آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کاہلوں اور لفنگوں کا یورپی شہر
- مصنف, ول بکنگھم
- عہدہ, بی بی سی ٹریول
بلغاریہ کے شہر پلوڈیو میں روزمرہ زندگی کی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے اٹھ کر کوئی کام کاج کرنے سے انکار اور زیادہ کام کی اہمیت کے متعلق شکوک و شہبات رکھنے والوں کے لیے ایک ایسا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جس کا تقریباً کوئی ترجمہ نہیں۔۔۔ اور وہ لفظ ہے ’ایلیاک‘۔
بلغاریہ کے دوسرے بڑے شہر پلوڈیو میں مختلف کاموں کو اپنے طریقے سے کرنے پر فخر محسوس کیا جاتا ہے۔ جیسے ہی آپ دارالحکومت صوفیہ سے آنے والی بس سے اترتے ہیں، آپ کو یہاں زندگی کی رفتار میں تبدیلی محسوس ہو گی۔
لوگ زیادہ آہستہ چل رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کے پاس زیادہ وقت ہے۔ ٹریفک کا بھی اتنا رش نہیں۔
جب آپ شہر کے وسط میں پہنچنے کے لیے پارک سے گزرتے ہیں، جہاں بوڑھے شطرنج کھیلنے کے لیے جمع ہوتے ہیں اور لوگ پرانے درختوں کے سایے میں پیٹھے گپیں ہانک رہے ہوتے ہیں، یہاں پلوڈیو بالکل ہی مختلف نظر آتا ہے۔
پلوڈیو میں ایک طرح کا بے فکری کا احساس سمایا ہے، جو کہ فوری طور پر ظاہر ہوتا ہے لیکن آپ ہاتھ لگا کر اس کی نشاندہی نہیں کر سکتے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کاپنا ضلع کے اندرون میں گلیوں میں بنے کیفے اور شراب خانوں سے لوگ باہر نکلتے نظر آتے ہیں۔ روشن پینٹ دیواروں سے لگے بیٹھے نوجوانوں کے گروپ ایک دوسرے سے ملتے ملاتے، فلرٹ کرتے اور اپنے فون چیک کر رہے ہیں۔
اس ضلع کے مرکز میں واقع جھومایا مسجد سے ملحق کیفے میں لوگ گھنٹوں بیٹھ کر ترک کافی کی چسکیاں لے رہے ہیں۔
یہاں تک کہ پرانے شہر کی گلیوں میں بلیاں بھی باقی کسی اور جگہ سے زیادہ سست نظر آتی ہیں۔ ایک آدھ مرتبہ وہ اٹھ کر آپ کو کھینچیں گی، ہلکی سے کوئی آواز نکالیں گی اور پھر دوبارہ سو جائیں گی۔
اگر آپ یہاں کے لوگوں سے پوچھیں کہ شہر اتنا آرام طلب کیوں ہے تو وہ آپ کو بتائیں گے: پلوڈیو،’ایلیاک‘ ہے۔
لفظ ’ایلیاک‘ پلوڈیو کے باہر زیادہ استعمال نہیں ہوتا، حالانکہ یہ 19ویں صدی کے آخر میں بلغاری لغات میں نظر آتا ہے۔ یہ لفظ ترکی زبان کے لفظ ’الاکلک‘ سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے ’کاہلی یا آرام طلبی یا آوارہ گردی‘، اور یہ ترک لفظ ’ایلک کے معنی بھی لیا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے ’مہینہ‘۔
صوفیہ لٹریچر اینڈ ٹرانسلیشن ہاؤس کے ڈائریکٹر یانا جونوفا کے مطابق، ’ایلیاک‘ کے اصل معنی کسی کو ہر مہینے بار بار کام پر رکھنا تھا، جس کے نتیجے میں وہ شخص جانتا تھا کہ ان کے پاس کتنا وقت ہے۔
ایلیاک کے ساتھ استعمال ہونے والا فعل ’بیچم‘ ہے، جو ’بیچا‘ سے نکلا ہے اور جس کا مطلب ہے وار کرنا، کوڑا مارنا، یا کسی درخت کے تنے سے بیم اور تختیاں کاٹنا۔
