آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کے شہر پونے میں بسنے والے بدتمیزی کی حد تک دو ٹوک رویوں کا اظہار کیوں کرتے ہیں؟
- مصنف, رتھینا سنکری
- عہدہ, بی بی سی ٹراول
ستمبر میں ایک بارش والے دن میں انڈین ریاست مہاراشٹر کے شہر پونے کے پرانے علاقے میں واقع محلہ سداشیو پیٹھ کی گلیوں میں گھوم رہی تھی جب میری نظر ایک مندر کے سامنے نصب ایک رنگین سائن بورڈ پر پڑی۔
اس بورڈ پر مقامی مراٹھی زبان میں لکھا تھا: ’یہ پرائیویٹ پارکنگ ہے۔ مندر جانے والا کوئی بھی شخص اپنی گاڑی یہاں نہیں کھڑا کر سکتا۔ اگر گاڑی پارک کریں گے تو ٹائر کی ہوا نکال دی جائے گی، گاڑی کو زنجیروں میں لاک کر دیا جائے گا۔ 500 روپے جرمانہ ادا کرنے کے بعد ہی گاڑی مالک کے حوالے کی جائے گی۔‘
’نو پارکنگ‘ کے اس بے باک انداز نے میرے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دی اور یہ مسکراہٹ بطور خاص گہری اس لیے تھی کیونکہ صرف ایک گھنٹہ پہلے ہی میں بریانی سے لطف اندوز ہونے کے لیے ایک مشہور مقامی ریستوران ’ایس پیز بریانی ہاؤس‘ میں تھی جہاں چسپاں کیے گئے ایک نوٹس پر لکھا تھا ’ہمارے یہاں بریانی کبھی بھی ختم ہو سکتی ہے۔ ایسے میں کوئی نہ ناراض ہو اور نہ ہی انتظامیہ سے بحث کرے۔‘
پونے کے پرانے علاقوں میں اس طرح کی دو ٹوک اور دھمکی آمیز باتیں کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ بدنام زمانہ پونے کے سائن بورڈ زیادہ تر کار پارکنگ، ریستوران، دکانوں اور مکانات پر نصب یا چسپاں کیے جاتے ہیں۔ کچھ تو دہائیوں سے وہاں موجود ہیں اور کچھ وقتا فوقتا نمودار ہوتے رہتے ہیں۔ یہ سائن بورڈ اتنے مشہور ہیں کہ سوشل میڈیا پر بھی ان کی شان میں قصیدے سننے کو ملتے ہیں۔
اگر چہ کچھ مزاحیہ ہوتے ہیں تو کسی میں شدید طنز ہوتا ہے، اتنا شدید طنز کہ جو بدتمیزی کے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔ پرانے پونے کے محلوں سے گزرتے ہوئے میں نے جو سائن بورڈز دیکھے اُن میں سے میرے چند پسندیدہ اس طرح ہیں:
’اگر ایک بار میں گھنٹی کا جواب نہ دیا جائے تو سمجھ لیں کہ ہم آپ سے ملنا نہیں چاہتے: چلے جائیں‘
’دروازے کی گھنٹی بجانے کے بعد انتظار کریں۔ یہاں رہنے والے انسان ہیں، سپائیڈرمین نہیں‘
’اگر کوئی یہاں گاڑی کھڑی کرے گا تو گاڑی کا ٹائر پنکچر کر دیا جائے گا‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
'ہمارے بیٹے کی شادی طے ہو گئی ہے۔ اب رشتے نہ لائیں‘
پونے یونیورسٹی کے سکول آف سوشل سائنسز کے ریٹائرڈ ڈائریکٹر ڈاکٹر شریدھر مدھوکر دکشت نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ 1960 یا 1970 کی دہائی کے آس پاس کا وقت تھا جب یہ سائن بورڈز وجود میں آئے۔ پونے والے صاف گو ہیں اور ان سائن بورڈز کے ذریعے کوئی بات بتانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔‘
