آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پریہ اگروال: انڈیا میں پدرشاہی سماج کو چیلنج کرتی بارات کے لیے گھوڑی پر سوار ہو کر آنے والی روایت شکن دلہن
- مصنف, گیتا پانڈے
- عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی
جب پریہ اگروال سفید گھوڑی پر سوار ہو کر اپنی شادی کے مقام پر پہنچیں تو انھوں نے اپنی سنہری پیلی ساڑھی اور سرخ اور پیلی پگڑی میں نہ صرف لوگوں کو متاثر کیا بلکہ بیک وقت انھوں نے پدرانہ نظام کو بھی دھچکا پہنچایا۔
27 سالہ پریا کی شادی رواں ماہ کے اوائل میں امبالہ میں ہوئی اور اس کا چرچا نہ صرف ان کی آبائی ریاست ہریانہ میں رہا بلکہ ان کی شادی کی خبر سرخیوں کی زینت بھی بنتی رہی۔
وائرل ہونے والی تقریب کی ایک ویڈیو میں انھیں گھوڑی پر سوار، بازو پھیلائے، ہنستے ہوئے دیکھا گیا جبکہ ان کے خاندان کے دیگر افراد اور دوست ایک جلوس میں ساتھ ساتھ چل رہے تھے اور ہر چند منٹ بعد رقص کرنے کے لیے رکتے تھے جبکہ ایک بینڈ موسیقی بجا رہا تھا۔
پریہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں بہت خوش تھی۔ ہر دولہا جانتا ہے کہ وہ اپنی شادی میں بارات کے وقت گھوڑے پر سوار ہو گا لیکن دلہنیں ایسا نہیں کرتی ہیں۔‘
انھوں نے ہنستے ہوئے کہا ’میں ایک شہنشاہ، ایک کمانڈر کی طرح محسوس کر رہی تھی، جو اپنے جلوس کی قیادت کر رہا ہو۔‘
پریہ اپنی شادی میں گھوڑی پر سوار ہونے والی پہلی انڈین دلہن نہیں ہیں اور حالیہ برسوں میں کچھ ایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں دلہنیں گھوڑی پر سوار ہوئی ہیں لیکن یہ واقعات اتنے کم ہیں کہ ہاتھ کی انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔
روایتی طور پر دولھے برات کے جلوس میں گھوڑے پر سوار ہو کر آتے ہیں۔
شادی کے رسم و رواج پر ایک کتاب کے مصنف رام نارائن کوگاٹا کہتے ہیں: ’وہ اس کا خاص دن ہوتا ہے۔ اس کا موازنہ کسی شاہ سے ہو سکتا ہے جو جو اپنی دلہن کو بیاہنے کے لیے دھوم دھام کے ساتھ آتا ہے، وہ ریشم کے لباس اور زیورات میں مبلوس ہوتا ہے اور کمر میں ایک تلوار لٹکائی ہوتی ہے تاکہ اگر کوئی شیطان اس کی دلھن کو اس سے چوری کرنے کی کوشش کرے تو وہ اس سے لڑ سکے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
راجستھان اور ہریانہ کی کچھ برادریوں میں دلہنوں کو ان کی شادی سے ایک دن پہلے ان کے محلے یا گاؤں کے گرد گھوڑی پر لے جایا جاتا ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے پہلے کبھی کسی دلہن کو گھوڑی پر سوار شادی کے منڈپ تک جاتے نہیں دیکھا۔
شادی کی تقریب کی ماہر نیتا رہیجا کا کہنا ہے کہ اگرچہ شرمیلی انڈین دلہن کا رواج اب ایک دہائی سے ختم ہوتا جا رہا ہے لیکن گھوڑی پر سوار دلہن یقیناً منفرد ہے۔
’مجھے اب وہ شرمیلی دلہن جو سر جھکائے، دوستوں اور رشتہ داروں کی مدد سے چلتی ہوئی آتی نظر نہیں آتی۔ آج کل، دلہنیں شاندار انٹری دیتی ہیں، وہ پھولوں کے سہرے کے ساتھ آتی ہیں، یا مٹی کے دیے لیے لڑکیوں سے گھری ہوتی ہیں، وہ لیموزین میں آتی ہیں یا پھولوں سے سجی چھوٹی چھوٹی گاڑیوں یا رتھوں میں داخل ہوتے ہیں اور اس دوران جو موسیقی بجائی جاتی ہے اسے پہلے سے منتخب کیا جاتا ہے۔‘
