انڈیا میں پسند کی کافی کی تلاش میں میاں بیوی نے اپنا کافی بزنس قائم کر لیا

    • مصنف, اینڈریو کلیرنس
    • عہدہ, بی بی سی نیوز انڈیا

ایک جوڑے کے شاپنگ کے مایوس کن دورے نے انڈیا کی مخصوص کافی کی مارکیٹ میں تیزی کے رجحان کا راستہ کھول دیا۔

میٹ چترانجن اور نمرتا استھانا سنہ 2012 میں جنوبی انڈین شہر چنئی سے دارالحکومت دلی منتقل ہی ہوئے تھے اور انھیں کافی کے اچھے کپ کی شدید طلب تھی۔

چنئی میں انھیں جنوبی انڈیا کی تیز گرما گرم ’فلٹر کافی‘ بہت پسند تھی جو دودھ کے ساتھ پی جاتی تھی اور انڈیا آنے سے قبل بھی چترانجن نے امریکی شہر سان فرانسیسکو میں اپنے گھر کے قریب ایک بڑی چین سے تازہ تازہ روسٹ کی خوشبودار کافی پی تھی۔

لیکن دلی میں انھیں جو کافی اپنی مقامی سپر مارکیٹ سے ملی وہ کئی مہینے پہلے روسٹ کی گئی تھی اور اب باسی لگتی تھی۔

انھیں یہاں ایک موقع نظر آیا۔ اسی سال اس سے پہلے انھیں ممبئی میں انڈیا کے پہلے سٹاربکس کے سامنے لوگوں کی لمبی قطاریں نظر آئی تھیں۔

لیکن ان دونوں میاں بیوی کو پتہ چلا کہ انڈیا اپنی بہترین کافی برآمد کر دیتا ہے۔

چترانجن کہتے ہیں کہ ہم نے کافی کاشت کرنے والوں کو کالیں کرنی شروع کیں اور ان سے ملنے کا وقت لیا۔ ہمیں انھیں قائل کرنا پڑا کہ وہ ہمیں اپنی برآمدی معیار کے کافی کے دانے بیچیں۔‘

اور جلد ہی 2013 کے اوائل میں بلیو ٹوکائی کافی روسٹرز وجود میں آیا۔ چترانجن نے کافی کے دانوں کو روسٹ کیا اور ان کی بیوی استھانہ نے اسے آن لائن فروخت کے لیے پیک کیا۔

آج یہ کافی انڈیا کے نوجوانوں میں ایک مقبول برانڈ ہے جس کے انڈیا میں بہترین مقامات پر 50 آؤٹ لیٹس ہیں اور ملک بھر میں اس کے ہزاروں صارفین ہیں۔ وہ اب تک ایک ہزار ٹن سے زیادہ کافی روسٹ کر چکے ہیں اور تقریباً 30 لاکھ کپ فروخت کر چکے ہیں۔ اب انھیں کافی کے کاشتکاروں کو قائل نہیں کرنا پڑتا کہ وہ انھیں اپنا بہترین سٹاک بیچیں۔

بلیو ٹوکائی کافی کے بانیوں کو شروع ہی میں یہ اچھی طرح سمجھ آ گیا تھا کہ انڈیا کے خوشحال لوگ کسی ایسی مخصوص کافی کے لیے اضافی پیسے دینے کے لیے تیار ہیں جسے چھوٹے حصوں میں روسٹ کیا جائے اور مختلف لوگوں کی ضرورت کے مطابق بنایا جائے۔

روہن کریان، جن کا خاندان دو نسلوں سے کافی کاشت کر رہا ہے، انڈیا کی مخصوص کافی مارکیٹ کی لہر میں تبدیلی لانے کا سہرا بلیو ٹوکائی کو دیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے بلیو ٹوکائی کو ایک بینچ مارک کی حیثیت سے دیکھنا شروع کر دیا تھا اور انھیں احساس ہوا تھا کہ کافی سے پیسہ کمایا جا سکتا ہے۔‘

اور آخر کار مزید گھریلو برانڈز جیسا کہ تھرڈ ویو کافی، سلیپی آؤل وغیرہ، نے اپنی مارکیٹ بنا لی۔ لیکن تجزیہ کار ابھی بھی سمجھتے ہیں کہ یہ اب بھی ایک نئی صنعت ہے۔

ٹیکنوپاک ایڈوائزرز کے ایک کنسلٹنٹ اروند سنگھل کہتے ہیں کہ ’آپ کے پاس ان جیسے ہزاروں کیفے ہوں بھی تو پھر بھی آپ کو اپنے قریب ایک سپیشیئلٹی کافی کیفے کی تلاش میں مشکل پیش آئے گی۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ کچھ ایسا ہی مخصوص پنیر کی صنعت کے ساتھ بھی ہے۔