پونے میں رہنے والے پورے انڈیا میں خودسر اور دوسروں کے لیے جذبات سے عاری سمجھے جاتے ہیں، بعض اوقات تو بدتمیزی کی حد تک۔ وہ کم الفاظ کا استعمال کرنے والے لوگ ہیں اور جو کچھ بھی وہ بولتے ہیں وہ اکثر روکھا اور دو ٹوک ہوتا ہے۔ درحقیقت، پونے والوں کا یہ رویہ اتنا مشہور ہے کہ اسے مراٹھی فلم میں بھی دکھایا گیا ہے۔ اسے فلم ’ممبئی، پونے، ممبئی‘ اور ٹیلی ویژن پروگرام ’پونیری پونیکر‘ میں دیکھا جا سکتا ہے۔
مہاراشٹر کے شمال مغرب میں واقع شہر ناسک سے تعلق رکھنے والے سافٹ ویئر انجینیئر چیتن چندراترے کا کہنا ہے کہ ’پونے والوں کے ساتھ دوستی کرنے کے لیے وقت اور کوشش کی ضرورت ہے۔ میرے پونے کے روم میٹ ہمیشہ میری مراٹھی (زبان) کا مذاق اڑاتے اور جب میں کالج میں تھا تو ہمیشہ میری درستگی کرتے رہتے۔ مجھے اُن کے سرکل میں شامل ہونے میں چند مہینے لگے۔‘
پونے والوں کے ساتھ دوستی کرنے کے لیے وقت اور کوشش کی ضرورت ہے
جب رشمی جوشی ناسک سے پونے کے ایک ریستوراں میں اپنے ممکنہ دولھے سے ملنے کے لیے پہنچیں تو وہ یہ سُن کر حیران رہ گئيں کہ ان کے ممکنہ دولھے نے ان سے نصف بل ادا کرنے کے لیے کہا۔ دولھے میاں کا تعلق پونے سے تھا۔ ’مجھے اس کی قطعی امید نہیں تھی، کیونکہ میں نے سوچا تھا کہ وہ پہلی ملاقات میں مجھے متاثر کرنے کی کوشش کریں گے۔‘
یہ بھی پڑھیے
درحقیقت پونے والے کسی بھی باہر والے شخص کے لیے سخت گیر ثابت ہوتے ہیں۔ ممبئی پونے سے صرف 150 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اور پونے والوں کے ساتھ ممبئی والوں کے رشتے ’لو، ہیٹ‘ یعنی محبت اور نفرت پر مبنی ہیں۔ اور وہ اکثر پونے والوں کو ان کے ہتک آمیز انداز کے لیے نشانہ بناتے ہیں۔
ایک عام لطیفہ ہے کہ ’اگر آپ کسی پونیکر (پونے میں رہنے والے) کے گھر جائیں تو وہ آپ سے پوچھے گا کہ کیا آپ پانی لیں گے؟ (انڈیا میں مہمانوں کو ان کے آمد کے بعد بغیر پوچھے پانی پیش کیا جاتا ہے، لہذا مہمان سے یہ پوچھنا کہ آپ پانی پیئں گے انتہائی غیر مہذب اور غیر اخلاقی مانا جاتا ہے۔)
ڈاکٹر دکشت نے وضاحت کی کہ یہ بے ہودہ رویہ پونے کی تاریخ سے جڑا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے اپنے تاریخی اور ثقافتی پس منظر کی وجہ سے کچھ خاص خصوصیات حاصل کر رکھی ہیں۔ اس کے لیے ان کی سیٹنگ ذمہ دار ہے۔‘
پونے کا پرانا شہر 18ویں صدی سے 19ویں صدی کے اوائل میں برطانوی سلطنت میں شامل کیے جانے سے قبل تک پیشواؤں (مراٹھا سلطنت کے اصل حکمران) کا صدر دفتر تھا۔ اپنے عروج پر مراٹھا سلطنت شمال میں پشاور (آج کے پاکستان)، مشرق میں اڑیسہ اور جنوب میں تنجاور تک پھیلی ہوئی تھی۔ دارالحکومت کے طور پر اس عرصے کے دوران پونے شہر کی حدود میں اضافہ ہوا اور یہ شہر خطے میں طاقت کے مرکز کے طور پر ترقی کرتا گیا۔