وار کرنے، کوڑے مارنے یا کاٹنے کا خیال ایک یاد دہانی ہے کہ کچھ سرگرمی ہو رہی ہے۔ اگر آپ ایلیاک رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے لیے بہت سارا وقت نکالنا پڑے گا۔ اپنی روز مرہ کی پریشانیوں سے خود کو الگ کرنے کے لیے آپ کو خود ہی پہل کرنا ہو گی۔
لیکن لفظ کی ابتدا جو بھی ہو، آج کے پلوڈیو میں، ایلیاک نے اپنی معنویت اور اہمیت کو اپنا لیا ہے، جس کا ترجمعہ نہیں کیا جا سکتا لیکن زندگی گزار کر دکھایا جا سکتا ہے۔
جب آپ لوگوں سے اس کے معنی بیان کرنے کو کہتے ہیں تو زیادہ تر وہ آپ کو ایک لطیفہ سناتے ہیں۔ لطیفہ کچھ اس طرح ہے کہ پلوڈیو کا ایک شہری ایک ہسپانوی سیاح کے ساتھ شہر جا رہا ہے۔ ہسپانوی پوچھتا ہے کہ ایلیاک کیا ہے؟
بلغارین کچھ لمحوں کے لیے سوچتا ہے اور پھر کہتا ہے ’یہ آپ کے منیانا، منیانا یعنی صبح کی طرح ہے، لیکن اس میں کچھ پریشان کن شامل نہیں۔‘
سنہ 2019 میں پلوڈیو نے اٹلی کے شہر میٹرا کے ساتھ یورپی دارالحکومت ثقافت کا خطاب جیتا تھا۔
بلغاریہ کے اداکار، ڈائریکٹر اور آرٹسٹ پلامین ردیف جورجیف کی سربراہی میں فائر تھیٹر مائم کمپنی نامی تنظیم نے شہر میں ثقافتی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے لیے عوامی مشاورت کے لیے کئی ملاقاتیں کیں۔
وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ ایلیاک کیا ہے، یہ کہاں سے نکلا ہے اور پلوڈیو کے ساتھ اس کا اتنا قریبی تعلق کیسے بن گیا۔
میں صوفیہ کے ایک کیفے میں جارجیوف سے ملا۔ وہ شمال مشرق میں تقریباً 80 کلومیٹر دور سٹارا زگورہ میں پیدا ہوئے تھے اور جب وہ 2018 میں پلوڈیو پہنچے تو ایلیاک ثقافت سے جڑی پیچیدگیوں سے نابلد تھے۔
وہ کہتے ہیں ’ہماری تحقیق مشکل تھی۔ لوگوں نے پوچھا کہ ہم ایلیاک میں کیوں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس لفظ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہ صرف کاہلی ہے۔‘
لیکن عوامی مباحثوں کے بعد ایک وسیع تر تصویر ابھری۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ ایلیاک وقت کی تلاش سے متعلق ہے۔ یہ دوستوں کے ساتھ ناشتہ کرنے کے لیے بیٹھنے اور یہ معلوم کرنے کے بارے میں ہے کہ آپ رات کو باہر گھومنے جا رہے ہیں یا نہیں۔ یہ آپ کے موجود ماحول میں خوشی کو اپنانے کے متعلق تھا۔
اور اس کو معاشرتی حیثیت کے ساتھ جوڑ دیا گیا اور اسے ایسے معنی پہنا دیے گئے کہ جس میں ایک قسم کا کچھ نہ کرنے والا کاہل شخص سڑکوں پر گھوم رہا تھا۔ لیکن جارجیوف نے اس کو ’زین ایلیاک‘ کہا - یہ روح کی ساتھ کچھ کرنے کی آزادی ہے۔ انھوں نے کہا ’ایلیاک کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن آپ زندگی کے تمام مسائل سے محفوظ بھی رہتے ہیں۔`
صوفیہ میں ، بہت سارے لوگ جن کے ساتھ میں نے بات کی تھی وہ ایلیاک کے بارے میں شکوک و شبہات رکھتے تھے، اور اسے کیپٹل آف کلچر برانڈنگ یا ہپسٹر مارکیٹنگ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ میں بھی غیر متفق تھا۔ چنانچہ میں نے صوفیہ سے پلوڈیو جانے والی بس کو پکڑا، کئی دن شہر میں گزارے اور اپنی ہی کاہلی دور کی۔
