آل دیٹ بریتھز: انڈیا میں بسنے والے دو بھائیوں پر دستاویزی فلم جو زخمی پرندوں کے مسیحا بن گئے

    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، انڈیا

بیس سال سے انڈیا کے دارالحکومت دلی کے علاقے وزیر آباد کے ایک قریبی تنگ و تاریک محلے میں رہنے والے دو بھائی، آسمان سے گرنے والی زخمی چیلوں کا علاج کر رہے ہیں۔

محمد سعود اور ندیم شہزاد پتنگ کی ڈور جن پر شیشے کا مانجھا لگا ہوتا ہے سے زخمی ہونے والے پرندوں کی زندگیاں بچا رہے ہیں۔ یہ دونوں بھائی ایسے زخمی پرندوں کو گتے کے ڈبوں میں گھر کے تہہ خانے میں لے جاتے ہیں، پھر یہاں ان زخمی پرندوں کا علاج شروع کیا جاتا ہے۔ ان پرندوں کے کٹے ہوئے پروں اور ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کو ٹھیک کرنے کے لیے ان پرندوں کے زخموں کی صفائی اور ان کی مرہم پٹی کی جاتی ہے۔

’آپ ایسی چیزوں کا خیال نہیں رکھ پاتے جو ایک ہی ملک، مذہب یا سیاست سے تعلق رکھتی ہوں۔ ان دو بھائیوں کے کام پر ایک ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم ’آل دیٹ بریتھز‘ بنائی گئی ہے۔

ان بھائیوں کا کہنا ہے کہ ’زندگی ایک تعلق داری کا نام ہے، اسی لیے ہم ان پرندوں کو اس طرح نہیں چھوڑ سکتے۔‘

آل دیٹ بریتھز نامی دستاویزی فلم 2022 کی ’سنڈینس فلم فیسٹیول‘ میں ورلڈ سنیما دستاویزی مقابلے میں پہلے نمبر پر آئی ہے۔ یہ کوئی ایسی فلم نہیں ہے جو چونکا دینے والی ہوں یا جو بڑی سبق آزموز ہو۔

شونک سِن کی 91 منٹ کی یہ دستاویزی فلم تو سب سے پہلے جہاں ان دو بھائیوں کے لیے ایک عاجزانہ خراج تحسین ہے وہیں یہ موسمیاتی تبدیلی پر گہری روشنی ڈالتی ہے اور دلی کی گہما گہمی والی مشکل ترین زندگی کی حقیقتوں کو آشکار کرتی ہے۔

ہالی وڈ رپورٹر اس دستاویزی فلم کو ایک چھوٹا سا معجزہ قرار دیتے ہیں۔ یہ ایک ہی وقت میں محتصر مگر جامع ہے۔

سنسان اور ویران تہہ خانے میں، جہاں فلم کی زیادہ تر شوٹنگ کی گئی ہے، ایک پُرسکون اور بامقصد فضا ہے۔ یہ دونوں بھائی ایک میز پر معذور پرندوں کا ایک خاص انداز سے علاج کرتے ہیں۔ اس تہہ خانے میں چھوٹے چھوٹے معجزے رونما ہوتے ہیں۔

یہاں جانیں بچائی جاتی ہیں، روزی کمائی جاتی ہے اور کچھ گپ شپ بھی ہوتی ہے۔ بھائیوں کا ایک نوجوان معاون حیران ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایٹمی جنگ کی صورت میں ان پرندوں کا کیا بنے گا۔ جس پر ایک بھائی نے ان سے پوچھا کہ ’یہ تم نے کہاں سنا؟ وہ معاون جواب دیتے ہیں کہ ’میں نے یہ سب سوشل میڈیا پر پڑھا۔‘

اوپر ان کا خاندان ٹی وی کے گرد جمع ہے جو شہر میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان شہریت کے متنازع قانون پر ہونے والے فسادات کی خبریں دے رہا ہے۔ (یہ 2020 کے اوائل میں ہوا تھا۔) باہر سموگ والی فضا میں چیلیں منڈلا رہی ہیں اور زمین پر خوراک تلاش کر رہی ہیں۔

زیادہ دور نہیں، دلی کے گندے، جھاگ بھرے اور دھول سے اٹے ہوئے دریائے یمنا کا پانی بہاؤ کے رستے تلاش کر رہا ہے۔

چھت پر، جہاں بھائی پرندوں کو پنجروں میں صحت یاب ہونے کے لیے لے جاتے ہیں، ایک چیل آسمان سے نیچے آتی ہے اور ان بھائیوں کے معاون کی چشمے چھین لیتی ہے۔ وہ حیرانی میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ آخر پرندے نے میرا چشمہ ہی کیوں چرا لیا؟

یہ دونوں بھائی اس بارے میں بات کرتے ہیں کہ کس طرح پڑوس کے پرندوں کے ہسپتال نے پہلی چیل کا علاج کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ وہ ایک گوشت خور پرندہ تھا۔ اس وقت، وہ نوعمر باڈی بلڈرز تھے اور یوں انھیں ’گوشت، پٹھوں اور کنڈرا کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں۔‘

انھوں نے چیل پر پٹی باندھنے کے طریقے سیکھے اور پھر وہ پرندوں کے جیسے دیوانے ہو گئے۔ ان کے مطابق جب ’ہم زمین پر لیٹتے، آسمان میں خوبصورت نظاروں کا مشاہدے کرتے۔ ایسا کرنے سے سر گھوم جاتا۔ کیا آپ نے کبھی آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے چکر محسوس کیا ہے؟‘

