آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا میں اونچی ذات کے ہندوؤں کے مقابلے میں قبائيلیوں، دلت اور مسلمانوں کی اوسط عمریں کم کیوں؟
- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, بی بی سی نیوز
انڈیا میں پیدا ہونے والا ایک بچہ 69 سال تک زندہ رہنے کی توقع کر سکتا ہے اور یہ عالمی اوسط سے صرف تین سال کم ہے۔ لیکن نئی تحقیق کے مطابق انڈیا کے مختلف سماجی گروہوں کے درمیان اوسط زندگی کا فرق موجود ہے جو بڑھ رہا ہے۔
سنگیتا ویاس، پائل ہاتھی اور آشیش گپتا کے تحریر کردہ مقالے کے مطابق ملک کے اونچی ذات کے ہندوؤں کے مقابلے میں سب سے پسماندہ سماجی گروہوں سے تعلق رکھنے والوں یعنی آدیواسی یا مقامی قبائلی لوگ، دلت (پسماندہ طبقے کے لوگ جنھیں پہلے اچھوت کے نام سے جانا جاتا تھا) اور مسلمانوں کے کم عمری میں مرنے کا امکان زیادہ ہے۔
انھوں نے اپنی تحقیق کے لیے انڈیا کی نو ریاستوں کے دو کروڑ سے زیادہ لوگوں کے سرکاری صحت کے سروے کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جو انڈیا کی ایک ارب 40 کروڑ آبادی کا تقریباً نصف ہے۔
ان محققین نے دیکھا کہ آدیواسیوں اور دلتوں کی متوقع عمر اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کے مقابلے میں بالترتیب چار اور تین سال کم تھی۔ مسلمانوں کے بارے میں یہ بات پائی گئی کہ وہ اعلیٰ ذات کے ہندوؤں سے اوسطا ایک سال کم زندہ رہیں گے۔
آئیے اب ہم اس فرق کو جنس کے لحاظ سے مزید خانوں میں دیکھتے ہیں۔
انڈیا کی پسماندہ خواتین کے کتنے سال تک زندہ رہنے کی توقع ہے: آدیواسیوں کے لیے یہ 62.8 سال، دلتوں کے لیے 63.3 سال اور مسلمانوں کے لیے 65.7 سال ہے۔ اوسطاً اونچی ذات کی ہندو عورتوں کی 66.5 سال تک زندہ رہنے کی امید کی جاتی ہے۔
اس تحقیق کے مطابق پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے مردوں کی اوسط عمر یہ ہے: آدیواسیوں کے لیے 60 سال، دلتوں کے لیے 61.3 سال اور مسلمانوں کے لیے 63.8 سال۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اونچی ذات کے ہندو آدمی کے اوسطاً 64.9 سال تک زندہ رہنے کی امید کی جا سکتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ برسوں کے لحاظ سے اس طرح کے مستقل فرق امریکہ میں سیاہ فام اور سفید فام امریکیوں کے درمیان متوقع عمر کے معاملے نظر آتے تھے۔ چونکہ انڈیا میں متوقع عمر امریکہ کی سطح کے چار کے پانچویں حصے سے کم ہے اس لیے انڈیا میں نظر آنے والے نتائج فیصد کے لحاظ سے زیادہ نمایاں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا میں یقینی طور پر ادویات، حفظان صحت اور صحت عامہ میں پیشرفت کی وجہ سے متوقع عمر میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔ نصف صدی قبل، انڈیا میں لوگ بہ مشکل اپنی 50 کی دہائي کو عبور کر پاتے تھے۔ اب وہ تقریباً 20 سال تک زیادہ زندہ رہنے کی توقع کر رہے ہیں۔
اسی کے متعلق آشیش گپتا اور نکیل شدرسنن کی ایک تحقیق میں کہا گيا ہے کہ اس اچھی خبر کے ساتھ بُری خبر یہ ہے کہ اگرچہ تمام سماجی گروہوں کی متوقع عمروں میں اضافہ ہوا ہے، لیکن ان میں موجود فرق میں کمی نہیں آئی ہے۔
بعض معاملات میں حقیقی فرق بڑھا ہے: مثال کے طور پر دلت مردوں اور اعلیٰ ذات کے ہندو مردوں کے درمیان متوقع عمر کا فرق، سنہ 1990 کی دہائی کے آخر اور 2010 کی دہائی کے وسط کے درمیان واقعتاً بڑھ گیا تھا۔ اور اگرچہ سنہ 1997-2000 کے درمیان اونچی ذاتوں کے مقابلے میں مسلمانوں کی متوقع عمر میں معمولی کمی تھی، لیکن گذشتہ 20 برسوں میں یہ فرق کافی بڑھ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