پلوڈیو میں، میں نے ڈاکٹر سویٹوسولاوا مانچیوا سے بات کی جو ماہر بشریات اور اور ایک ایسی ایسوسی ایشن کی ڈائریکٹر ہیں، جو معاشروں اور شہری مقامات کو مربوط کرنے کے لیے وقف ہے۔
ڈاکٹر مانچیوا ملک کے جنوب مغرب میں کاردزالی کی رہنے والی ہیں اور خود ہی ایلیاک بن گئی ہیں۔ وہ 10 سال سے پلوڈیو میں رہ رہی ہے اور ان کا یہاں سے جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
ان کا کہنا ہے ’بہت سے لوگ اس لیے یہاں رہنے کے لیے آتے ہیں کیونکہ یہ ایلیاک ہے۔‘ ان کی ساتھی الیٹا کاپوشیفا نے مجھے بتایا کہ انھوں نے پلوڈیو میں پرورش پائی لیکن حال ہی میں وہ برلن سے واپس آئی ہیں۔ انھیں شہر میں واپس آکر خوشی ہوئی، ان کا کہنا تھا: برلن اچھی جگہ تھی، لیکن وہ ایلیاک شہر نہیں تھا۔
مانچیوا کے لیے ایلیاک ثقافتی تنوع کی پلوڈیو کی طویل تاریخ سے جڑا ہوا ہے۔ مؤرخ مریم سی نیوبرگر نے بتایا ہے کہ کس طرح یہ شہر 19 ویں صدی میں ایک ترقی پزیر تجارتی مرکز تھا۔ سلطنت عثمانیہ کے تمام شہروں میں یہ استنبول کے بعد دوسرے نمبر پر تھا اور یہودیوں، یونانیوں، بلغاریائیوں، رومن، آرمینیائیوں اور سلاوؤں کا گھر تھا جو سب گلیوں، کیفینز یا کافی ہاؤسز میں اکٹھا ہوتے تھے۔
مانچھیوا کا کہنا ہے کہ ایلیک غیروں کے ساتھ رہتے ہوئے پیش آنے والے چیلنجوں کا جواب تھا۔ انھوں نے کہا ، ’یہ شہر میں خود کی جگہ تلاش کرنے کے بارے میں ہے۔ میرے نزدیک، ایلیک کی بنیاد ایک دوسرے سے بات چیت یا رابطے میں ہے۔ آپ کو ایک دوسرے کو پسند کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ زیادہ اہم، بات کرنے کی مرضی اور سمجھنے کی خواہش ہے۔
انیسویں صدی میں پلوڈیو کے کافی ہاؤسز کے تاریخی واقعات انھیں ایسی جگہوں کے طور پر بیان کرتے ہیں جہاں کاریگر اور سوداگر ملتے ہیں اور جہاں وقت آہستہ آہستہ گزرتا تھا۔ 1
19 ویں صدی کے بلغاری شاعر ہریستو ڈینوف نے ناگوار انداز میں لکھا کہ کیسے لوگوں نے سارا دن کافینوں میں گزارا۔ انھوں نے لکھا، لوگ کیفین پر جاتے ہیں، تمباکو نوشی کرتے ہیں، کافی پیتے ہو،ے بات چیت کرتے سورج غروب ہونے کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں تاکہ وہ شراب پینا شروع کر سکیں۔
باہر کے لوگوں نے بھی پلوڈیو کی انفرادیت میں سکون محسوس کیا۔ اپنے 1906 کے ٹریول اکاؤنٹ میں، برطانوی مسافر جان فوسٹر فریزر بھی پلوڈیو (جسے اس وقت فلپپولس کہا جاتا تھا) میں زندگی کی رفتار سے متاثر ہوئے۔
’اپنے ذہن میں منظر کشی کریں کہ بہت سے لیمپوں سے روشن ایک باغ ہے۔ درختوں کے نیچے لاتعداد میزیں ہیں۔ میزوں پر 'تمام فلپولیس بیٹھے' ، کافی کی چسکیں لے رہے ہیں، بیئر پی رہے ہیں، شراب کے ٹوسٹ شئیر کر رہے ہیں۔ باغ کے ایک سرے پر ایک چھوٹا سا سٹیج ہے جہاں ہنگری کا ایک بینڈ میوزک بجا رہا ہے۔۔ یہ اتوار کی رات تھی اور فلپپولیس میں ہر شخص زندگی کے مزے لے رہا تھا۔‘
