اٹل بہاری واجپئی جو ضیا الحق کے ’پٹھانی سوٹ‘ کے تحفے کو شوق سے پہنتے تھے

اٹل بہاری واجپئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ریحان فضل
    • عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی

چالیس کی دہائی میں ہندوستان کی آزادی کے لیے لڑنے والے زیادہ تر لوگوں کے ذاتی نوعیت کے تعلقات دقیانوسی قسم کے نہیں ہوتے تھے۔

گاندھی جی کھلے عام برہم چاری یعنی مجرد زندگی کے تجربات کر رہے تھے جبکہ کہا جاتا ہے کہ اہلیہ کی وفات کے باوجود جواہر لعل نہرو کے تعلقات ایڈوینا ماؤنٹ بیٹن اور پدمجا نائیڈو سے تھے۔

سوشلسٹ لیڈر رام منوہر لوہیا اعلانیہ رما مترا کے ساتھ رہ رہے تھے، جن سے انھوں نے کبھی شادی نہیں کی۔

اسی سلسلے میں اٹل بہاری واجپئی کا بھی ایک نام ہے، جن کی زندگی میں راج کماری کول کے لیے ایک خاص جگہ تھی۔

گوالیار کے وکٹوریہ کالج (اب مہارانی لکشمی بائی کالج) میں پڑھتے ہوئے واجپئی کی ملاقات راجکماری ہکسر سے ہوئی، جن کی طرف وہ کھنچے چلے گئے۔

واجپئی کی حال ہی میں شائع ہونے والی سوانح عمری کی مصنفہ اور معروف صحافی ساگریکا گھوش کہتی ہیں کہ ’اُن دنوں دونوں کی شخصیتیں متاثر کرنے والی تھیں۔ راجکماری ہکسر بہت خوبصورت تھیں، خاص طور پر اُن کی آنکھیں۔ ان دنوں کالج میں بہت کم لڑکیاں پڑھتی تھیں۔ واجپئی اُن کی طرف راغب ہوئے، راجکماری بھی انھیں پسند کرنے لگيں۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’پہلے اُن کی دوستی راجکماری کے بھائی چاند ہکسر سے ہوئی۔ لیکن جب شادی کی بات آئی تو راجکماری کے گھر والوں نے واجپئی کو اپنی بیٹی کے لائق نہیں سمجھا۔ بعدازاں شہزادی ہکسر کی شادی برج نارائن کول سے ہوئی، جو دہلی کے ایک کالج میں فلسفہ پڑھاتے تھے۔‘

راج کماری کول نے واجپئی کے ساتھ اپنے تعلقات کا اعتراف کیا

راجکماری کول

،تصویر کا ذریعہGoogle

،تصویر کا کیپشنراجکماری کول کے بڑھاپے کی تصویر

اٹل بہاری واجپئی کے ایک اور سوانح نگار کنگشوک ناگ اپنی کتاب ’اٹل بہاری واجپئی دی مین فار آل سیزن‘ میں لکھتے ہیں کہ ’نوجوان اٹل نے ایک لائبریری کی کتاب میں راجکماری کے لیے محبت کا خط رکھا تھا جس کا جواب انھیں نہیں ملا۔ دراصل راجکماری نے اس خط کا جواب دیا تھا لیکن وہ خط واجپئی تک نہیں پہنچ سکا۔‘

جب واجپئی رکن پارلیمان کے طور پر دہلی آئے تو ان کی راجکماری سے ملاقات کا سلسلہ پھر سے شروع ہو گيا۔

سنہ 1980 کی دہائی میں ایک میگزین ’ساوی‘ کو دیے گئے انٹرویو میں راج کماری کول نے اعتراف کیا کہ اُن کے اور واجپئی کے درمیان پختہ تعلقات تھے، جسے بہت کم لوگ سمجھ سکیں گے۔

اس انٹرویو کے مطابق انھوں نے کہا تھا کہ ’واجپئی اور مجھے کبھی بھی اپنے شوہر کو اس رشتے کے بارے میں وضاحت نہیں دینی پڑی۔ میرے اور میرے شوہر کا واجپئی کے ساتھ بہت مضبوط رشتہ تھا۔‘