بالاجی وشو ناتھ بھٹ جو پیشواؤں میں سے پہلے پیشوا تھے، ان کا چتپاون برہمن برادری سے تعلق تھا (یہ برہمن ذات کی ایک شاخ ہے اور برہمن انڈیا کی اعلیٰ ترین ذات کہی جاتی ہے) اور یہ لوگ مغربی مہاراشٹر کے کونکن علاقے سے آئے تھے۔ ان کی پونے منتقلی کے بعد بہتر امکانات کی تلاش میں کونکن کے چتپاون برہمنوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع ہوئی اور ان کے القاب جلد ہی ان کے لیے موروثی عہدے بن گئے جس سے وہاں برہمنی ثقافت کی راہ ہموار ہوئی۔
مسٹر دکشت کا کہنا ہے کہ ’جب کسی برادری کے رہنما اقتدار حاصل کرتے ہیں، تو وہ اپنی ہی برادری کے ارد گرد ایک طاقت گروپ بناتے ہیں۔ پیشوا کے دور حکومت میں بہت سے برہمن اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے۔ اس کے نتیجے میں شہر میں برہمنوں کا غلبہ ہوا۔‘
اس طرح شہر میں تیزی سے ایک منفرد ثقافت پروان چڑھی جہاں برہمنوں کو معاشرے میں بالادستی حاصل تھی جبکہ نچلی ذات کے باشندوں کو سماجی و اقتصادی لحاظ سے حاشیے پر دھکیل دیا گیا۔ برہمن روایتی طور پر پڑھے لکھے اور پجاریوں کی ایک ذات ہے اور وہ پیشواؤں کے مشیر بن گئے اور شہر میں بیوروکریٹس، بینکرز اور ایڈمنسٹریٹر کے طور پر اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو گئے۔ بااثر خاندانوں کے درمیان اتحاد نے برہمن طاقت کو مزید مضبوط کیا۔
اس اشرافیہ نے حکومت کرنے والی ذات کا کردار ادا کیا اور دوسری ذاتوں کے حالاتِ زندگی کے اصول و ضوابط بنائے۔ اس طرح متعصبانہ درجہ بندی کے سماجی ڈھانچے میں ان میں برتری کا احساس پیدا ہوا۔ پہلے وہ تاریخی طور پر قانون نافذ کرنے والوں کا کردار ادا کر رہے تھے اور آج وہ ان پاتیوں کے ذریعے اپنے حقوق کے تحفظ تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ اب یہ سائن بورڈز اور تحکمانہ انداز ان کے ماضی کے حاکمانہ طرز عمل کی نشانیاں ہیں۔
بہر حال پیشوا کے دور میں اپنی اعلیٰ حیثیت کے باوجود پونےکر برہمنوں نے سادہ زندگی گزاری، اور وہ اب بھی اس پر عمل پیرا ہیں۔ پونے میں رہنے والی چتپاون برہمن مایا لیلے نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 'ہمارے آباؤ اجداد کے لیے کونکن میں زندگی مشکل تھی۔ پہاڑی علاقے اور شدید بارشوں نے زندگی اور کھیتی باڑی کو مشکل بنا رکھا تھا۔ لہذا، ہم وقت، پیسے اور محنت کی قدر کو سمجھتے ہیں اور اسے یوں ہی نہیں لیتے ہیں۔'
مزید پڑھیے
جوشی نے اسے ایک اور انداز میں بیان کیا: 'پونیکر کسی چیز کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ وہ آدھا پیٹ بستر پر [بلکہ] جانا پسند کریں گے بجائے اس کے پیٹ بھر کر کسی چیز کو ضائع کریں۔'