انڈیا دنیا میں پسماندہ سماجی گروہوں کی سب سے بڑی آبادی کا گھر ہے۔ ایک مؤرخ نے انڈیا کے 12 کروڑ آدیواسیوں کو ایک ’نہ نظر آنے والی اور حاشیے پر رہنے والی اقلیت‘ کے طور پر بیان کیا ہے جو انڈیا کے دور افتادہ علاقوں میں کافی غربت میں زندگی بسر کرتے ہیں۔
سیاسی اور سماجی لحاظ سے بااختیار ہونے کے باوجود انڈیا کے 23 کروڑ دلتوں کو امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ اور 20 کروڑ مسلمانوں کی بھاری اکثریت، جو دنیا بھر میں کسی بھی ملک کی تیسری سب سے بڑی تعداد ہے، سماجی زینے میں نیچے سے نیچے چلی جا رہی ہے اور اکثر فرقہ وارانہ تشدد کا نشانہ بنتی ہے۔
مختلف گروہوں کی متوقع زندگی میں اس فرق سے کیا واضح ہوتا ہے؟ اسی جگہ آ کر یہ معاملہ دلچسپ ہو جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق لوگوں کی رہائش، دولت اور ماحول کا فرق اوسط زندگی میں فرق کا تقریباً نصف حصہ ہے۔ مثال کے طور پر اس تحقیق میں ثابت ہوا کہ آمدن کے تمام خانوں میں دلت اور آدیواسی لوگ اعلی ذات کے ہندوؤں کے مقابلے میں کم ہی جیتے ہیں۔
امتیازی سلوک اموات کو کس طرح متاثر کرتا ہے، اس بارے میں مزید درست جوابات تلاش کرنے کے لیے انڈیا میں تحقیق کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر کچھ ایسے شواہد موجود ہیں جو ہمیں بتاتے ہیں کہ مسلمان، آدیواسیوں اور دلتوں سے زیادہ کیوں زندہ رہتے ہیں۔ ان میں بچوں میں کھلے میں رفع حاجت کا کم ہونا، خواتین میں سروائیکل کینسر کی کم شرح، شراب کا کم استعمال اور خود کشی کے کم واقعات شامل ہیں۔
اس بات کے بھی شواہد موجود ہیں کہ پسماندہ گروہوں سے تعلق رکھنے والوں کو سکولوں اور سرکاری اہلکاروں کی جانب سے امتیازی سلوک کے باعث جسمانی اور ذہنی صحت پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس طرح کے تجربات کو تناؤ سے چلنے والی دائمی بیماریوں کی اعلی سطح سے جوڑا گیا ہے۔ ان گروہوں کو معیاری صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم تک بھی کم رسائی حاصل ہے، اور دونوں کا تعلق خراب صحت سے ہے۔
صفائی کے کارکنان جیسے پسماندہ گروپس کے لوگ بیماری اور موت کے زیادہ خطرات والے پیشوں سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق کے نتائج سے پتہ چلتا ہے صحت کے معاملے میں ایسے تدارک کی انتہائی ضرورت ہے جو سماجی خرابی کو واضح طور پر چیلنج کرتی ہیں کیونکہ معاشی عدم مساوات کو دور کرنا ہی کافی نہیں ہے۔
سماجی گروہوں کے درمیان فرق یا تفاوت صرف انڈیا ہی تک مخصوص نہیں ہے: امریکہ، آسٹریلیا اور برطانیہ جیسے ممالک میں بھی اسی طرح کے فرق کے شواہد موجود ہیں۔
لیکن انڈیا کو موت کی وجوہات کے بارے میں مزید اعداد و شمار کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ امتیازی سلوک صحت پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے۔
ناقص ریکارڈ رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر سال ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ اموات میں سے 70 لاکھ کی طبی طور پر تصدیق شدہ وجوہات نہیں ہیں جبکہ 30 لاکھ اموات تو درج بھی نہیں ہیں۔ اور اس کے ساتھ ہی محققین کہتے ہیں کہ 'صحت کے نظام میں امتیازی سلوک (کو ختم کرنے) کے ساتھ ساتھ پسماندہ سماجی گروہوں کے لیے صحت تک رسائی کو بہتر بنانے کی بھی ضرورت ہے۔'