واجپئی کے سب سے قریبی دوست اپا گھٹاٹے نے ساگریکا گھوش کو بتایا کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ ان کی محبت پلوٹنک تھی یا نہیں اور اس سے واقعی کوئی فرق بھی نہیں پڑتا۔‘

ساری دنیا اس رشتے کو غیر روایتی اور عجیب سمجھتی تھی لیکن درحقیقت یہ دونوں کے درمیان دوستی کی فطری توسیع تھی جو گوالیار میں کالج کے ہم جماعت کے طور پر شروع ہوئی تھی۔

سرورق

،تصویر کا ذریعہJUGGERNAUT

راج کماری کول شوہر کے ساتھ واجپئی کے گھر شفٹ ہو گئیں

بعد میں جب واجپئی کو دہلی میں ایک بڑا سرکاری گھر ملا تو راج کماری کول اپنے شوہر برج نارائن کول اور اپنی بیٹیوں سمیت واجپئی کے گھر شفٹ ہو گئیں۔ ان سب کے گھر میں اپنے اپنے سونے کے کمرے تھے۔

ساگریکا گھوش بتاتی ہیں کہ ’بلبیر پنج، جو واجپئی کے بہت قریب تھے، نے انھیں بتایا کہ جب وہ پہلی بار واجپئی کے گھر گئے، تو انھیں وہاں رہنے والے کول جوڑے کو دیکھ کر کچھ عجیب سا محسوس ہوا۔ لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ یہ معمول کی بات ہے تو انھوں نے اس کے بارے میں سوچنا بھی چھوڑ دیا۔‘

’جب واجپئی کے سب سے قریبی دوست اپا گھٹاٹے واجپئی کو رات کے کھانے پر مدعو کرتے تھے تو واجپئی، راج کماری کول اور برج نارائن کول تینوں ایک ساتھ ان کے ہاں جاتے تھے۔ بلبیر پنج کہتے ہیں کہ واجپئی ایک استاد کے طور پر بی این کول کی بہت عزت کرتے تھے۔ برج نارائن کول نے نہ صرف راج کماری اور واجپئی کی دوستی کو قبول کیا تھا بلکہ وہ واجپئی کو بہت پسند کرنے لگے تھے۔ وہ اکثر پوچھتے تھے کہ اٹل نے کھانا کھایا یا نہیں؟ ان کی تقریر کیسی تھی؟ ان کی تقریر میں جوش تھا یا نہیں؟‘

کرن تھاپر کو مسز کول کی سفارش پر واجپئی کا انٹرویو ملا

اٹل بہاری واجپئی

،تصویر کا ذریعہPENGUIN VIKING

مشہور صحافی کرن تھاپر ایک بار واجپئی سے انٹرویو کے لیے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن بات نہیں بنی۔

کرن تھاپر اپنی سوانح عمری ’ڈیولز ایڈووکیٹ‘ میں لکھتے ہیں کہ ’میں نے تھک ہار کر واجپئی کے رائسینا روڈ والے گھر کا فون ملایا۔ کافی کوشش کے بعد مسز کول لائن پر آئیں۔ جب میں نے انھیں اپنا مسئلہ بتایا تو انھوں نے کہا، مجھے ان سے بات کرنے دیجیے، انٹرویو ہو جانا چاہیے۔ اگلے دن واجپئی انٹرویو دینے کے لیے راضی ہو گئے، ان کے پہلے الفاظ تھے، آپ نے تو ہائی کمان سے بات کر لی تو میں آپ کو کیسے انکار کر سکتا ہوں۔‘

’کنوارہ ہوں برہم چاری نہیں‘

کہانی مشہور ہے کہ مسز کول سنہ 1960 کی دہائی میں اپنے شوہر سے طلاق لے کر واجپئی سے شادی کرنا چاہتی تھیں لیکن اُن (واجپئی) کی پارٹی اور آر ایس ایس کا ماننا تھا کہ اگر واجپئی نے ایسا کیا تو اس سے ان کے سیاسی کیریئر پر منفی اثر پڑے گا۔

واجپئی نے ساری زندگی شادی نہیں کی لیکن مسز کول ان کی ذاتی زندگی کا لازمی حصہ رہیں۔

ایک پروگرام کے دوران واجپئی نے اعتراف کیا تھا کہ ’میں بیچلر ہوں، برہم چاری نہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