رہیجا کہتی ہیں کہ اپنی شادی پر گھوڑے پر سوار ہونے کا انتخاب کر کے پریہ نے ایک فیمنسٹ بیانیہ پیش کیا ہے۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ 'یہ خود کو منوانے والی بات ہے۔ وہ یہاں یہ کہنا چاہ رہی ہیں کہ میں برابر ہوں۔‘
پریہ کا کہنا ہے کہ یہ ان کے والد نریندر اگروال تھے جنھوں نے انھیں اپنی شادی میں گھوڑے پر سوار ہونے کا مشورہ دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
مسٹر اگروال ایک تاجر ہیں۔ انھوں نے امبالا میں اپنے گھر سے بی بی سی کو بتایا کہ وہ صنفی مساوات پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔
انھوں نے کہا: 'میں نے کبھی بھی اپنی بیٹی کے ساتھ اپنے بیٹے سے مختلف سلوک نہیں کیا۔ پچھلے سال اپنی شادی کے موقع پر میرا بیٹا گھوڑے پر سوار ہوا تھا تو یہی مناسب تھا کہ میری بیٹی بھی ایسا ہی کرے۔'
انھوں نے مزید کہا کہ 'ہمار معاشرے کو یہ پیغام دینا تھا کہ بیٹی ایک بیٹے کی طرح قیمتی ہے اور اگر والدین اس کا ساتھ دیں تو وہ بہت آگے جائے گی۔'
ہریانہ ایک ایسی ریاست ہے جہاں پدرانہ نظام کی گہری جڑیں ہیں۔ ایسے میں ان کا یہ بیان نمایاں نظر آتا ہے اور یہ اس لیے بھی نمایاں ہے کہ امبالہ کو لڑکیوں کے ساتھ نامہربان علاقے کے طور پر جانا جاتا ہے۔
سنہ 1990 کی دہائی میں جب پریہ کی پیدائش ہوئی تھی تو ضلع میں لڑکی ہونے کی صورت میں اسقاطِ حمل ایک عام بات تھی۔
بیٹوں کے خواہاں خاندان مادہ جنین کے اسقاط حمل کے لیے قبل از پیدائش تشخیص کا استعمال کر رہے تھے اور اس کا اظہار سنہ 2001 کی مردم شماری سے پتہ ہوتا ہے کہ امبالہ میں صفر سے چھ سال کے عمر کے گروپ میں ہر ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں صرف 781 لڑکیاں تھیں۔
مسٹر اگروال کہتے ہیں کہ لیکن جب پریہ کی پیدائش ہوئی تو وہ ’خوشی سے سرشار‘ تھے اور انھوں نے ہسپتال میں مٹھائیاں تقسیم کر کے جشن منایا تھا۔
’کچھ بوڑھی خواتین جو وہاں اپنی حاملہ بیٹیوں یا بہوؤں کے ساتھ تھیں، انھیں جب پتا چلا کہ یہ مٹھائی لڑکی کی پیدائش کے جشن کی ہے تو انھوں نے اسے پھینک دیا۔ ان کا خیال تھا کہ میرا دماغ خراب ہو گیا ہے۔‘
مسٹر اگروال اپنی بیٹی کو اپنا ’لکی چارم‘ (خوش بختی) سمجھتے ہیں اور کئی سالوں سے اپنے تمام بزنسز کے نام پریہ کے نام پر رکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے اپنی بیٹی کو گھوڑی پر سوار ہوتے دیکھا تو انھیں ’بہت فخر‘ محسوس ہوا۔
جوں جوں پریا کی بارات شہر کی تنگ گلیوں سے گزر رہی تھی ان کے ہونے والے دولھے آرو گپتا اسے ویڈیو کال پر لائیو دیکھ رہے تھے۔ آرو بھی پیشے سے وکیل ہیں۔
آرو نے ہنستے ہوئے مجھے بتایا کہ پریہ اور ان کے والدین نے اپنا منصوبہ خفیہ رکھا ہوا تھا اس لیے انھیں ان کے غیر معمولی داخلے کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں تھا۔
انھوں نے کہا: 'میں اسے اپنے والدین، رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ دیکھ رہا تھا۔ ہم سب حیران تو تھے لیکن یہ ایک خوشگوار منظر تھا۔
'ہم سب دنگ تھے کہ آخر کیا ہو رہا ہے؟ ایک دلہن کو گھوڑے پر بیٹھا دیکھنا ایک نئی چیز تھی، لیکن اس نے ایک تازگی والی تبدیلی پیدا کر دی۔ ہر کسی کو یہ پسند آیا۔ اور مجھے بہت فخر تھا کہ میں ایک ایسی عورت سے شادی کر رہا ہوں جو بہت بہادر ہے اور جرات مند ہے۔'