جب میں نے مانیکا اور کاپوشیوا سے آییاک کے بارے میں بات کی، لیکن ان کا ذہن بار بار ایک خیال پر اٹک جاتا۔ ایلیاک وقت کرنے کے بارے میں ہے۔ یہ ایک مصروف دن میں کافی پینے کے لیے وقت نکالنے کے بارے میں ہے۔
یہ شہر میں بنے چھوٹے پارکوں میں بنچ اور راہدریوں میں ایسی جگہ تلاش کرنے کے بارے میں ہے جہاں آپ دوستوں کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں، موسیقی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں، بیئر پی سکتے ہیں یا بات چیت کرسکتے ہیں۔
جب بات چیت کے دوران دوسروں کے لیے جگہ بنانے کے بارے میں ہے۔ اور جارجیوف نے مجھے بتایا، یہ زندگی کی مشکلات کے بیچ میں آزادی تلاش کرنے کے بارے میں ہے۔
مانچیکا اور کاپوشیفا جیسے لوگوں کے لیے اس سے بہتر زندگی گزارنے کا اور کوئی طریقہ نہیں ہے۔
پلوڈیو میں کئی دن رہنے کے بعد میرے شکوک و شبہات ختم ہو گئے اور میں نے ’بیچم ایلیاک‘ کا طریقہ سیکھ لیا۔ میں سکون سے سڑکوں پر گھومتا رہا۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ مجھے معلوم ہوا کہ میں نے کم کام نہیں کیا، صرف ہر چیز کم ذہنی تناؤ کے ساتھ کی گئی تھی۔
اپنے قیام کے اختتام کے وقت میں نے سوچا کہ کیا باقی دنیا پلوڈیو سے کچھ سیکھ سکتی ہے؟
میں نے بلغاریہ کے مصنف فلپ جیوروف کو ای میل کیا، جنھوں نے لنڈ یونیورسٹی میں ایم ایس سی تھیسس کے ایک حصے کے طور پر ایلیاک پر فلسفہ زندگی اور معاشی نمو کے متبادل کے طور پر تحقیق کی۔
جیوروف نے مجھے لکھا ’یہ سب بڑے شہر کی ہلچل کے بارے میں نہیں ہے، نہ ہی یہ جدید ترین ٹیکنالوجی سے بنی کوئی چیز خریدنے کی ضرورت سے متعلق ہے ، اور نا ہی معاشرے میں اونچا مقام پانے سے متعلق ہے۔‘
’لوگوں کو، خاص طور پر نوجوانوں کو زیادہ کام کرنے کے بعد (برن آؤٹ) جسمانی اور ذہنی توانائی ختم ہونے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لہذا، فطرت اور اپنے آپ کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ بہتر طریقے سے زندگی بسر کرنے کے لیے اپنی رفتار کو آہستہ کرنے کی ضرورت ہے۔‘
پلوڈیو میں اپنی آخری سہ پہر، میں، زومایا مسجد کے باہر کیفے میں بیٹھا رہا۔ میں نے ترکی کی کافی اور کییفے کا ایک حصہ منگوایا، ایک ایسی مٹھائئ جو مشرق وسطیٰ میس بننا شروع ہوئی تھی لیکن اب یہ بکلاوا اور پنیرکا ملاپ ہے۔ کافی کے ساتھ میٹھے گلاب کے شربت کا ایک چھوٹا سا گلاس تھا جس نے اس کی کڑواہٹ کو دور کردیا۔
مسجد کے ساتھ ہی گلاب کی جھاڑیوں کے نیچے، ایک بلی سکون سے نیند پوری کر رہی تھی۔ میرے پاس گھڑی نہیں تھی۔ میں نے اپنا فون چیک کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔ مجھے کہیں کسی سے ملنے نہیں جانا تھا۔ میں نے اپنی کافی پیتے اور یہ سوچتے ہوئے دوپہر ہونے کا انتظار کیا جیسے میرے پاس دنیا میں سب سے زیادہ فراغت ہے۔