واجپئی کی سوانح عمری ’ہار نہیں مانوں گا‘ میں وجے ترویدی لکھتے ہیں کہ ’دوہرے معیار کی سیاست میں یہ غیر تحریری محبت کی کہانی تقریباً پچاس سال تک چلی اور جو چھپائی نہیں گئی۔ لیکن اسے کوئی نام بھی نہیں دیا گیا۔ انڈیا کی سیاست میں ایسا شاید پہلے کبھی نہیں ہوا کہ ایسا شخص وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ میں رہ رہا ہو، جسے پروٹوکول میں کوئی جگہ نہ دی گئی ہو، لیکن جس کی موجودگی سب کو قبول ہو۔‘

آر ایس ایس نے کبھی بھی واجپئی کے کسی شادی شدہ عورت کے ساتھ تعلقات پر مہر نہیں لگائی۔

لیکن وہ ان کا کوئی نقصان نہیں کر پائے کیونکہ وہ انتخابی سیاست میں ان کے سب سے بڑے پوسٹر بوائے تھے اور جس میں بھیڑ اکٹھا کرنے کی صلاحیت تھی۔

واجپئی اور مسز کول کے رشتے پر گلزار کا خاموشی گانا بالکل موزوں نظر آتا ہے۔

ہم نے دیکھی ہے ان آنکھوں کی مہکتی خوشبو

ہاتھ سے چھو کے اسے رشتوں کا الزام نہ دو

صرف احساس ہے یہ، روح سے محسوس کرو

پیار کو پیار ہی رہنے دو کوئی نام نہ دو

اٹل بہاری واجپئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناٹل بہاری واجپئی کا عوام سے خطاب

سونیا گاندھی نے مسز کول کی موت پر تعزیت کا اظہار کیا

سنہ 2014 میں، جب راجکماری کول 86 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں، اس کے بعد کی ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ مسز کول سابق وزیر اعظم واجپئی کے خاندان کی رکن تھیں۔

انڈین ایکسپریس نے انھیں واجپئی کا سب سے زیادہ نامعلوم دوسرا حصہ بتایا۔

حالانکہ اس وقت انتخابی مہم اپنے عروج پر تھی، سونیا گاندھی خاموشی سے واجپئی کی رہائش گاہ پر گئیں اور ان کی موت پر تعزیت کا اظہار کیا۔

ان کی آخری رسومات میں نہ صرف بی جے پی کے سرکردہ رہنما ایل کے اڈوانی، امت شاہ، سشما سوراج اور ارون جیٹلی موجود تھے بلکہ آر ایس ایس نے اپنے دو سینیئر نمائندوں سریش سونی اور رام لال کو بھی وہاں بھیجا تھا۔

اٹل بہاری واجپئی، جو سنہ 2009 کے بعد شدید بیمار ہو گئے، راج کماری کی آخری رسومات میں شرکت نہیں کر سکے۔

کنگشوک ناگ نے بعد میں لکھا کہ ’راجکماری کول کی موت کے ساتھ ہی انڈین سیاست کی سب سے بڑی محبت کی کہانی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔ یہ محبت کی کہانی کئی دہائیوں تک پروان چڑھی لیکن بہت سے لوگ اس سے لاعلم رہے۔‘

مسز کول واجپئی کی تمام ضروریات کا خیال رکھتی تھیں

واجپئی ہمیشہ راجکماری کو مسز کول کہہ کر پکارتے تھے۔ وہ واجپئی کا گھر چلاتی تھیں۔ مسز کول ان کے کھانے، ادویات اور روزمرہ کی ضروریات کی ذمہ دار تھیں۔

ایک بار اٹل بہاری واجپئی کو یاد آیا، جب وہ راجندر پرساد روڈ پر رہتے تھے، مسز کول ان کے گھر آئی تھیں۔

’وہ یہ دیکھ کر دنگ رہ گئیں کہ واجپئی اپنے جسم کو صاف کرنے کے لیے کپڑے دھونے والے صابن استعمال کر رہے تھے۔‘

ساگریکا گھوش نے ایک قصہ سناتے ہوئے کہا کہ ’بلبیر پنج نے انھیں بتایا کہ ایک بار جب وہ واجپئی کے گھر گئے تو مسز کول گھر پر نہیں تھیں۔ میز پر واجپئی کے لیے سوکھی روٹیاں اور سبزی رکھی تھیں۔ اسے دیکھ کر واجپئی نے منہ بنایا اور خود کچن میں جاکر خالص گھی میں پوریاں تلنے لگے۔‘

