آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دلی کے جہانگیر پوری فسادات: انڈیا میں مسلم مخالف ’نفرت انگیز مہم‘ پر ہندو خاموش کیوں؟
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
دلی کا جہانگیر پوری کا علاقہ اس وقت پولیس کے محاصرے میں ہے جہاں ہفتے کے روز ہنومان جینتی کے جلوس کے دوران مذہبی فسادات کے بعد کرفیو لگا ہوا ہے۔ سینکڑوں پولیس کے جوان وہاں تعینات ہیں۔
باہر کے کسی شخص کو علاقے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ آج صبح حکمران جماعت بی جے پی کے زیر انتطام مقامی میونسپلٹی کے حکم پر یہاں ناجائز تجاوزات کو بلڈوزر سے مسمار کر دیا گیا۔
سپریم کورٹ نے فی الحال مہندم کرنے کی کارروائی کو روک دیا ہے۔ فسادات کے لیے متعدد مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بغیر اجازت جلوس نکالنے کے لیے بعض ہندوؤں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ فضا میں کشیدگی ہے۔
اس سے پہلے مدھیہ پردیش کے کھرگون قصبے میں گذشتہ ہفتے رام نومی کے جلوس کے دوران فسادات برپا ہونے پر درجنوں مسلمانوں کو پتھراؤ کرنے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا اور ان کے مکان منہدم کر دیے گئے۔
بلڈوزر سے مکانات گرائے جانے کا منظر ٹی وی چینلوں پر فخریہ انداز میں دکھایا گیا۔ بی جے پی کی حکومت کو 'بلڈوزر حکومت ' قرار دیا جاتا ہے۔
بجرنگ منی ایک نوجوان شعلہ بیان ہندو سادھو ہیں۔ وہ پولیس کے تحفظ میں ایک جلوس میں تقریر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر کسی مسلم نے کسی ہندو لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو وہ سر عام مسلم خواتین اور لڑکیوں کا ریپ کریں گے۔
ایک دوسرے شعلہ بیان اور سخت گیر سادھو سوامی یتی نرسنگھا نند سرسوتی ہندو سادھوؤں کے ایک اجتماع میں ہندوؤں پر زور ڈال کر کہتے ہیں وہ زیادہ سے زیادہ بچے پیدہ کریں ورنہ چند برس میں ہندو انڈیا میں اقلیت میں بن جائیں گے اور مسلمان حکومت پر قبضہ کر لیں گے۔
ملک کی کئی ریاستوں میں لاؤڈ سپیکر پر اذان دینے کے خلاف بھی مہم چل رہی ہے۔
مسلمانوں کے خلاف نفرت کا یہ سلسلہ بہت طویل ہے اور مسلمان سکتے میں ہیں۔ کئی تجزیہ کاروں کا خیال کہ نفرت کی یہ مہم اور یہ اشتعال انگیزی ایک منظم منصوبے کا حصہ نظر آتی ہے۔
’ہندوؤں کو مذہب کی افیون چٹا دی گئی ہے‘
ملک کی معروف صحافی سکشی جوشی کہتی ہیں کہ حکمراں بی جے پی نے ’تاریخ کو صحیح کرنے اور ہندو راشٹر کے قیام کا خواب دکھا کر ہندوؤں کے ذہن میں یہ بیٹھا دیا ہے کہ ماضی میں سبھی فیصلے غلط ہوئے۔‘
موجودہ صورتحال پر ہندوؤں کی خاموشی پر ساکشی کہتی ہیں انڈیا کے ہندوؤں کو ’مذہب کی افیون چٹا دی گئی ہے۔‘
’بی جے پی اور آر ایس ایس نے ایک تابعدار میڈیا اور عدلیہ کی تاریخی خاموشی سے ہندوؤں کو یہ سمجھا دیا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہو رہی ہے۔ بلکہ وہ اسی برتاؤ کے حقدار ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں ’آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مغل بادشاہوں کو آج کے مسلمانوں سے جوڑ کر تاریخ میں جتنی بھی شکست ہوئی ہے اس کا بدلہ لینے تیار کیا جا رہا ہے۔ پوری ریاستی مشینری، سوشل میڈیا یہاں تک کہ فلموں کے ذریعے ایک پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ جھوٹ اور نفرت کی ایک ایسی فوج تیار کر دی گئی ہے جس کے آگے سچ بولنے والے بہت کم ملتے ہیں۔