’انڈیا بھر میں تقریباً دو درجن سٹارٹ اپس ہیں۔ لیکن یہ ابھی تک مرکزی دھارے میں نہیں ہے۔ ڈیری مارکیٹ کی مالیت اربوں ڈالر ہے، آرٹیسنل پنیر (ماہر کاریگروں کی بنائی ہوئی پنیر) کی مارکیٹ صرف ایک سے دو کروڑ ڈالر ہے۔ کچھ ایسا ہی پریمیئم کافی کے ساتھ بھی ہے۔

کافی کی ترقی

سنہ 1991 تک جب اقتصادی اصلاحات نے انڈیا کو دنیا کے لیے کھولا، کافی کے کاشتکار اپنے کافی کے دانے وفاقی حکومت کے حمایت یافتہ کافی بورڈ آف انڈیا کو فروخت کرتے تھے، جو بعد میں اس کی نیلامی کرتا۔

لیکن سنہ 1991 کے بعد جب کاشتکار اپنی کافی کو مارکیٹ میں فروخت کر سکتے تھے، کریان کے والد اور دیگر کاشتکاروں نے بیرون ملک سفر کرنا شروع کر دیا۔

کریان جن کی کافی فارم جنوبی انڈیا کے پہاڑی ضلع چھکمیگلور میں ہے، کہتے ہیں کہ ’وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ ہم یہاں انڈیا میں اگائی جانے والی کافی کے مجموعی معیار کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں۔‘ کریان کی کافی فارم 80 سال سے زیادہ پرانی ہے۔

پیداوار تو بڑھ گئی لیکن اس کا بیشتر حصہ برآمد ہوتا تھا۔

کافی بورڈ آف انڈیا کے مطابق سنہ 1993 میں انڈیا نے ساٹھ ساٹھ کلو گرام کے 21 لاکھ تھیلے برآمد کیے۔ سنہ 2010 تک، یہ تعداد دگنی سے بھی زیادہ ہو کر 46 لاکھ تھیلوں تک پہنچ گئی تھی۔

جب مارکیٹ کھلی تو وی جی سدھارتا جیسے کاروباری نے کیفے کافی ڈے (سی سی ڈی) کی چین بنائی جہاں ہزاروں انڈینز نے پہلی مرتبہ کیپاچینو کا مزہ چکھا۔

سنہ 1996 میں سی سی ڈی کا بینگلور میں کھلنے والا پہلا کیفے ایک دم مقبول ہو گیا، جس میں طالب علموں اور کارپوریٹ ایگزیکٹیوز کی ایک بڑی تعداد آنے لگی۔

اس طرح کے کیفے ان نوجوانوں کے لیے آئیڈیل اور ان کی دسترس میں ہوتے تھے جو کسی اچھی جگہ دوستوں سے ملنا چاہتے تھے۔ اور سستی کافی کی وجہ سے، جو کہ اس وقت ایک نایاب چیز تھی، یہ کیفے کام کرنے والے نوجوانوں کے واضح انتخاب بن گئے۔

سنہ 2011 تک انڈیا میں مڈل کلاس کی ترقی کی بدولت ایک ہزار سے زیادہ سی سی ڈی کیفے کھل چکے تھے، جس نے وہاں ایک نئے کافی کلچر کو جنم دیا تھا۔

سٹاربکس اس کے ایک سال بعد آیا، اس کے سات سال بعد ایک اور بین الاقوامی برانڈ کوسٹا کافی نے انڈیا میں قدم رکھا۔ اس وقت تک انڈینز کافی کے لیے زیادہ پیسے دینے کے لیے تیار ہو چکے تھے۔

لیکن اس اثنا میں انڈینز کی کافی پینے کی عادات میں بہت تبدیلی نہیں آئی ہے۔ وہ ابھی بھی اپنی کافی میں دودھ اور چینی ملانا پسند کرتے ہیں اور بلیو ٹوکائی کی سب سے زیادہ بکنے والی کافی کیپاچینو ہے جس میں دودھ کی بڑی مقدار ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ انڈین ٹھنڈی اور میٹھی کافی کے بھی دلدادہ ہیں جو کہ ان نئی کافی شاپس کی آمد سے پہلی ہی یہاں بہت مقبول تھی۔ اسی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ارمان سود، اجے ٹھنڈی اور اشواجیت سنگھ نے ’سلیپی آؤل‘ نامی کافی شاپ کا سنہ 2016 میں آغاز کیا۔