’جب مسز کول واپس آئیں تو انھیں میز پر پوریاں نظر آئيں۔ وہ ناراض ہو گئیں اور واجپئی سے کہنے لگیں - یہ کیا ہے؟ آپ تیل والی پوریاں کھا رہے ہیں؟ آپ خالص گھی کی پوریاں کیسے کھا سکتے ہیں؟ واجپئی نے ابھی کھانا شروع نہیں کیا تھا۔ انھوں نے تنک کر جواب دیا- آپ مجھے غیر خالص کھانا دینے پر تلی ہوئی ہیں۔‘

واجپئی کی اوما شرما سے دوستی

اوما شرما
،تصویر کا کیپشناوما شرما

واجپئی کو خوبصورت خواتین کی صحبت بہت پسند تھی۔ مشہور کتھک رقاصہ اوما شرما بھی ان کی خواتین دوستوں میں شامل تھیں۔

جب ساگریکا گھوش نے اوما شرما سے واجپئی کے ساتھ ان کے تعلقات کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے جواب دیا: ’واجپئی کو میرا ڈانس بہت پسند تھا، وہ اکثر میرے شوز میں آیا کرتے تھے۔ ہمارے درمیان بہت ہنسی مذاق ہوتے تھے۔ وہ فن سے محبت کرنے والے تھے۔ ہم دونوں دھول پور گوالیار کے علاقے سے آتے تھے۔ایک بار جب میں نے ہری ونش رائے بچن کی نظم مدھوشالا اور گوپال داس نیرج کی نظم پر رقص کیا تو واجپئی نے مجھ سے کہا، 'اوما جی، ہم پر بھی مہربانی کیجیے' پھر میں نے ان کی نظم ’مرتیو سے ٹھن گئی‘ پر رقص کیا۔‘

ساگریکا گھوش کہتی ہیں کہ ’اوما شرما کو 2001 میں پدم بھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ تقریب کے بعد چائے کی پارٹی میں انھوں نے کافی دیر تک سونیا گاندھی سے بات کی، اس دوران واجپئی انھیں مسلسل دیکھتے رہے۔ جب وہ واجپئی کے پاس گئیں تو انھوں نے انھیں طعنہ دیا، اوما جی غیروں سے بات کرتی ہو اور ہم سے پدم بھوشن لیتی ہو۔‘

واجپئی کھانے پینے کے دلدادہ تھے

اپنے ابتدائی دنوں میں واجپئی کو وائن اور اسکاچ کا شوق تھا۔ انھیں گوالیار کا چَڑوا، چاندنی چوک کی جلیبیاں اور لکھنؤ کی چاٹ اور ٹھنڈائی پسند تھی۔

ان کے پسندیدہ پکوان میں رس گلہ، چکن، کھیر، کھچڑی اور تلی ہوئی جھینگے اور مچھلیاں تھیں۔

وہ اکثر دہلی کے شاہجہاں روڈ پر یو پی ایس سی آفس کے قریب چاٹ کھانے جایا کرتے تھے۔

جب جارج فرنانڈس وزیر دفاع تھے تو وہ ہر کرسمس پر بنگلور (آج کا بنگلورو) کی بیکری ’کوشیز‘ سے واجپئی کے لیے خصوصی طور پر کیک لاتے تھے۔ کناٹ پلیس کے انڈین کافی ہاؤس میں واجپئی کو اکثر ڈوسا کھانے کے بعد کولڈ کافی پیتے دیکھا جا سکتا تھا۔

انھیں چائنیز کھانا اس حد تک پسند تھا کہ سنہ 1979 میں بطور وزیر خارجہ چین جانے سے پہلے انھوں نے کئی دنوں تک چاپ سٹک سے کھانے کی مشق کی تھی۔

