آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کشمیری قالین پر جی آئی ٹیگنگ: اب تعریف بُننے والے ہاتھوں کی ہو گی
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو، سرینگر
کشمیر میں قالین بافی کی صنعت کے کئی اُتار چڑھاوٴ دیکھنے والے بشیر احمد ڈار نے زندگی میں پہلی مرتبہ اپنا نام اپنے ہی بُنے ہوئے قالین پر دیکھا تو جذباتی ہو گئے۔ 47 سالہ بشیر احمد 10 سال کی عمر سے قالین بافی کر رہے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’پہلے ہم اندھیرے میں تھے۔ کام ہمارا، فن ہمارا، محنت ہماری، لیکن امریکہ اور یورپ میں تعریف تاجر کی ہوتی تھی۔ آج میں بہت خوش ہوں۔‘
بشیر احمد اور اُن جیسے سینکڑوں مرد و خواتین کو یہ خوشی اس لیے ملی ہے کیونکہ انڈین حکومت کشمیری قالین کو مخصوص علاقائی شناخت 'جغرافیکل انڈیکیشن' یا جی آئی ٹیگ کے زُمرے میں لائی ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ عالمی مارکیٹ میں مشین پر بنے غیرکشمیری قالین کشمیری نام پر نہیں بِکیں گے۔
کشمیر کے اقتصادی امور پر طویل عرصے سے کام کرنے والے صحافی ہارون ریشی کے خیال میں دستکاروں کو یہ مقام 500 برس بعد ملا ہے۔ ان کے مطابق پندرہویں صدی میں اُس وقت کے بادشاہ زین العابدین عرف بڈشاہ نے کشمیر میں قالین کی صنعت کو متعارف کروایا تھا۔
’انھوں نے ایران سے بعض دستکاروں کو یہاں مدعو کر کے کشمیر میں قالین بافی کی داغ بیل ڈالی۔ تب سے ہمیشہ قالین باف صرف کام کرتا تھا اور تاجر قالین کو امریکہ اور یورپ میں بیچتا تھا۔ یہ پہلی بار ہے کہ دستکار کا نام جی آئی ٹیگ میں ہو گا۔‘
اسی ماہ جی آئی ٹیگ لگے کشمیری قالینوں کی ایک کھیپ نئی دلی سے جرمنی کے لیے روانہ کرنے والے تاجر شیخ عاشق کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک انقلابی قدم ہے۔ ہم بھی یہی چاہتے تھے، کیونکہ نقالوں نے پریشان کر رکھا تھا۔ یہ خواتین کو بااختیار بنانے کی طرف بھی ایک قدم ہے۔‘
انڈین حکومت نے کشمیر میں قالین بافی کے لیے ایک باقاعدہ علاقہ ’کارپیٹ ویلیج‘ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے جہاں خواتین اور مرد دستکار جدید لُوموں پر قالین بافی کریں گے۔
ایسی بعض لوُمز بانڈی پورہ ضلع کے نائد کھائے اور سوناواری تحصیلوں میں قائم کی گئی ہیں۔ نائد کھائے میں ایک لُوم پر دو درجن خواتین کام کرتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہاں کام کرنے والی امینا بیگم نے بتایا کہ ’میں 40 سال سے یہ کام کر رہی ہوں۔ بہت سال پہلے ایک ٹھیکیدار نے میری مزدوری ہڑپ کر لی تھی۔ آج بھی کچھ پیسہ اُسی کے پاس ہے۔ جی آئی ٹیگ کے ساتھ ساتھ قالین بافی کو سرکاری نگرانی میں رکھنے کا عمل اس ناانصافی کو ختم کرسکتا ہے۔ میں بہت خوش ہوں۔‘
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں قائم انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپیٹ ٹیکنالوجی کے سربراہ زبیر احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ کشمیر میں ہاتھ سے بننے والے قالین کی جی آئی ٹیگنگ کا عمل 2010 میں شروع کیا گیا تھا اور قانونی لوازمات کے ساتھ ساتھ باقاعدہ لیبارٹری کے قیام تک کئی مراحل طے کرنے کے بعد اسی ماہ یہ منصوبہ مکمل ہو گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہاتھ سے بننے والے قالین کے معیار کی حفاظت اور عالمی مارکیٹ میں کشمیری قالین کی الگ پہچان کو برقرار رکھنے کے لیے یہ واقعی ایک بڑا قدم ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
ایک اور نوجوان دستکار کوثر خالق کہتی ہیں کہ انھیں اب بہت شوق ہے کہ جس قالین پر وہ کام کر رہی ہیں وہ جلدی سے تیار ہو اور اس پر اُن کا نام بھی آئے۔ ’دستکار کو کون پوچھتا تھا۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔‘
یہ باریک اور محنت طلب کام کرتے کرتے دستکاروں کو کئی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ دو بچوں کی ماں شگفتہ بانو نے بتایا: ’انگلیوں پر چھالے پڑ جاتے ہیں۔ اسی لیے شام کو ہم انگلیوں پر تیل کی مالش کرتے ہیں۔ کمر میں بھی درد ہوتا ہے کیونکہ کئی گھنٹوں تک ایک ہی جگہ پر بیٹھنا پڑتا ہے۔ کم سے کم اب یہ خوشی ہے کہ اتنی ساری محنت کرنے والے کا نام قالین پر آئے گا۔‘
قالین بافی چادر، شال یا مسند بنانے سے مختلف ہے۔ مضبوط سٹیپل دھاگوں کی جھڑی میں رنگ بہ رنگے مگر نہایت مہین اور باریک ریشمی دھاگوں کی سینکڑوں گِرہیں (nots k) لگائی جاتی ہیں۔ ایک مربع انچ پر ان گرہوں کی تعداد 25 سے ایک ہزار تک ہو سکتی ہے۔ تاہم فی مربع انچ پر 300 سے زیادہ گِرہوں والا قالین اعلیٰ معیار کا سمجھا جاتا ہے۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق سال 21-2020 کے مالی سال کے دوران 200 کروڑ سے زیادہ مالیت کے کشمیری قالین جرمنی، متحدہ عرب امارات، امریکہ اور بعض دیگر یورپی ممالک میں برآمد کئے گئے۔
کشمیر سے قالین کے علاوہ پشمینہ کے شال، پیپرماشی یعنی کاغذ کُوٹ کر بنی مصنوعات اور دیگر درجنوں اشیا بیرون کشمیر برآمد ہوتی ہیں، لیکن قالین کی برآمدات کُل برآمدات کا نصف ہے اور اس صنعت کے ساتھ ایک لاکھ سے زیادہ لوگ براہ راست وابستہ ہیں۔