ارمان سود کا کہنا ہے کہ ہم انڈیا کی پہلی ٹھنڈی کافی متعارف کروانا چاہتے ہیں جو دودھ کے ساتھ اور بغیر دودھ کے بھی مزیدار ہو اور اس کی ہوم ڈیلیوری ممکن بنائی جا سکے۔

وہ ایسے صارفین تک بھی پہنچنا چاہتے ہیں جو بس ایک کپ ’انسٹنٹ کافی‘ کے متمنی ہوتے ہیں۔ انڈیا میں ہر کوئی مینوئیل کافی کے لیے تیار نہیں ہے جسے فرانسیسی پریس یا ایروپریس کا استعمال کرتے ہوئے بنایا جاتا ہے۔ اسے کچھ آسان ہونا چاہیے تھا۔

کولڈ بریو پیک کافی کے مشہور ہونے کے بعد سلیپی آؤل نے ’ہاٹ بریو ساشے‘ کا آغاز کیا۔ یہ ایک ایسی کافی ہوتی ہے جسے کے ساشے کو گرم پانی میں ڈال کر تیار کیا کیا جاتا ہے۔

اب یہ والی کافی وہ انڈیا بھر میں دو ہزار سٹور پر فروخت کر رہے ہیں اور اندرون ملک پروازوں میں بھی وہ یہ کافی فروخت کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کافی کاٹنے کی مہارت

کافی کی طلب میں اضافے نے کسانوں کے لیے بھی مواقع پیدا کیے ہیں۔

سنہ 2012 میں کریان صرف سویڈن، ناروے اور امریکہ میں روسٹرز کو کافی برآمد کر رہے تھے۔ لیکن اس کے فوراً بعد انھوں نے بلیو ٹوکائی کی بھی سپلائی شروع کر دی۔ یہ کافی (عریبیکا) وہ میرتھی سبانگوڈیجی اسٹیٹ (ایم ایس اسٹیٹ) سے برآمد کر رہے تھے۔

کوریان کا کہنا ہے کہ میٹ چترنجن نے جو کچھ کیا اس نے سنگل اسٹیٹ سپیشلٹی کافی کی اقسام پر توجہ مرکوز کی اور وہ زیادہ قیمت والی کافی کی مارکیٹنگ کا خطرہ مول لینے کے لیے تیار تھا۔ اس کا پورا طریقہ کار ایک ایسی مخصوص مارکیٹ پر مرکوز تھا جو جانتا تھا کہ اچھی کافی کیا ہے۔

مگر کافی کاشت کرنے والے دیگر کسان اس سے متفق نہیں تھے۔ ان کے خیال میں زیادہ مہنگی مگر بہتر معیار کی کافی انڈیا جیسے ملک میں مقبولیت حاصل نہیں کر سکے گی کیونکہ یہاں لوگ سستی چیزوں کو ترجیح دیتے ہیں۔

چترانجن کے مطابق ’ایک کاشت کار کا کہنا تھا کہ میں آپ کی کافی فروخت کروں گا لیکن اس میں روبسٹا (سستی کافی کی قسم) یا چیکوری (کافی کا متبادل پودا) ملاؤں گا اور یوں اس کی قیمت کم رکھوں گا ورنہ آپ کا کاروبار نہیں چل سکے گا۔‘

لیکن ان کا داؤ کامیاب رہا۔ چترانجن کے مطابق آج ایم ایس ایسٹیٹ بلیو ٹوکائی کے مقبول ترین برانڈز میں سے ایک ہے اور مقامی کاشت کار بھی اب اسے خوشی سے اگاتے ہیں۔

تھرڈ ویو کافی کے شریک بانی ایوش بیتھوال کا کہنا ہے کہ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم خود سبز کافی کی بینز حاصل کریں گے اور پھر اسے خود روسٹ کریں گے کیونکہ ہم نے سوچا کہ گاہک کو فارم سے لے کر روسٹ کے عمل تک کافی کا معیار دکھانا بہت اچھا ہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ کافی پینے والے اب یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کی کافی کہاں سے آرہی ہے، یہ کیسے حاصل کی جاتی ہے اور اسے کیسے روسٹ کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ’ہمیں یہ فخر ہے کہ ہمارے فارم پارٹنرز نے بنگلور میں ہماری کافی شاپس پر ان کے فارم کے ناموں کے ساتھ ان کی کافی کو فروخت کرنا شروع کیا ہوا ہے۔

ماضی کے برعکس کافی اب کاروبار سے زیادہ سماجی مشروب بن چکی ہے۔