آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا میں شادی کی عمر میں اضافے کے پیشِ نظر حیدرآباد کے مسلم خاندان شادیاں کروانے کی جلدی میں
- مصنف, عمران قریشی
- عہدہ, بنگلور سے بی بی سی ہندی کے لیے
انڈیا میں لڑکیوں کی شادی کی عمر میں اضافے کا قانون جلد ہی حقیقت بننے جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اگلے چند سالوں کے لیے طے شدہ شادیاں ملتوی ہونے کا پورا خدشہ ہے۔
ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے حیدرآباد کے بہت سے خاندان اپنی 18 سے 20 سال کی بیٹیوں کی جلد از جلد شادی کروانے کے لیے بے چین ہیں۔
نکاح کرنے والے قاضی بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ شادیوں کی رفتار میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔
ویسے غریب گھرانوں میں جلد بازی سب سے زیادہ ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ غریب خاندانوں کو اپنی لڑکیوں کی شادی کے لیے حکومت سے مالی مدد ملتی ہے۔
اس بارے میں مولانا سعید القادری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: 'مجوزہ قانون کے متعلق حیدرآباد اور ملک میں ہر جگہ مسلم خاندانوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ غریب لوگ اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے مزید تین سال انتظار نہیں کرنا چاہتے، اس لیے وہ شادی کی جلدی میں ہیں۔'
لڑکیوں کی شادی کی عمر بڑھانے کی تجویز
مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کے حال ہی میں ختم ہونے والے سرمائی اجلاس کے دوران پارلیمنٹ میں ایک ترمیمی قانون پیش کیا ہے۔
چائلڈ میرج (ترمیمی) بل، 2021 میں لڑکیوں کی شادی کی عمر لڑکوں کے برابر 18 سال سے بڑھا کر 21 سال کرنے کی تجویز ہے۔
اس ترمیمی بل پر کئی سوالات اٹھنے کے بعد حکومت نے اسے فی الحال لوک سبھا کی سلیکٹ کمیٹی کے حوالے کر دیا ہے۔ اب اس بارے میں رپورٹ آنے کے بعد ہی حکومت کا اس سمت میں آگے بڑھنے کا امکان ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس طرح کے کئی معاملات ہیں جن میں شادیاں پہلے ہی طے ہو چکی ہیں اور آنے والے وقت میں شادیوں کو انجام دینے کا منصوبہ ہے۔ لیکن مرکزی حکومت کے شادی کی عمر 18 سے بڑھا کر 21 سال کرنے کے فیصلے نے لوگوں کو مقررہ وقت سے پہلے شادی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
توفیق کی مثال لے لیجیے جن کی بیٹی کی شادی صرف ایک دن کی تیاری میں ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ 'بات چیت کے بعد فیصلہ ہوا کہ ہم چار یا پانچ ماہ بعد منگنی کریں گے اور شادی ڈیڑھ سال بعد ہو سکتی ہے۔'
یہ بھی پڑھیے
لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان کو معلوم ہوا ہے کہ اگر نئے قانون کا جلد نفاذ ہو گیا تو ان کی بیٹی اگلے تین سال تک شادی نہیں کر سکے گی۔ وہ کہتے ہیں: 'میری بیٹی کی عمر صرف 18 سال ہے اور اس نے 10ویں پاس کی ہے۔ لہٰذا، ہم صرف ایک دن میں اس کی شادی کرنے پر مجبور ہو گئے۔‘
توفیق کو اپنی دوسری بیٹی کی شادی کے لیے قرض لینا پڑا، کیونکہ ان کے مطابق ’کورونا کی وجہ سے ہمیں کوئی آمدنی نہیں ہو سکی ہے۔ ہمیں اپنی کار کے قرض کی قسط چکانی تھی جو ہم کورونا کی وجہ سے ادا نہیں کر سکے۔ ہم نے سوچا کہ اگلے ڈیڑھ سال میں کچھ پیسے بچا کر شادی کر لیں گے۔‘
طے شدہ رشتوں کے ٹوٹنے کا خطرہ
انھوں نے بتایا کہ لڑکا یونانی میڈیکل سٹور میں کام کرتا ہے۔ اگر ہم نے اس سے شادی نہیں کی تو ہمیں اسے مزید تین سال کے لیے روکے رکھنا مشکل پڑے گا کیونکہ جب نیا قانون آ جائے گا تو ہم اس وقت بہتر تعلقات کی امید نہیں کر سکتے۔ ابھی تک اس کی رخصتی نہیں ہوئی ہے۔ ہم بعد میں کریں گے۔‘
اس حوالے سے مولانا سعید کا کہنا ہے کہ 'مغربی یا عرب ممالک کے برعکس ہمارے یہاں لڑکے اور لڑکیاں نہیں ملتے اور نہ ہی شادیاں طے کرتے ہیں۔ ہندوستان میں شادی صرف لڑکے اور لڑکی کی نہیں ہوتی۔ رسم و رواج، ثقافت اور زبان کو دیکھیں تو یہ دو خاندانوں کا رشتہ ہے، جسے بہت احتیاط سے کیا جاتا ہے۔ ایسی شادیوں کے لیے دو تین سال انتظار نہیں کیا جا سکتا۔'
قاضی عصمت اللہ قادری نے گذشتہ چند دنوں میں کئی شادیاں کروائی ہیں۔ انھوں نے اس بارے میں بی بی سی ہندی سے بات کی۔
انھوں نے کہا کہ'بہت سے خاندان، نہ صرف غریب بلکہ متوسط اور امیر طبقے سے بھی ہیں، اپنی لڑکیوں کی شادی جلدی میں کر رہے ہیں کیونکہ وہ نئے قانون سے ڈرتے ہیں۔ یہاں تک کہ متوسط اور امیر گھرانے بھی نہیں چاہتے کہ تین سال انتظار کرنے کے بعد شادی ٹوٹ جائے۔ جبکہ غریب خاندانوں کو لگتا ہے کہ انھیں مزید تین سال تک لڑکی کی دیکھ بھال کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔‘
توفیق کہتے ہیں کہ 'ایسی بہت سی شادیاں ہمارے جاننے والے رشتہ داروں اور دوستوں کے ہاں ہو رہی ہیں۔ اس کی بڑی وجہ نئے قانون سے پیدا ہونے والا خوف ہے کہ انھیں اپنی بیٹی کی شادی کے لیے مزید تین سال انتظار کرنا پڑے گا۔'
مولانا سعید کے مطابق شادی میں تاخیر کی وجہ سے طے شدہ تعلقات کے ٹوٹنے کا خطرہ ہے۔
تاہم حیدرآباد میں جلد بازی میں جو شادی کا رجحان نظر آرہا ہے وہ دوسرے شہروں جیسے بنگلور میں نہیں دیکھا جارہا ہے۔
اس حوالے سے بنگلور کی جامع مسجد کے مولانا مقصود عمران نے بی بی سی کو بتایا کہ 'بنگلور میں اس کی وجہ سے بہت سی شادیاں ہو رہی ہیں، لیکن اس طرح کے معاملات یہاں یقیناً دیگر جگہوں کے مقابلے کم ہیں۔ کرناٹک کا ماحول مختلف ہے۔'
جبکہ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کرناٹک کے ایک اہلکار نے کہا: 'یہ ایک حقیقت ہے کہ طویل عرصے تک کام کرنے سے والدین کی توانائی ختم ہو جاتی ہے، خاص طور پر محنت مزدوری کرنے والے مزدوروں میں۔ اس کی وجہ سے لوگ مجبور ہیں کہ ان کے بچے بھی جلد از جلد گھر بسا لیں۔'