آپ اسے جس طرح بھی دیکھیں پونےکر برہمنوں کے خصائص کی تعریف صدیوں سے ہوتی رہی ہے چاہے وہ کونکن میں ان کی عاجزانہ ابتداء ہو یا پھر پونے کی سبز چراگاہوں کے ان کے سفر اور شہر کے اقتدار میں ان کی اعلی حیثیت ہو۔ اور آج ان کی اولادیں جو زیادہ تر پرانے شہر میں آباد ہیں وہ اپنی براہ راست اور کفایت شعاری کی میراث کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس کا اظہار ان کے سائن بورڈز میں نظر آتا ہے۔
باہر کے لوگ پونے والوں کے رویے پر اگرچہ حیران یا ناراض ہوتے ہیں لیکن جیسا کہ اپنے زمانے کے معروف مصنف اور مزاح نگار پی ایل دیشپانڈے نے اپنے معروف مراٹھی مضمون 'تمھالا کون پوچھے؟ میں بیان کیا ہے، پونے والے اپنے آپ پر فخر کرنے والے لوگ ہیں جنھیں خود میں تبدیلی لانے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔
پچھلی چند دہائیوں میں پونے ایک کاسموپولیٹن شہر بنتا جا رہا ہے اور اس کے ممتاز کالجوں میں پڑھنے کے لیے وہاں بین الاقوامی طلباء کی مسلسل آمد ہے جس کی وجہ سے اسے مشرق کا آکسفورڈ سمجھا جاتا ہے۔ پونے کو پورے ملک میں مہاراشٹر کے ثقافتی گڑھے کے طور پر جانا جاتا ہے، اور دوسری ریاستوں سے بھی لوگ یہاں ملازمتوں کے لیے ہجرت کرتے ہیں کیونکہ یہ مینوفیکچرنگ اور سافٹ ویئر کا مرکز ہے۔
ان سب کے باوجود ثقافتی اصول اب بھی بہت سخت ہیں۔ قدیم پونیکروں کا رویہ صرف سائن بورڈز پر ہی نہیں دیکھا جاتا بلکہ روزمرہ کی زندگی میں بھی اس کا اظہار ہوتا ہے۔ پونے کے ایک شہری ونے کلکرنی نے مجھے بتایا کہ جب وہ دوپہر کے وقت پرانے شہر کے ایک مندر میں گئے تو ان سے کہا گیا: 'یہ بھگوان کے سونے کا وقت ہے، شام کو آنا۔'
اگر آپ ایک بجے دوپہر کو پرانے شہر کی کسی دکان میں جائيں تو وہ آپ سے کہیں گے یہ قیلولے کا وقت ہے، آپ شام چار بجے آئیں۔ کسی قسم کی خوشامد سے بھی دکان کے شٹر نہیں کھلیں گے۔
ڈاکٹر دکشت کہا کہنا ہے کہ 'بعض اوقات یہ کاروبار کو متاثر کرتا ہے۔ لیکن پونے والوں میں عام خیال یہ ہے کہ وہ کوالٹی دے رہے ہیں، اس لیے گاہک واپس آئیں گے۔'
اگرچہ ان کے اصولوں اور رویوں پر اکثر باہر والے ہنستے ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کا انداز کچھ کام کر رہا ہے کیونکہ اگست سنہ 2018 میں جو رہائش میں آسانی والے اشاریے کی جو رپورٹ جاری کی گئی اس میں پونے کو انڈیا میں سب سے زیادہ قابل رہائش شہر قرار دیا گیا، شہری ترقی کے اہم ستونوں کی بنیاد کے ساتھ ساتھ سماجی، ادارہ جاتی اور اقتصادی عوامل کی بنیاد پر بھی۔
باہر کے لوگ جو انھیں ابھی تک نہیں 'سمجھ' پائے انھیں چندراترے کے الفاظ پر دھیان دینا چاہیے، جنھوں مناسب انداز میں اس کا لب لباب پیش کیا ہے۔
وہ کہتے ہیں: 'آپ کو ماحولیات سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ایک بار جب آپ رکاوٹوں کو نظر انداز کر دیں اور بہاؤ کے ساتھ چلنا سیکھ لین تو پھر آپ اس تجربے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔'