دہلی میں نوراتری کے دنوں میں گوشت پر پابندی کا مطالبہ، سوشل میڈیا پر شدید ردِ عمل

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY IMAGE
دہلی کی ایک میونسپلٹی کے میئر نے جاری نوراتری تہوار کے دوران گوشت کی دکانوں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے، جس پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اگرچہ پابندی قانونی طور پر لازمی نہیں ہے لیکن یہ اس طرح کے مطالبات کی عکاسی کرتا ہے جو انڈیا کے مختلف حصوں میں وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں ملک میں گوشت فروشوں پر حملوں کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔ بہت سی ہندو جماعتیں نوراتری تہوار کے 9 دن کے دوران گوشت پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے ہندوؤں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے، کیونکہ بہت سے ہندو اس تہوار کے دوران گوشت کھانے سے گریز کرتے ہیں۔
تاہم یہ تہوار ملک بھر میں مختلف طریقے سے منایا جاتا ہے۔ کہیں دعوت کا اہتمام ہوتا ہے تو کہیں روزہ رکھا جاتا ہے۔ اور بہت سے لوگ گوشت، پیاز اور لہسن کھانے سے بھی گریز کرتے ہیں۔
ملک بھر میں اس تہورا سے متعلق جو ایک مشترکہ بات ہے وہ یہ کہ اس میں جنگ اور برائی پر اچھائی کی فتح کا جشن منایا جاتا ہے۔
عقیدت مند اس تہوار کے نو دنوں کے دوران نو دیوی دیوتاؤں کی پوجا کرتے ہیں اور دسویں دن مورتیوں کو یا تو دریا یا سمندر میں ڈبو دیتے ہیں یا برائی کی علامت کے طور پر جلاتے ہیں۔
میئر نے کیا کہا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن کے میئر مکیش سوریان نے کل اعلان کیا کہ ’نوراتری کے دوران دہلی کے 99 فیصد گھرانے لہسن اور پیاز کا استعمال بھی نہیں کرتے، اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جنوبی دہلی کی میونسپلٹی علاقے میں گوشت کی کوئی دکان نہیں کھلے گی۔ فیصلے پر عملدرآمد کل سے ہو گا۔ خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم مستقبل میں اس شرط کے ساتھ لائسنس بھی جاری کریں گے۔ میں نے سی ایم (وزیر اعلی اروند کیجریوال) کو بھی لکھا ہے کہ وہ نوراتری کے دوران شراب پر چھوٹ واپس لیں اور اگر ممکن ہو تو 9 دن کے لیے شراب کی فروخت بھی بند کر دیں۔‘
دہلی میں میونسپلٹی کے انتخابات گزشتہ مارچ میں ہونے تھے۔ لیکن ریاستی الیکشن کمیشن نے انتخابات کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا کیونکہ مرکزی حکومت نے شہر کی تین میونسپل کارپوریشنوں کو دوبارہ ایک یونٹ میں ضم کرنے کے بل کو منظوری دے دی ہے۔ دہلی میونسپلٹی کو 2012 میں تین حصوں میں بانٹ دیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سوشل میڈیا صارفین نے کیا کہا؟
پابندی کے مطالبے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ٹویٹر صارف روی نائر نے لکھا کہ ’میں ایک ہندو ہوں۔ میں جنوبی دہلی میں رہتا ہوں۔ میرے جذبات مجروح نہیں ہوتے جب گوشت کی دکانیں کھلی ہوتی ہیں یا جب میرے ساتھی ہندو اور دوسرے مذاہب کے لوگ نوراتری کے دوران نان ویج کھاتے ہیں۔ بی جے پی سے تعلق رکھنے والی جنوبی دہلی کی میئر اپنے سیاسی نظریے کو ہندوؤں کے عقائد سے ملا رہے ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