شونک سین، جنھوں نے اپنی ساری زندگی دلی میں گزاری ہے، نے مجھے بتایا کہ ان کے ذہن میں فلم کا خیال ایک ’ظاہری تصور‘ سے آیا تھا: ’دھندلا ہوا آسمان جہاں سورج ایک پھیلا ہوا دھبہ ہے، ہر طرف پھیلا ہوا سرمئی پِن، اور اس زہریلی ہوا میں مسلسل سانس لینا۔

ان بھائیوں سے ملاقات کے بعد انھیں معلوم ہوا کہ ’ان بھائیوں کا آسمان اور پرندوں کے ساتھ بہت گہرا اور شاندار رشتہ تھا۔‘ انھیں یہ دستاویزی فلم بنانے میں تین سال کا عرصہ لگا۔

سین نے اس دستاویزی فلم کی عکس بندی میں ’پین شاٹس‘ کا استعمال کرتے ہوئے، دلی کی آلودگی اور تیز رفتاری میں چھپی تباہ کن زندگی کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ جسے یہ بھائی ’ایک کھلا زخم‘ کہتے ہیں۔

دہلی کے آسمان پر منڈلاتی یہ چیلیں جو 20 منزلہ عمارتوں کے اوپر کوڑے سے خوراک تلاش کرنے کے لیے نکلتی ہیں اور عمارتوں کی چھتوں پر چھا جاتیں ہیں جنھیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ کسی چمنی سے لامتناہی کالا دھواں نکل رہا ہو۔

ان دونوں بھائیوں کے گھر کے باہر کی ٹوٹی پھوٹی کچی گلی مون سون کی بارشوں میں گندے پانی کا تالاب بن جاتی ہے اور یہ پانی بارش کے دوران ان کے تہہ خانے میں گرتا ہے۔ کیچڑ والے گندے پانی میں جنگلی سؤر پھرتے ہیں۔ شہر کی ہوا کا معیار سانس لینے کے لیے خطرناک حد تک پہنچ جاتا ہے۔

ایسے میں شہزادہ بتاتے ہیں کہ 'ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرا گلا کوئلے کی جل رہا ہو۔'

لیکن پھر بھی اس گنجان شہر اور عمارتوں کے جنگل میں امید اور زندگی کی امید ہے۔ تنگ و تاریک گلیوں میں لٹکتی ہوئی بے ہنگم بجلی کی تاروں پر بندر جھولتے نظر آتے ہیں۔ زمین پر کھڑے پانی میں جہاں درجنوں کیڑے مکوڑے موجود ہے آسمانب میں اڑتے جہاز کا عکس دکھائی دیتا ہے۔

یہ بھائی اپنے تہہ خانے میں برستی بارش میں حکومت کی جانب سے ان کی پرندوں کی جانیں بچانے والی غیر سرکاری تنظیم کے لیے بیرونی امداد کی اجازت کی خوش میں آئس کریم کھا کر اور کرکٹ کھیل کر جشن مناتے ہیں۔

جب موسم صاف ہو جاتا ہے تو چھوٹے چھوٹے اینٹوں سے بنے گھروں کی چھتوں پر لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو جاتا ہے اور آسمان پر ان کی کاغذی پتنگیں لہرانا شروع ہو جاتی ہیں۔ اور یہ ہی وہ وقت ہے جب معصوم پرندے ان پتنگوں کی ڈوروں سے الجھ کر اور زخمی ہو کر زمین پر گرنے لگتے ہیں اور یوں یہ دونوں بھائی اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

بعض اوقات ان کہ تہہ خانے میں ایک وقت میں 100 سے زیادہ زخمی پرندے موجود ہوتے ہیں۔ بعض اوقات یہ پرندے سموگ میں بلند عمارتوں سے ٹکرانے یا اوور ہیڈ تاروں میں الجھ کر زخمی ہو جاتے ہیں۔ ایک مرتبہ ان دونوں بھائیوں نے ٹوٹے ہوئے پر والے ایک پرندے کو بچانے کے لیے تیر کر دریا پار کیا تھا۔

ایسے میں ایک پڑوسی ان کے دروازے پر آتا ہے اور ان سے اپنی چھت پر جھپٹنے والی چیلوں سے بچنے کا طریقے دریافت کرتا ہے۔ وہ دونوں بھائی پڑوسی کی چھت پر جاتے ہیں اور ایک نزدیکی عمارت میں چیل کا گھونسلہ دیکھتے ہیں۔ وہ اسے مشورہ دیتے ہیں کہ ایک چھڑی اٹھائیں، ہیلمٹ پہنیں اور براہ راست پرندے کو دیکھیں، جو ممکنہ طور پر ایک بھوکی ماں ہے اور چھت پر خوراک کی تلاش میں منڈلا رہی ہے۔

شونک سین کہتے ہیں کہ اس پرندوں کے زخمی ہو کر آسمان سے گرنے کی تباہی کے دوران یہ بھائی انھیں بچانے اور مدد پہنچانے کے لیے پہلی صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ 'پرندے آسمان سے گر رہے ہو تو ان کے لیے اس سے زیادہ تباہی کیا ہو گی، لیکن ان کا حوصلہ بھی کمال ہے۔۔۔وہ بس سر جھکا کر غیر جذباتی ہوئہ اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔

ان کا بنا جذبات کے اظہار کے تکلیف برداشت کرنے کی قوت بھی کمال ہے۔

ان میں سے ایک بھائی فلم میں ڈائیلاگ بولتا ہے کہ ’تم نہیں جانتے کہ اس چھوٹے سے تہہ خانے میں وقت کیسے گزرتا ہے۔ ایک دن مجھے دل کا دورہ پڑے گا اور یہیں اس گیلے فرش پر گر جاؤں گا۔ میرا سینہ پھٹ جائے گا اور چلیں اندر سے باہر اڑ جائیں گی۔‘