وجے ترویدی واجپئی کی سوانح عمری میں لکھتے ہیں: ’پرکاش جاوڑیکر (بی جے پی رہنما اور سابق وزیر انسانی وسائل) نے مجھ سے کہا کہ واجپئی کو ٹھنڈا کوکا کولا بہت پسند تھا۔ ایک بار جاوڑیکر نے واجپئی سے پوچھا کہ کیا اتنا ٹھنڈا پینے سے آپ کو تکلیف نہیں ہوتی؟ واجپئی نے اپنے انداز میں جواب دیا تھا۔ اس سے میرا گلا کھل جاتا ہے۔‘

سنہ 2000 میں جب واجپئی اٹلی گئے تھے تو ان کے پریس ایڈوائزر ایچ کے دوآ نے ان سے پوچھا تھا کہ آپ کو وہاں کیسا کھانا مل رہا ہے، تو ان کا جواب تھا ’بینگن بہت کھانا پڑ رہا ہے۔‘

وزیر اعظم کے دفتر میں سیکریٹری کے عہدے پر رہنے والے این کے سنگھ اپنی سوانح عمری ’پورٹریٹ آف پاور: ہاف اے سنچری آف بیئنگ ایٹ رنگ سائیڈ‘ میں لکھتے ہیں کہ ’ایک بار واجپئی کی رہائش گاہ پر ایک میٹنگ رات کے کھانے تک چلتی رہی، انھوں نے ہماری طرف دیکھا اور کہا۔ مجھے تو پرہیز والا کھانا کھانا ہے، لیکن ان لوگوں کا کیا ہو گا؟‘

’انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ وہ سب کے لیے کھانے کا بندوبست کریں۔ فوری طور پر ہمارے لیے بہترین کھانے کا انتظام کیا گیا۔‘

واجپئی کا معمول

اٹل بہاری واجپئی

،تصویر کا ذریعہHARPER HINDI

،تصویر کا کیپشناٹل بہاری واجپئی کتے کے ساتھ سیر کے لیے

جب واجپئی وزیر اعظم بنے تو وہ صبح 6.30 بجے اٹھتے تھے۔ جاگتے ہی ایک گلاس گرم پانی میں شہد اور لیموں ملا کر پیتے تھے۔

اس کے بعد وہ آٹھ بجے تک اخبار پڑھتے تھے۔ آٹھ سے 8.30 تک وہ یا تو اپنی ٹریڈمل پر چلتے تھے یا اپنے کتوں ببلی اور لولی کے ساتھ سیر کے لیے جاتے تھے۔

ناشتے میں وہ انڈے کا آملیٹ، ٹوسٹ یا اڈلی لیتے تھے۔ ساتھ میں پپیتا، انگور، تربوز اور سنترے بھی لیتے تھے۔

ساگریکا گھوش کہتی ہیں کہ ’واجپئی اپنا دن کا کھانا 1.30 بجے کھاتے تھے۔ جس میں سبزیاں، چپاتی اور رائتہ ہوا کرتا تھا۔ اس کے بعد وہ یا تو کھیر کھاتے یا گلاب جامن۔ کھانے کے بعد وہ چار بجے تک آرام کرتے تھے۔‘

’اس کے بعد، ان کے دن کا دوسرا حصہ شروع ہوتا جو رات 8.30 بجے تک جاری رہتا، پانچ بجے کاک ٹیل سموسے، کاجو یا پاپڑی چاٹ کے ساتھ چائے پیش کی جاتی۔ رات کے کھانے میں ہلکی سبزیوں کا سوپ، چینی انداز میں پکے جھینگے یا چکن کھاتے تھے۔ میٹھے میں یا تو قلفی ہوتی تھی یا آئس کریم۔‘

ڈاکٹروں کے مشورے پر شراب چھوڑ دی

واجپئی اپنے دوست جسونت سنگھ کی طرح اپنے ابتدائی کیریئر میں بہت زیادہ شراب پیتے تھے لیکن اپنی زندگی کے آخری سالوں میں خاص طور پر وزیر اعظم بننے کے بعد واجپئی نے شراب نوشی ترک کر دی۔

ان کی بیماریوں اور گھٹنوں کے درد کے پیش نظر ڈاکٹروں نے ان کی شراب نوشی پر پابندی لگا دی تھی۔