’کئی کے پاس ہمت نہیں ہوتی اور جن کے پاس ہمت ہے بھی وہ تھوڑا بہت ان کی باتوں میں آ کر بہک جاتے ہیں۔ جو پھر بھی آواز اٹھاتے ہیں انھیں اربن نکسل، ملک دشمن اور پاکستان پرست کہہ کر مسترد کر دیا جاتا ہے۔‘
ان کے مطابق مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد اور تفریق کا جو سلسلہ اس وقت پھیلا ہوا ہے اس طرح کی صورتحال گذشتہ کئی عشروں میں نطر نہیں آتی۔ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندوؤں کی اکثریت بھی اس طرح کی نفرت انگیز فضا کے لیے تیار نہیں تھی۔ سیاسی جماتیں جو ابتدا میں سنبھل کر بول رہی تھیں اب اپنی آواز اٹھا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
’لوگ خطرہ نہیں مول لینا چاہتے‘
عام آدمی پارٹی کے سیںیئر رہنما منیش سیسودیا نے حکمراں بی جے پی کو 'فسادیوں کی پارٹی ' قرار دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ کو ملک میں دنگے فساد بند کرانے ہیں تو آپ بی جے پی کے ہیڈ کوارٹر پر بلڈوزر چلائيے۔ آپ وزیر داخلہ امت شاہ کی رہائش گاہ پر بلڈوزر چلائیے۔
’یہی لوگ فسادات کرا رہے ہیں۔ یہ منہگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت اور غربت جیسے اہم اور اصل سوالوں پر کبھی بات نہیں کرتے۔ یہ صرف فسادات اور نفرت کی سیاست سے اقتدار میں جما رہنا چاہتے ہیں۔‘
دانشور اور تجزیہ کار غزالہ وہاب کہتی ہیں کہ وہ اس امر سے متفق نہیں ہیں کہ لبرل ہندو آواز نہیں اٹھا رہے ہیں کیونکہ اب بھی بہت سی آوازین اٹھتی ہیں۔
'ہم نے دلی کے فسادات کے دوران دیکھا کہ جو لوگ مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے آگے آئے ان میں اکثریت ہندوؤں کی تھی۔ این آر سی اور اینٹی سی اے اے تحریک مین بڑی تعداد میں ہندو مسلم خواتین کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے۔‘
تاہم غزالہ کہتی ہیں ایک بڑی تبدیلی اب یہ آئی ہے کہ آج آر ایس ایس بہت گہرے طریقے سے معاشرے میں ہر جگہ پہنچ چکی ہے۔
ان کے مطابق ’ہندوؤں کی ایک خاصی تعداد آر ایس ایس کے زیر اثر آ چکی ہے۔ وہ نفرت کے نظریے سے متاثر ہو گئے ہیں۔ وہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس لیے ہر انسان یہی سوچ رہا ہے کہ موجودہ حالات میں اپنے آپ کو بچا کر چلو۔
’لوگ خطرہ نہیں مول لینا چاہتے۔ وہ سوچتے ہیں جب حالات بہتر ہوں گے تب باہر نکلیں گے۔ یہ ایک پیچیدہ صوررتحال ہے۔‘
حکومت کا موقف ابھی تک یہ رہا ہے کہ وہ مذہب کی بنیاد پر کسی سے تفریق نہیں برتتی اور وہ سب کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتی ہے۔
ملک کی سیاسی جماعتوں نے گذشتہ دنوں وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ وہ نفرت اور تشدد کی لہر کے خلاف بیان دیں لیکن ابھی تک وہ خاموش ہیں اور ان کی حکومت بھی پوری طرح خاموش ہے۔
ایسے لوگ جو نفرت اور تشدد کو ہوا دے رہے ہیں وہ اس خاموشی کو نفرت کی سیاست کی توثیق سمجھ رہے ہیں۔