اداکارہ سوارا بھاسکر نے میئر کے اس دعوے پر سوال اٹھایا کہ دہلی کے 99 فیصد گھرانے لہسن اور پیاز کا استعمال بھی نہیں کرتے۔ انھوں نے میئر کے ذریعے اعدادوشمار کو ایک ’مضحکہ خیز اور ناممکن اعدادوشمار‘ قرار دیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
میئر کا دعویٰ اس لیے بھی سوالیہ نشان ہے کیونکہ دہلی میں تقریباً 82 فیصد ہندو ہیں، 13 فیصد مسلم اور اور باقی سکھ اور دیگر مذاہب کے لوگ ہیں، جن کی ایک بڑی تعداد گوشت خور ہے اور لہسن پیاز سے گریز نہیں کرتی۔
صحافی روہنی سنگھ نے یہ سوال کیا کہ یہ رمضان کا مہینہ ہے جب مسلمان روزہ رکھتے ہیں، اور اگر ہم میئر کی منطق کے مطابق چلتے ہیں تو تمام ریستوراں بھی بند کر دیے جانے چاہیئں۔
یہ بھی پڑھیئے
انھوں نے لکھا کہ ’اگر نوراتری کے دوران گوشت فروخت ہونے کی وجہ سے ’مذہبی جذبات‘ مجروح ہوتے ہیں تو کیا رمضان کے دوران تمام ریستوران بند کر دیئے جائیں کیونکہ مسلمان روزہ رکھتے ہیں؟ کیا جنوبی دہلی کے میئر مہربانی کرکے اس پر روشنی ڈالیں گے؟‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
بہت سے سوشل میڈیا صارفین نے نشاندہی کی کہ اس طرح کی پابندی صرف گوشت کے چھوٹے تاجروں کو متاثر کرے گی، تاہم بڑی کمپنیوں یا ہوٹلوں کا کاروبار جاری رہے گا۔
ڈاکٹر رکمنی پانڈے نے کہا کہ ’امیر لوگ ڈیلیوری سروسز سے گوشت منگوا لیں گے اس لیے یہ صرف قصاب کی چھوٹی دکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے ہے'۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 5
ڈھائی آکھر نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’گوشت پر پوری طرح پابندی مقامی چھوٹے تاجروں کو سب سے زیادہ متاثر کرے گی۔ وہ تباہ ہو جائیں گے۔‘
وہ مزید لکھتے ہیں کہ اس کا ’یہی مقصد ہے۔ اس کا ’دھارمک بھاونا‘ (یعنی مذہبی جذبات) سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ انھوں نے لکھا کہ لکھنؤ میں بہت سے دکاندار رضاکارانہ طور پر اپنی دکانیں منگل اور نوراتری کے دوران (ہندو برادری کے جذبات کا احترام کرنے کے لیے دکانیں‘ بند کر دیتے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 6
مشہور ریڈیو جوکی صائمہ نے لکھا کہ ’رمضان کے دوران ہم تقریباً 13 گھنٹے پانی بھی نہیں پیتے! تو وہ (میئر) کیا تجویز کر رہے ہیں؟
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 7
کئی صارفین نے یہ لکھا کہ حالانکہ وہ گوشت نہیں کھاتے ہیں یا نوراتری میں گوشت سے دور رہتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ سبھی کو ان کے حساب سے زندگی گزارنے پر مجبور کیا جائے۔
کوشک راج نے کہا کہ ’پھر تو لہسن اور پیاز پر بھی پابندی لگا دینی چاہئے؟ اور آپ کے خیال میں ہمارے کھانے کے انتخاب کو (دوسروں پر) مسلط کرنا اور گوشت کے تاجروں کو متاثر کرنا کیسے ٹھیک ہے؟ میں ایک ہندو ہوں اور میرا خاندان بھی نوراتری کے دوران نان ویج نہیں کھاتا ہے (میرے علاوہ)۔ لیکن وہ اپنے کھانے کا انتخاب مسلط نہیں کرنا چاہتے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 8









