صوفیہ دلیپ سنگھ: جلاوطن کی گئی سکھ شہزادی جنھوں نے ’نو ووٹ، نو ٹیکس‘ کا نعرہ لگایا

بچوں کی کتاب میں انڈین شہزادی اور خواتین کی حق رائے دہی کا مطالبہ کرنے والی خاتون کی ’غیر معمولی‘ کہانی کو امر کر دیا گیا ہے۔

صوفیہ دلیپ سنگھ پنجاب کے آخری سکھ حکمران مہاراجہ دلیپ سنگھ کی بیٹی تھیں اور وہ نورفولک۔سفولک سرحد پر واقع ایلویڈن شہر میں پلی بڑھی تھیں۔

نوجوان شہزادی نے سنہ 1900 کی دہائی کے اوائل میں خواتین کے حقوق کی تحریک کے لیے اپنی شاہی حیثیت کو خطرے میں ڈال کر تاریخ رقم کی۔

مصنفہ صوفیہ احمد کا کہنا ہے کہ ’ہم سب اس شرمیلی لیکن انتہائی پُرعزم نوجوان خاتون سے ایک واسطہ جوڑ سکتے ہیں۔‘

انھوں نے بچوں کے لیے کتاب ’مائی سٹوری: پرنسز صوفیہ دلیپ سنگھ‘ لکھی جو نو سے 13 سال کی عمر کے بچوں کی دلچسپی کا باعث بنی۔ اس کتاب کی تقریب رونمائی نورفلک میں تھیٹ فورڈ کے قدیم ہاؤس میوزیم میں منعقد کی گئی۔ اس میوزیم کی بنیاد صوفیہ کے بھائی فریڈرک دلیپ سنگھ نے سنہ 1921 میں رکھی تھی۔

مہاراجہ دلیپ سنگھ کو سنہ 1840 کی دہائی میں ہندوستان میں انگریزوں کے قبضے کے بعد انگلستان جلاوطن کر دیا گیا تھا۔

ہندوستان واپسی کی ناکام کوششوں کے باوجود، انھوں نے اپنا مالی معاوضہ ایلویڈن ہال کی خریداری کی صورت حاصل کیا، جہاں ان کی بیوی اور بچے پھر آباد ہوئے۔

یہ خاندان ملکہ وکٹوریہ کے قریبی دوستوں میں سے تھا، جنھوں نے بعد میں انھیں ہیمپٹن کورٹ پیلس میں ایک اپارٹمنٹ فراہم کیا۔

صوفیہ احمد کے مطابق شہزادی نے اپنی زندگی کے ابتدائی برس ایک روایتی انگریز خاتون کی طرح گزارے مگر بعد میں انھوں نے اپنی زندگی کا ایک مشن بنا لیا۔

وہ خواتین کے حقوق کے لیے ایک پُرعزم کارکن بن گئیں۔ اور وہ خواتین کے حقوق سے متعلق دو سرگرم تنظیموں ’ویمنز سوشل اینڈ پولیٹیکل یونین‘ اور ’ویمنز ٹیکس ریزسٹنس لیگ‘ کی رکن بن گئیں۔ ان تنظیموں کا نعرہ تھا: ’نو ووٹ، نو ٹیکس‘۔

سنہ 1910 میں شہزادی صوفیہ نے پارلیمنٹ کے سامنے 400 افراد پر مشتمل ایک بہت منظم مظاہرے کی قیادت کی، جس میں خواتین کی حق رائے دہی کی تنظیم ’سفراگیٹ‘ کی ایملین پنکہرسٹ نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا، جو ’بلیک فرائیڈے‘ کے نام سے مشہور ہوا۔

وہ اکثر ہیمپٹن کورٹ پیلس میں اپنے گھر کے باہر ’دی سفراگیٹ‘ اخبار بیچتے ہوئے نظر آتی تھیں۔

بہترین اخلاقیات‘

صوفیہ احمد نے مزید کہا: ’میں ان کے بارے میں کبھی نہیں جانتی تھی اور میں یہ جان کر حیرت میں ڈوب گئی کہ یہ حق رائے دہی کی تحریک چلانے والی خاتون میری طرح دکھائی دیتی تھیں۔

’وہ لوگ جن کے بارے میں ہم سکول میں سیکھتے ہیں، ہم انھیں زندگی بھر یاد رکھتے ہیں۔ میرے لیے وہ ’فلورنس نائٹنگیل‘ تھیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

مجھے امید ہے کہ ان کی کہانی بچوں کو مسحور کرے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ صوفیہ دلیپ سنگھ نے ایک انڈین خاتون کی مانند خواتین کے حقوق کے لیے جہدوجہد کی مگر انھوں نے برطانیہ کو اپنا گھر بنایا۔

’وہ شرمیلی لیکن فیشن ایبل تھیں، بہت ہی مضبوط ارادے والی اور پسند کی جانے والی تھیں۔ وہ محفل میں بہت اونچی آواز میں بولنے والی نہیں تھیں۔‘

شہزادی صوفیا 22 اگست سنہ 1948 کو 71 برس کی عمر میں وفات پا گئی تھیں۔

میلیسا ہاکر جو کہ نورفولک میوزیم سروس کی لرننگ آفیسر ہیں نے کہا کہ شہزادی کی شاہی حیثیت ان کے لیے ایک ساتھ حفاظت اور ان کے کام میں رکاوٹ کا باعث تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ بچوں کو یہ سب پسند ہے کہ کیسے انھوں نے پُرجوش ہو کر وہ سب کیا جو درست سمجھا، وہ ان کے بہترین اخلاقیات کو سراہتے ہیں۔ لیکن ان کی پوزیشن دو دھاری تلوار کی مانند تھی۔

یہ پنجاب کی شہزادی تھی ملکہ وکٹوریہ کی ’روحانی بیٹی‘ یعنی ان کی تربیت مسیحیت کی تعلیمات کے عین مطابق کی گئی اور وہ برابری اور انصاف کے لیے لڑنے والی جنگجو تھیں۔

’وہ غیر معمولی شخصیت تھیں۔‘