ایجنسی کی پشت پناہی سے گینگسٹرز گروہ نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔‘
اہم بات یہ ہے کہ بی بی سی پنجابی کے مطابق اس عمارت کے اندر یا باہر کوئی بورڈ نہیں ہے جس پر لکھا ہو کہ یہ پولیس کا انٹیلیجنس محکمہ ہے۔ اور وہاں کے زیادہ تر افسران سول وردی میں رہتے ہیں جس کی وجہ سے عام آدمی کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اس عمارت کے اندر کیا ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آوروں کو اس جگہ کا علم تھا۔ حملے میں آر پی جی کے مبینہ استعمال کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی پنجابی کو بتایا کہ ’ماضی میں لانچرز اور دستی بم برآمد ہوئے ہیں لیکن آر پی جی کے استعمال کے شواہد بہت تشویشناک ہیں۔‘
پنجاب میں عسکریت پسندی کے دوران کئی اہم عہدوں پر فائز رہنے والے ایک اہلکار نے کہا کہ موہالی میں ہونے والا حملہ سنگین ہے جس کے ذریعے کئی طرح کے پیغامات گئے ہیں۔ ’ایک تو یہ کہ عسکریت پسند اب بھی موجود ہیں۔ دوسرا ان کے پاس کسی بھی ہدف پر حملہ کرنے کے ذرائع دستیاب ہیں۔ تیسرا یہ عوامی عدم تحفظ کو بڑھا سکتا ہے اور چوتھا یہ پولیس کے حوصلے پست کر سکتا ہے۔‘
لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ایسے حملے محض ’پبلسٹی سٹنٹ‘ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس طرح کی سرگرمیاں ریاست میں پرانی سیاسی جماعتوں کا کمزور ہونے کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے کر کے حملہ آور خبروں میں رہنا چاہتے ہیں اور ریاست میں پریشانی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن عوام میں ان کی کوئی حمایت نہیں ہے۔
رونکی رام کا کہنا ہے کہ ’لیکن پنجاب کے عوام نے، نہ کہ حکومت نے، دہشت گردی کو شکست دی۔ جب مقامی خطرات سامنے آئیں تو انھوں نے اُن کا ساتھ نہیں دیا بلکہ انھیں پولیس کے حوالے کر دیا۔‘
کلدیپ کہتے ہیں کہ بیرون ملک سے لوگ ایسے عناصر کو انڈیا کے خلاف استعمال کر رہے ہیں اس لیے خطرے کا امکان ہمیشہ رہے گا۔
وہ کہتے ہیں ’اس طرح کے واقعات ہمیں ان کالے دنوں کی یاد دلاتے ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس طرح کے واقعات سے پنجاب میں عسکریت پسندی کی پھر سے شروعات ہو گی۔‘