ساگریکا گھوش بتاتی ہیں: ’پون ورما نے انھیں بتایا کہ ایک بار قبرص کے دورے کے دوران جہاں وہ اس وقت سفیر تھے، انھوں نے وہاں کے ایک مشہور ریستوراں میں واجپئی کے لیے کھانے کا انتظام کیا تھا۔ ورما نے واجپئی سے اصرار کیا کہ ماحول اچھا ہے۔ آپ ایک چھوٹی سی ڈرنک کیوں نہیں لیتے؟ واجپئی کی آنکھیں چمک اٹھیں لیکن پھر ایس پی جی کے آفیسر جی ٹی لیپچا نے آگے بڑھ کر کہا، ’نو ڈرنکس پلیز، اونلی سپرائٹ‘ واجپئی نے ملال کے ساتھ خود کو روک لیا۔‘

واجپئی مندروں اور مذہبی پروگراموں سے دور رہتے تھے

واجپئی کے سیکریٹری شکتی سنہا نے ایک بار مجھے بتایا تھا کہ وہ مذہب پر عمل پیرا ہندو نہیں تھے۔

مزید پڑھیے

،ویڈیو کیپشنانڈیا کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی

ساگریکا گھوش کہتی ہیں کہ ’وہ مندر نہیں جاتے تھے اور اس کتاب کی میری تحقیق کے دوران مجھے کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا کہ روزانہ کی پوجا ان کے روزمرہ کے معمولات میں شامل ہو۔ 1995 میں جب یہ خبر پھیلی کہ گنیش کی مورتیاں دودھ پی رہی ہیں تو واجپئی نے اس کا مذاق اڑایا تھا۔ ان کے دوست گھٹاٹے نے مجھے بتایا کہ ان کی کسی سے کوئی مذہبی دشمنی نہیں تھی۔ ان کا پرانا ڈرائیور مجیب ایک مسلمان تھا۔‘

’سنہ 1980 میں جب پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالستار نے انھیں صدر ضیا الحق کی طرف سے ایک پٹھانی سوٹ تحفے میں دیا تو انھوں نے اسے بہت شوق سے پہنا، جب اس پر بہت سے لوگوں نے تنقید کی تو واجپئی نے جواب دیا، میں دیش (ملک) کا غلام ہوں۔ بھیس (لباس) کا نہیں۔ شیعہ رہنما مولانا کلب صادق بھی کہا کرتے تھے کہ واجپئی نے کبھی ہندو اور مسلمانوں میں کوئی تفریق نہیں کی، اپنے پورے کریئر میں انھوں نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کو ترجیح دی۔‘

اٹل بہاری واجپئی ایک بڑے لیڈر تھے

کمیونسٹ رہنما ہیرین مکھرجی، بھوپیش گپتا اور اندرجیت گپتا دائیں بازو کی پارٹی کے رکن ہونے کے باوجود واجپئی کے قریبی دوست تھے۔

جو لوگ انھیں قریب سے جانتے تھے ان میں سی این انادورائی، کروناندھی کے علاوہ کانگریس کے سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤ بھی تھے جو انھیں اپنا گرو مانتے تھے۔

مشہور صحافی ونود مہتا نے اپنی سوانح عمری ’لکھنؤ بوائے‘ میں لکھا ہے کہ ’میں ذاتی طور پر زیادہ تر سیاست دانوں کو پسند نہیں کرتا، لیکن واجپئی ان چند لوگوں میں سے ایک تھے جنھیں میں نے پسند کیا۔ میں اس معاملے میں مشہور ماہر قانون فالی نریمن سے اتفاق کرتا ہوں جو یہ کہا کرتے تھے کہ ’دیسپائٹ ہز انکنسسٹینسیز آئی لائک دی اولڈ مین‘ (اس سے عدم مطابقت کے باوجود، میں اس بوڑھے کو پسند کرتا ہوں۔)

ساگریکا گھوش نے ان کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’واجپئی اخلاقی نظم و ضبط والے سنگھ پریوار میں گوشت کھانے اور پینے والے غیر روایتی شخص تھے۔ ان کے سب سے قریبی دوست برجیش مشرا اور جسونت سنگھ تھے، جن کا سنگھ پریوار سے کوئی قریبی تعلق نہیں تھا۔ واجپئی کی شخصیت میں پرتیں اور تضادات تھے لیکن ایک چیز جو انھوں نے ہمیشہ برقرار رکھی تھی وہ انڈیا پر اپنی چھاپ چھوڑنے کی خواہش تھی۔‘